حدیث نمبر: 4688
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْكَرِيمُ ابْنُ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ، يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ .
مولانا داود راز

´ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کریم بن کریم بن کریم بن کریم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم تھے ۔( علیہم الصلٰوۃ والسلام ) ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4688
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3390

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
4688. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’کریم بن کریم بن کریم بن کریم، حضرت یوسف بن حضرت یعقوب بن حضرت اسحاق بن حضرت ابراہیم ؑ ہیں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:4688]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث کی آیت کریمہ سے مناسبت اس طرح ہے کہ یہ چار افراد حضرت یوسف ؑ اور ان کے باپ دادا صاحبان نبوت تھے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نعمت کا اتمام ہوا تھا بہر حال سیدنا یوسف ؑ سب سے مکرم ہیں جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے۔
لوگوں نے عرض کی: اللہ کے رسول اللہ ﷺ! سب سے مکرم کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’جو سب سے زیادہ متقی ہے۔
‘‘ ا نھوں نے کہا: ہم یہ نہیں پوچھتے پھر آپ نے فرمایا: ’’یوسف ؑ اللہ کے نبی اللہ کے نبی کے بیٹے اللہ کے نبی کے پوتے اللہ کے نبی کے پڑپوتے سب سے زیادہ مکرم ہیں۔
(صحیح البخاري، حدیث الأنبیاء، حدیث: 3353)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4688 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3390 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3390. حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’شریف بن شریف بن شریف بن شریف حضرت یوسف ؑ بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ؑ ہیں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3390]
حدیث حاشیہ: ان جملہ روایات میں کسی نہ کسی سلسلے سے یوسف ؑ کا ذکر خیر آیا ہے۔
اسی لئے ان کو اس باب کے ذیل میں بیان کیا گیا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3390 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3390 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3390. حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’شریف بن شریف بن شریف بن شریف حضرت یوسف ؑ بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ؑ ہیں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3390]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث میں حضرت یوسف ؑ کی خاندانی شرافت کا ذکر ہے۔
کہ وہ شریف باپ کے بیٹے شریف دادا کے پوتے اور شریف پر دادا کے پوتے تھے۔
اس کی وضاحت ہم پہلے بھی کرآئے ہیں۔

بہر حال ان جملہ آیات اور روایات میں کسی نہ کسی حوالے سے حضرت یوسف ؑ کا ذکر خیر آیا ہے اس لیے امام بخاری ؒ نے ان احادیث کو مذکورہ عنوان کے تحت بیان کیا ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3390 سے ماخوذ ہے۔