صحيح البخاري
كتاب تفسير القرآن— کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
بَابُ: {وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لاَ تَكُونَ فِتْنَةٌ} : باب: آیت کی تفسیر ”اور ان سے لڑو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہ جائے“۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا بَيَانٌ ، أَنَّ وَبَرَةَ حَدَّثَهُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا أَوْ إِلَيْنَا ابْنُ عُمَرَ ، فَقَالَ رَجُلٌ : كَيْفَ تَرَى فِي قِتَالِ الْفِتْنَةِ ؟ فَقَالَ : " وَهَلْ تَدْرِي مَا الْفِتْنَةُ ؟ كَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَاتِلُ الْمُشْرِكِينَ ، وَكَانَ الدُّخُولُ عَلَيْهِمْ فِتْنَةً ، وَلَيْسَ كَقِتَالِكُمْ عَلَى الْمُلْكِ " .´ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے بیان نے بیان کیا ، ان سے وبرہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے سعید بن جبیر نے بیان کیا ، کہا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس تشریف لائے ، تو ایک صاحب نے ان سے پوچھا کہ` ( مسلمانوں کے باہمی ) فتنہ اور جنگ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے پوچھا تمہیں معلوم بھی ہے ” فتنہ “ کیا چیز ہے ۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین سے جنگ کرتے تھے اور ان میں ٹھہر جانا ہی فتنہ تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگ تمہاری ملک و سلطنت کی خاطر جنگ کی طرح نہیں تھی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کا مطلب یہ تھا کہ تمھاری موجود ہ جنگ خانگی اور حصول اقتدار کے لیے ہے اور رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں ہماری جنگ خالص دین کی سر بلندی کے لیے تھی تاکہ کافروں کا غرور خاک میں مل جائے۔
اور مسلمان ان کی تکلیفوں سے محفوظ رہیں لیکن تم لوگ تو دنیا کی سلطنت اور حکومت حاصل کرنے کے لیے لڑ رہے ہو اور بطور دلیل قرآنی آیات کو بے محل پیش کرتے ہو۔
2۔
بلا شبہ قرآن مجید کی آیات کو بے محل استعمال کرنے والوں نے اسی طرح امت میں فتنے اور فساد پیدا کیے اور ملت کے شیرازے کو منتشر کردیا جیسا کہ حضرت ابن عمر ؓ نے خوارج کے متعلق فرمایا کہ یہ لوگ مخلوق میں انتہائی بدتر ہیں کیونکہ جو آیات کفار و مشرکین کے متعلق نازل ہوئی تھیں وہ انھیں مسلمانوں پر چسپاں کرتے ہیں۔
(صحیح البخاري، استابة المرتدین، باب: 65)
آنحضرت ﷺ کے گھر سے ان کا گھر ملا ہوا ہے اور قرابت قریب یہ کہ وہ آنحضرت ﷺ کے چچا زاد بھائی اور آپ کے داماد بھی تھے۔
ایسے صاحب فضیلت کی نسبت بد اعتقادی کرنا کم بختی کی نشانی ہے۔
شاید یہ شخص خوارج میں سے ہوگا جو حضرت علی ؓ اور حضرت عثمان ؓ دونوں کی تکفیر کرتے ہیں۔
(وحیدی)
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کا مطلب یہ تھا کہ موجودہ جنگ خانگی ہے۔
رسول کریم ﷺ کے زمانے میں کافروں سے ہماری جنگ دنیا کی حکومت یا سرداری کے لیے نہیں بلکہ خالص دین کے لیے تھی تاکہ کافروں کا غرور ٹوٹ جائے اور مسلمان ان کی ایذاء سے محفوظ رہیں تم تو دنیا کی سلطنت اور حکومت اور خلافت حاصل کرنے کے لیے لڑ رہے ہو اور دلیل اس آیت سے لیتے ہو جس کا مطلب دوسرا ہے۔
قرآن مجید کی آیات کو بے محل استعمال کرنے والوں نے اسی طرح امت میں فتنے اورفساد پیدا کئے اور ملت کے شیرازے کو منتشر کر دیا ہے۔
آج کل بھی بہت سے نام نہاد عالم بے محل آیات واحادیث کواستعمال کرنے والے بکثرت موجود ہیں جو ہر وقت مسلمانوں کو لڑاتے رہتے ہیں۔
ھداھم اللہ إلیٰ صراط مستقیم۔
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کے اس طرز عمل میں بہت سے اسباق پوشیدہ ہیں، کاش! ہم غور کر سکیں۔
1۔
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کے پاس جو آدمی آیا تھا اس کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان آپس میں جنگ وقتال میں ہیں اور آپ کسی جنگ میں حصہ نہیں لیتے بلکہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں جبکہ آپ کو ایک فیصلہ کن کردار ادا کرنا چاہیے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کا موقف یہ تھا کہ جو امور نظم ملک سے متعلق ہیں ان میں جنگ وقتال درست نہیں بلکہ ایسے حالات میں علیحدگی اختیار کرنے میں عافیت ہے۔
2۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ آدمی خارجی تھا کیونکہ خوارج کو حضرت عثمان ؓ اور حضرت علی ؓ سے عداوت تھی۔
حضرت ابن عمر ؓ نے دونوں حضرات کی خوبیاں ذکر کر کے اس شخص کا رد کیا اور بتایا کہ حضرت عثمان ؓ کے جنگ اُحد سے فرار کو اللہ تعالیٰ نے معاف کردیا۔
لیکن تم لوگ انھیں معاف نہیں کرتے ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
"یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں معاف کردیا ہے۔
" (آل عمران: 155/3)
حضرت علی ؓ کی رسول اللہ ﷺ سے نسبی قرابت اور قرابت محل (رہائش)
دونوں کو بیان فرمایا یعنی وہ ہر اعتبار سے رسول اللہ ﷺ کے قریبی ہیں لیکن تمھیں یہ قرب گوارا نہیں ہے۔
دونوں طرف والوں سے الگ رہ کر خاموش گھر میں بیٹھنا چاہئے۔
اسی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے شریک رہے نہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے۔
اس شخص نے گویا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو جواب دیا کہ اللہ تو فتنہ رفع کرنے کا حکم دیتا ہے اور تم فتنے میں لڑنا منع کرتے ہو۔
آیت (وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ) (البقرة: 193)
میں فتنہ سے مراد شرک ہے۔
یعنی مشرکوں سے لڑو تاکہ دنیا میں توحید پھیلے۔
اسلامی لڑائی صرف توحید پھیلانے کے لئے ہوتی ہے۔
فتنے سے متعلق لفظ مشرق والی حدیث کی مزید تشریح پارہ 30 کے خاتمہ پر ملاحظہ کی جائے۔
(راز)
1۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رائے یہ تھی کہ فتنے کے زمانے میں مسلمانوں کا آپس میں جنگ کرنا جائز نہیں۔
آیت کریمہ میں "فتنہ" سے مراد کفر ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگ کفر ختم کرنے کے لیے تھی اور اب اسلام کاغلبہ ہے، کفر مغلوب ہو چکا ہے لیکن تمہاری جنگ کفر کے خاتمے کے لیے نہیں بلکہ ملک گیری اور لوگوں میں فساد برپا کرنے کے لیے ہے۔
میرے نزدیک ایسی جنگ جائز نہیں، اس لیے اس میں اتنا حصہ نہیں لیتا۔
2۔
جمہور اہل علم کا موقف ہے کہ جب ایک گروہ کے متعلق پتا چل جائے گا کہ وہ باغی ہے تو ایسے حالات میں اسے اطاعت کی طرف لانے کے لیے جنگ کرنا فتنہ نہیں جیسا کہ قرآن کریم میں ہے: ’’اور اگراہل ایمان کے دوگروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرادو،پھر اگر ان میں کوئی فریق دوسرے پر زیادتی کرتا ہے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔
‘‘ (الحجرات 9)
ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس دو آدمی آئے اور کہنے لگے کہ لوگوں کا قتل ہو رہا ہے اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی جلیل ہیں، آپ اس کے لیے کوئی اقدام کیوں نہیں کرتے جبکہ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے: ’’تم ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ نہ رہے۔
‘‘ (البقرہ 193)
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: ہم نے لڑائی کر کے فتنہ ختم کر دیا تھا اورہمارے دور میں اللہ تعالیٰ کا دین غالب ہو چکا تھا، لیکن تمہاری لڑائی کا مقصد یہ ہے کہ فتنہ مزید بھڑکے اور دین بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے لیے ہو جائے۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4513)