صحيح البخاري
كتاب تفسير القرآن— کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
بَابُ: {وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ} : باب: آیت کی تفسیر ”جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم سے خلط ملط نہیں کیا“ یہاں ظلم سے شرک مراد ہے۔
حدیث نمبر: 4629
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " لَمَّا نَزَلَتْ وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ سورة الأنعام آية 82 ، قَالَ أَصْحَابُهُ : وَأَيُّنَا لَمْ يَظْلِمْ ، فَنَزَلَتْ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ سورة لقمان آية 13 " .مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن عدی نے بیان کیا ، ان سے شعبی نے ، ان سے سلیمان نے ، ان سے ابراہیم نے ، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` جب آیت «ولم يلبسوا إيمانهم بظلم» نازل ہوئی صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا ، ہم میں کون ہو گا جس کا دامن ظلم سے پاک ہو ۔ اس یہ آیت اتری «إن الشرك لظلم عظيم» ” بیشک شرک ظلم عظیم ہے ۔ “
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
4629. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: "اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم سے آلودہ نہ کیا۔" رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام نے کہا: ہم میں سے کون ایسا ہے جس نے کبھی ظلم نہ کیا ہو؟ تو یہ آیت نازل ہوئی: "بلاشبہ شرک کرنا ظلم عظیم ہے۔"[صحيح بخاري، حديث نمبر:4629]
حدیث حاشیہ: صحابہ کرام ؓ نے پہلے لفظ ظلم کو عام معانی میں سمجھا جس پر اللہ نے بتلایا کہ یہاں ظلم سے شرک مراد ہے۔
اگر شرک ذرہ برابر بھی ایمان کے ساتھ خلط ملط ہوا تو وہ سارا ہی ایمان غارت ہو جاتا ہے۔
اگر شرک ذرہ برابر بھی ایمان کے ساتھ خلط ملط ہوا تو وہ سارا ہی ایمان غارت ہو جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4629 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
4629. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: "اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم سے آلودہ نہ کیا۔" رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام نے کہا: ہم میں سے کون ایسا ہے جس نے کبھی ظلم نہ کیا ہو؟ تو یہ آیت نازل ہوئی: "بلاشبہ شرک کرنا ظلم عظیم ہے۔"[صحيح بخاري، حديث نمبر:4629]
حدیث حاشیہ:
1۔
اس مقام پر یہ حدیث مختصر بیان ہوئی ہے جبکہ دوسرے مقام پر امام بخاری ؒ نے اسے تفصیل سے بیان کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین پر بہت گراں گزری اور انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی کہ ہم میں سے کون ایسا ہے جس نے کبھی ظلم نہ کیا ہو؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "ایسا نہیں جیسا تم نے سمجھا ہے بلکہ اس ظلم سے مراد شرک ہے کیا تم نے نہیں سنا۔
" جو حضرت لقمان نے اپنے لخت جگر کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا: ''اے بیٹے! شرک نہ کرنا کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔
" (صحیح البخاري، أحادیث الأنیباء، حدیث: 3429)
2۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی زبان اگرچہ عربی تھی اور قرآن بھی عربہ زبان میں نازل ہوا تھا تاہم بعض دفعہ انھیں آیت کا مفہوم سمجھنے میں مشکل پیش آجاتی تھی۔
واللہ اعلم۔
1۔
اس مقام پر یہ حدیث مختصر بیان ہوئی ہے جبکہ دوسرے مقام پر امام بخاری ؒ نے اسے تفصیل سے بیان کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین پر بہت گراں گزری اور انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی کہ ہم میں سے کون ایسا ہے جس نے کبھی ظلم نہ کیا ہو؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "ایسا نہیں جیسا تم نے سمجھا ہے بلکہ اس ظلم سے مراد شرک ہے کیا تم نے نہیں سنا۔
" جو حضرت لقمان نے اپنے لخت جگر کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا: ''اے بیٹے! شرک نہ کرنا کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔
" (صحیح البخاري، أحادیث الأنیباء، حدیث: 3429)
2۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی زبان اگرچہ عربی تھی اور قرآن بھی عربہ زبان میں نازل ہوا تھا تاہم بعض دفعہ انھیں آیت کا مفہوم سمجھنے میں مشکل پیش آجاتی تھی۔
واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4629 سے ماخوذ ہے۔