صحيح البخاري
كتاب تفسير القرآن— کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
بَابُ قَوْلِهِ: {إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنْصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ} : باب: آیت کی تفسیر ”شراب اور جوا اور بت اور پانسے یہ سب گندی چیزیں ہیں بلکہ یہ شیطانی کام ہیں“۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، قَالَ : قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " مَا كَانَ لَنَا خَمْرٌ غَيْرُ فَضِيخِكُمْ ، هَذَا الَّذِي تُسَمُّونَهُ الْفَضِيخَ ، فَإِنِّي لَقَائِمٌ أَسْقِي أَبَا طَلْحَةَ ، وَفُلَانًا ، وَفُلَانًا ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : وَهَلْ بَلَغَكُمُ الْخَبَرُ ؟ فَقَالُوا : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : حُرِّمَتِ الْخَمْرُ ، قَالُوا : أَهْرِقْ هَذِهِ الْقِلَالَ يَا أَنَسُ ، قَالَ : فَمَا سَأَلُوا عَنْهَا وَلَا رَاجَعُوهَا بَعْدَ خَبَرِ الرَّجُلِ " .´ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن علیہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا` ہم لوگ تمہاری «فضيخ» ( کھجور سے بنائی ہوئی شراب ) کے سوا اور کوئی شراب استعمال نہیں کرتے تھے ، یہی جس کا نام تم نے «فضيخ» رکھ رکھا ہے ۔ میں کھڑا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو پلا رہا تھا اور فلاں اور فلاں کو ، کہ ایک صاحب آئے اور کہا : تمہیں کچھ خبر بھی ہے ؟ لوگوں نے پوچھا کیا بات ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ شراب حرام قرار دی جا چکی ہے ۔ فوراً ہی ان لوگوں نے کہا : انس رضی اللہ عنہ اب ان شراب کے مٹکوں کو بہا دو ۔ انہوں نے بیان کیا کہ ان کی اطلاع کے بعد ان لوگوں نے اس میں سے ایک قطرہ بھی نہ مانگا اور نہ پھر اس کا استعمال کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
یہی حکومت الٰہی ہے جس کا اثر دلوں پر ہوتا ہے۔
1۔
اس حدیث سے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی وفاداری اور اطاعت شعاری کا پتہ چلتا ہے کہ حکم الٰہی سنتے ہی تائب ہو گئے شراب نوشی جن کی گھٹی میں رچی بسی تھی یہ حکم امتناعی سننے کے بعد ایک قطرہ بھی حلق میں گرانا گوارا نہ کیا۔
2۔
شراب نوشی کی وعید کے متعلق متعدد احادیث مروی ہیں۔
چند ایک حسب ذیل ہیں۔
۔
''جس شخص نے شراب پی اور وہ اسی پر ہمیشگی کرتے ہوئے توبہ کیے بغیر مر گیا تو وہ اسے آخرت میں نہیں پیے گا۔
" (صحیح مسلم، الأشربة، حدیث: 5218۔
(2003)
۔
"جو شخص نشہ آور چیز پیے گا تو یہ بات اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے کہ وہ اسے طینۃ الخبال پلائے۔
" صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کی: اللہ کے رسول اللہ ﷺ!طینہ الخبال کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: "اہل جہنم کا پسینا یا ان کے زخموں سے سے بہنے والی پیپ۔
" (صحیح مسلم، الأشربة، حدیث: 5217۔
(2002)
۔
"تین قسم کے لوگوں پر جنت حرام ہے: ہمیشہ شراب پینے والا والدین کا نا فرمان اور دیوث جو اپنے اہل خانہ میں خباثت برقرار رکھنے والا ہو۔
" (مسند أحمد: 69/2)
۔
"شراب نوشی کرنے والا اگر اسی حالت میں مر جائے تو وہ اللہ تعالیٰ سے بت کی پوجا کرنے والے کی طرح ملاقات کرے گا۔
" (مسند أحمد: 272/1۔
والصحیحة للألباني، حدیث: 677)
3۔
بہر حال شراب کو بطور دوا بھی استعمال نہیں کیا جا سکتا کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے۔
"یہ دوانہیں بلکہ بیماری ہے۔
" (صحیح مسلم، الأشربة، حدیث: 5141۔
(1984)
اور نہ اسے سرکے میں بدلنے کی اجازت ہے۔
(جامع الترمذي، البیوع، حدیث: 1294)
اگر کوئی قوم شراب نوشی پر اصرار کرے تو ان سے لڑائی کرنے کا حکم ہے۔
(سنن أبي داود، الأشربة، حدیث: 3683)