صحيح البخاري
كتاب تفسير القرآن— کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
بَابُ قَوْلُهُ: {وَمَا لَكُمْ لاَ تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ} إِلَى: {الظَّالِمِ أَهْلُهَا} : باب: آیت کی تفسیر ”اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں جہاد نہیں کرتے اور ان لوگوں کی مدد کے لیے نہیں لڑتے جو کمزور ہیں، مردوں میں سے اور عورتوں اور لڑکوں میں سے“۔
حدیث نمبر: 4587
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كُنْتُ أَنَا وَأُمِّي مِنَ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ " .مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا کہ` میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے کہا کہ میں اور میری والدہ «مستضعفين» ( کمزوروں ) میں سے تھے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4587
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
4587. حضرت عبیداللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس ؓ کو یہ فرماتےہوئے سنا: میں اور میری والدہ کمزور لوگوں میں سے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4587]
حدیث حاشیہ: ان کی والدہ کا نام لبابہ بنت حارث ؓ تھا جو حضرت میمونہ ؓ کی بہن تھیں۔
یہ دونوں دل سے مسلمان ہو گئے تھے مگر مکہ میں کافروں کے ہاتھوں میں پھنسے ہوئے تھے، ہجرت نہیں کر سکتے تھے، ان کے بارے میں آیت نازل ہوئی۔
یہ دونوں دل سے مسلمان ہو گئے تھے مگر مکہ میں کافروں کے ہاتھوں میں پھنسے ہوئے تھے، ہجرت نہیں کر سکتے تھے، ان کے بارے میں آیت نازل ہوئی۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4587 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
4587. حضرت عبیداللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس ؓ کو یہ فرماتےہوئے سنا: میں اور میری والدہ کمزور لوگوں میں سے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4587]
حدیث حاشیہ:
1۔
عنوان میں مذکورہ آیت کریمہ میں مسلمانوں کو کمزور ناتواں مسلمانوں کی مدد کرنے اور ظالموں سے جہاد کرکے انھیں ظلم واستبداد سے بچانے کی ترغیب دی جارہی ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ اور ان کی والدہ بھی ان کمزور مسلمانوں سے تھیں جن کی مدد کرنا مسلمانوں پر ضروری تھا۔
رسول اللہ ﷺ ایسے لوگوں کے حق میں رکوع سے سراٹھانے کے بعد یوں دعا فرماتے تھے: ’’اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور دوسرے ناتواں مسلمانوں کے زمانے میں قحط پڑا تھا۔
‘‘ (صحیح البخاري، الأدب، حدیث: 6200)
پھر جب یہ کمزور ناتواں مسلمان کفار مکہ سے رہائی پاکر مدینہ طیبہ آگئے تو آپ نے کفار کے خلاف بد دعا کرنا چھوڑدی۔
2۔
آخر میں امام بخاری ؒ نے اس صورت میں آئندہ آنے والے چند الفاظ کی لغوی تشریح کی ہے۔
تفصیل کے لیے ان الفاظ کے سیاق وسباق کو مد نظر رکھتے ہوئے کسی بھی تفسیر قرآن کا مطالعہ مفید رہے گا۔
1۔
عنوان میں مذکورہ آیت کریمہ میں مسلمانوں کو کمزور ناتواں مسلمانوں کی مدد کرنے اور ظالموں سے جہاد کرکے انھیں ظلم واستبداد سے بچانے کی ترغیب دی جارہی ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ اور ان کی والدہ بھی ان کمزور مسلمانوں سے تھیں جن کی مدد کرنا مسلمانوں پر ضروری تھا۔
رسول اللہ ﷺ ایسے لوگوں کے حق میں رکوع سے سراٹھانے کے بعد یوں دعا فرماتے تھے: ’’اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور دوسرے ناتواں مسلمانوں کے زمانے میں قحط پڑا تھا۔
‘‘ (صحیح البخاري، الأدب، حدیث: 6200)
پھر جب یہ کمزور ناتواں مسلمان کفار مکہ سے رہائی پاکر مدینہ طیبہ آگئے تو آپ نے کفار کے خلاف بد دعا کرنا چھوڑدی۔
2۔
آخر میں امام بخاری ؒ نے اس صورت میں آئندہ آنے والے چند الفاظ کی لغوی تشریح کی ہے۔
تفصیل کے لیے ان الفاظ کے سیاق وسباق کو مد نظر رکھتے ہوئے کسی بھی تفسیر قرآن کا مطالعہ مفید رہے گا۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4587 سے ماخوذ ہے۔