صحيح البخاري
كتاب تفسير القرآن— کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
بَابُ: {أُولِي الأَمْرِ مِنْكُمْ} ذَوِي الأَمْرِ: باب: آیت «أولي الأمر منكم» کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 4584
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأَمْرِ مِنْكُمْ سورة النساء آية 59 ، قَالَ : " نَزَلَتْ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَدِيٍّ ، إِذْ بَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ " .مولانا داود راز
´ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو حجاج بن محمد نے خبر دی ، انہیں ابن جریج نے ، انہیں یعلیٰ بن مسلم نے ، انہیں سعید بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` آیت «أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم» ” اللہ کی اطاعت کرو اور رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اور اپنے میں سے حاکموں کی ۔ “ عبداللہ بن حذافہ بن قیس بن عدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک مہم پر بطور افسر کے روانہ کیا تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
4584. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ درج ذیل آیت کریمہ ﴿أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ﴾ حضرت عبداللہ بن حذافہ بن قیس بن عدی ؓ کے بارے میں نازل ہوئی تھی جبکہ نبی ﷺ نے انہیں ایک مہم پر بطور افسر روانہ کیا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4584]
حدیث حاشیہ: راستے میں ان کو کسی بات پر غصہ آیا، انہوں نے اپنے لوگوں سے کہا آگ سلگاؤ، جب آگ روشن ہوئی تو کہا اس میں گھس جاؤ۔
بعض نے کہا ان کی اطاعت کرنی چاہیئے، بعضوں نے کہا کہ ان کا یہ حکم شریعت کے خلاف ہے۔
اس کا ما ننا ضروری نہیں۔
آخر یہ آیت ﴿فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ﴾ (النساء: 59)
نازل ہوئی۔
حافظ نے کہا مطلب یہ ہے کہ جب کسی مسئلہ میں اختلاف ہو تو کتاب اللہ وحدیث رسول اللہ ﷺ کی طرف رجوع کرو اور اس سے تقلید شخصی کی جڑ کٹ گئی۔
بعض نے کہا ان کی اطاعت کرنی چاہیئے، بعضوں نے کہا کہ ان کا یہ حکم شریعت کے خلاف ہے۔
اس کا ما ننا ضروری نہیں۔
آخر یہ آیت ﴿فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ﴾ (النساء: 59)
نازل ہوئی۔
حافظ نے کہا مطلب یہ ہے کہ جب کسی مسئلہ میں اختلاف ہو تو کتاب اللہ وحدیث رسول اللہ ﷺ کی طرف رجوع کرو اور اس سے تقلید شخصی کی جڑ کٹ گئی۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4584 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
4584. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ درج ذیل آیت کریمہ ﴿أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ﴾ حضرت عبداللہ بن حذافہ بن قیس بن عدی ؓ کے بارے میں نازل ہوئی تھی جبکہ نبی ﷺ نے انہیں ایک مہم پر بطور افسر روانہ کیا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4584]
حدیث حاشیہ:
1۔
اس واقعے کی تفصیل امام بخاری ؒ نے ایک دوسرے مقام پر بیان کی ہے چنانچہ حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک فوجی دستہ روانہ کیا اور ایک آدمی کو ان کا امیر نامزد کیا۔
اس نے راستے میں آگ کا الاؤ تیار کیا اور حکم دیا کہ تم سب اس میں داخل ہو جاؤ۔
ان سب نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کر لیا البتہ کچھ لوگوں نے کہا ہم ایسی آگ سے بھاگ کر ادھر آئے ہیں۔
واپسی پر انھوں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ نے ان لوگوں سے فرمایا جو آگ میں داخل ہو نے لگے تھے: ’’اگر تم اس میں داخل ہو جاتے تو قیامت تک اسی میں رہتے۔
‘‘ اور دوسروں سے فرمایا: ’’گناہ کے کاموں میں کسی کی بات نہیں مانی جاتی، اطاعت تو بھلے کاموں میں ہوتی ہے۔
‘‘ (صحیح البخاري، أخبار الآحاد، حدیث: 7257)
2۔
بہر حال اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی اختلاف کے وقت قرآن و حدیث کا فیصلہ ہی حرف آخر ہو گا جس کے آگے کسی حاکم یا امام کی بات نہیں چلے گی۔
صرف قرآن و حدیث کو مطلق حاکم مانا جائے گا حافظ ابن حجر ؒ نے بھی یہ مسئلہ وضاحت سے بیان کیا ہے۔
(فتح الباري: 320/8)
3۔
اس آیت کریمہ میں اسلامی حکومت کی چار بنیادوں کو ذکر کیا ہے جو حسب ذیل ہیں۔
۔
اسلامی نظام حکومت میں اصل مطاع اور مقتدر اعلیٰ عوام یا پارلیمنٹ نہیں بلکہ صرف اللہ تعالیٰ ہوتا ہے۔
۔
اللہ کے احکام کی بجا آوری رسول کے ذریعے سے ہوتی ہے لہٰذا رسول کی اطاعت اور اس کے احکام کی بجا آوری بھی ضروری ہے۔
۔
تیسری اطاعت ان مسلمان حکام کی ہے جو کسی ذمہ دار انہ منصب پر فائز ہوں گے لیکن یہ طاعت مشروط ہے یعنی ان کی بات اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے خلاف نہ ہو بصورت دیگر ان کی بات نہیں مانی جائے گی۔
۔
چوتھی بنیاد یہ ہے کہ اگر حاکم اور رعایا کے درمیان کسی معاملے میں اختلاف پیدا ہو جائے تو ایسے معاملے کو کتاب و سنت کی طرف لوٹایا جائے اور اللہ کی شریعت کو "حکم" کی حیثیت دی جائے گی۔
اگر ان چار اصولوں میں سے کسی بھی اصول میں کوتاہی ہوئی تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان مستحکم نہیں۔
واللہ اعلم۔
1۔
اس واقعے کی تفصیل امام بخاری ؒ نے ایک دوسرے مقام پر بیان کی ہے چنانچہ حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک فوجی دستہ روانہ کیا اور ایک آدمی کو ان کا امیر نامزد کیا۔
اس نے راستے میں آگ کا الاؤ تیار کیا اور حکم دیا کہ تم سب اس میں داخل ہو جاؤ۔
ان سب نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کر لیا البتہ کچھ لوگوں نے کہا ہم ایسی آگ سے بھاگ کر ادھر آئے ہیں۔
واپسی پر انھوں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ نے ان لوگوں سے فرمایا جو آگ میں داخل ہو نے لگے تھے: ’’اگر تم اس میں داخل ہو جاتے تو قیامت تک اسی میں رہتے۔
‘‘ اور دوسروں سے فرمایا: ’’گناہ کے کاموں میں کسی کی بات نہیں مانی جاتی، اطاعت تو بھلے کاموں میں ہوتی ہے۔
‘‘ (صحیح البخاري، أخبار الآحاد، حدیث: 7257)
2۔
بہر حال اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی اختلاف کے وقت قرآن و حدیث کا فیصلہ ہی حرف آخر ہو گا جس کے آگے کسی حاکم یا امام کی بات نہیں چلے گی۔
صرف قرآن و حدیث کو مطلق حاکم مانا جائے گا حافظ ابن حجر ؒ نے بھی یہ مسئلہ وضاحت سے بیان کیا ہے۔
(فتح الباري: 320/8)
3۔
اس آیت کریمہ میں اسلامی حکومت کی چار بنیادوں کو ذکر کیا ہے جو حسب ذیل ہیں۔
۔
اسلامی نظام حکومت میں اصل مطاع اور مقتدر اعلیٰ عوام یا پارلیمنٹ نہیں بلکہ صرف اللہ تعالیٰ ہوتا ہے۔
۔
اللہ کے احکام کی بجا آوری رسول کے ذریعے سے ہوتی ہے لہٰذا رسول کی اطاعت اور اس کے احکام کی بجا آوری بھی ضروری ہے۔
۔
تیسری اطاعت ان مسلمان حکام کی ہے جو کسی ذمہ دار انہ منصب پر فائز ہوں گے لیکن یہ طاعت مشروط ہے یعنی ان کی بات اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے خلاف نہ ہو بصورت دیگر ان کی بات نہیں مانی جائے گی۔
۔
چوتھی بنیاد یہ ہے کہ اگر حاکم اور رعایا کے درمیان کسی معاملے میں اختلاف پیدا ہو جائے تو ایسے معاملے کو کتاب و سنت کی طرف لوٹایا جائے اور اللہ کی شریعت کو "حکم" کی حیثیت دی جائے گی۔
اگر ان چار اصولوں میں سے کسی بھی اصول میں کوتاہی ہوئی تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان مستحکم نہیں۔
واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4584 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1834 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
ابن جریج حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں کہ قرآن مجید کی یہ آیت ’’اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو اور اپنے حکمرانوں کی‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4746]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دستہ کا امیر بنا کر روانہ فرمایا تھا، وہ کسی بات پر ان سے ناراض ہو گئے، پھر ان کو لکڑیاں اکٹھی کر کے آگ لگانے کا حکم دیا، پھر جب آگ روشن ہو گئی، تو انہیں کہنے لگے، اس میں کود جاؤ، وہ اس سلسلہ میں پس و پیش کرنے لگے، اتنے میں آگ ٹھنڈی ہو گئی اور اس کا غصہ بھی ٹھنڈا ہو گیا، واقعہ کی تفصیل آخر میں آ رہی ہے آپﷺ نے فرمایا، اگر یہ لوگ داخل ہو جاتے، تو قیامت تک اس آگ کے عذاب میں مبتلا رہتے، اس لیے اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ امراء اور حکمرانوں کی اطاعت صرف جائز کاموں میں لازم ہے، اگر وہ غلط یا ناجائز کام کا حکم دیں، تو ان کی بات نہیں مانی جائے گی، اگر کوئی ان کی غلط بات مانے گا، تو اسے اس کا خمیازہ بھگتنا ہو گا، آج اگر حکومت کے ملازمین اس حقیقت کو سامنے رکھیں اور حکمرانوں اور ان کے منظور نظر لوگوں کے ناجائز کام کرنے سے انکار کر دیں، تو ہمارے بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں، چونکہ ہم نے دین اور اس کی ہدایات و تعلیمات کو نظر انداز کیا ہوا ہے، اس لیے کسی ملازم کو اس کا احساس نہیں کہ ایک دن اس غلط کام کرنے کا خمیازہ مجھے ہی بھگتنا ہو گا اور ان حکمرانوں سے کوئی میرے کام نہیں آ سکے گا، اس لیے حکمرانوں کو غلط احکام دینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی، وہ ہر قسم کے غلط کام حکومتی ملازموں سے کرواتے ہیں اور وہ اپنے مفادات کی خاطر یہ کام بخوشی کرتے ہیں، الا ماشاء اللہ۔
اور اس واقعہ میں اصل مطلوب آیت کا آخری ٹکڑا ہے کہ اگر کسی مسئلہ میں تمہارے درمیان جھگڑا پیدا ہو جائے، تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹاؤ، یعنی کسی چیز کے جواز اور عدم جواز میں حرف آخر کتاب و سنت کی تعلیم و ہدایت ہے، اس کی پابندی حکومت اور اس کے ملازمین دونوں کے لیے لازمی اور قطعی ہے۔
اور اس واقعہ میں اصل مطلوب آیت کا آخری ٹکڑا ہے کہ اگر کسی مسئلہ میں تمہارے درمیان جھگڑا پیدا ہو جائے، تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹاؤ، یعنی کسی چیز کے جواز اور عدم جواز میں حرف آخر کتاب و سنت کی تعلیم و ہدایت ہے، اس کی پابندی حکومت اور اس کے ملازمین دونوں کے لیے لازمی اور قطعی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4746 سے ماخوذ ہے۔