حدیث نمبر: 4567
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْغَزْوِ ، تَخَلَّفُوا عَنْهُ ، وَفَرِحُوا بِمَقْعَدِهِمْ خِلَافَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَذَرُوا إِلَيْهِ ، وَحَلَفُوا ، وَأَحَبُّوا أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا ، فَنَزَلَتْ لا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا سورة آل عمران آية 188 الْآيَةَ " .
مولانا داود راز

´ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے زید بن اسلم نے بیان کیا ، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چند منافقین ایسے تھے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جہاد کے لیے تشریف لے جاتے تو یہ مدینہ میں پیچھے رہ جاتے اور پیچھے رہ جانے پر بہت خوش ہوا کرتے تھے لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس آتے تو عذر بیان کرتے اور قسمیں کھا لیتے بلکہ ان کو ایسے کام پر تعریف ہونا پسند آتا جس کو انہوں نے نہ کیا ہوتا اور بعد میں چکنی چیڑی باتوں سے اپنی بات بنانا چاہتے ۔ اللہ تعالیٰ نے اسی پر یہ آیت «لا يحسبن الذين يفرحون‏» آخر آیت تک اتاری ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4567
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2777

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
4567. حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں کئی منافق ایسے تھے کہ جب رسول اللہ ﷺ جہاد کے لیے تشریف لے جاتے تو وہ آپ ﷺ سے پیچھے (مدینہ ہی میں) رہ جاتے اور رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہنے پر بغلیں بجاتے۔ پھر جب رسول اللہ ﷺ جہاد سے واپس (مدینہ) آتے تو وہ (منافق) عذر پیش کر کے حلف اٹھا لیتے اور اس بات کو پسند کرتے کہ جو کام انہوں نے نہیں کیا، اس میں بھی ان کی تعریف کی جائے۔ تب یہ آیت نازل ہوئی: ’’جو لوگ اپنے ناپسندیدہ کاموں سے خوش ہوتے ہیں اور اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ جو کام انہوں نے نہیں کیا، اس پر بھی ان کی تعریف کی جائے (آپ انہیں عذاب سے نجات یافتہ خیال نہ کریں)۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:4567]
حدیث حاشیہ: یہ چند منافقین تھے جو جہاد سے جی چرا تے، ان کے مکر وفریب کا جال بکھیر دیا۔
ایسے کتنے لوگ آج بھی موجود ہیں کتنے بے نمازی ہیں جو اپنی حرکت پر شرمندہ ہونے کی بجائے الٹے نمازیوں سے اپنے کو بہتر ثابت کرنا چاہتے ہیں۔
کتنے بدعتی مشرک ہیں جو اہل توحید پر اپنی برتری کے دعویدار ہیں۔
یہ سب لوگ اس آیت کے مصداق ہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4567 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
4567. حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں کئی منافق ایسے تھے کہ جب رسول اللہ ﷺ جہاد کے لیے تشریف لے جاتے تو وہ آپ ﷺ سے پیچھے (مدینہ ہی میں) رہ جاتے اور رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہنے پر بغلیں بجاتے۔ پھر جب رسول اللہ ﷺ جہاد سے واپس (مدینہ) آتے تو وہ (منافق) عذر پیش کر کے حلف اٹھا لیتے اور اس بات کو پسند کرتے کہ جو کام انہوں نے نہیں کیا، اس میں بھی ان کی تعریف کی جائے۔ تب یہ آیت نازل ہوئی: ’’جو لوگ اپنے ناپسندیدہ کاموں سے خوش ہوتے ہیں اور اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ جو کام انہوں نے نہیں کیا، اس پر بھی ان کی تعریف کی جائے (آپ انہیں عذاب سے نجات یافتہ خیال نہ کریں)۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:4567]
حدیث حاشیہ:

پہلی حدیث جو حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے۔
اس کے تقاضے کے مطابق یہ آیت منافقین کے متعلق نازل ہوئی جبکہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کی شان نزول یہود مدینہ کا کردار ہے اگرچہ ربط مضمون کے لحاظ سے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت راجح معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس آیت سے پہلے بھی یہود کے کرتوتوں کا ذکر چل رہا ہے تاہم اس مضمون میں منافقین تو کیا خود مسلمانوں کو شامل کیا جا سکتا ہے، یعنی جو شخص بھی ایسی شہرت پسند کرتا ہو کہ وہ بڑا مخلص، دیانتدار، ایثار، پیشہ خادم خلق اورعالم دین ہے یا ان میں سے کسی بھی صفت کی شہرت چاہتا ہو جبکہ حقیقت میں معاملہ ایسا نہ ہو یا کسی نے اچھے کام میں محنت تو تھوڑی سی کی مگر شہرت و ناموری اس سے بہت زیادہ چاہتا ہو تو اس کا وہی حشر ہو گا جو آیت میں مذکورہ ہے۔

بہر حال آیت کریمہ اگرچہ نزول کے اعتبار سے خاص ہے لیکن لفظ کی عمومیت ہر اس شخص کو شامل ہے جو اچھا کام کرے پھر اس پر فخر و غرور کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کرے اور یہ بھی پسند کرے کہ اس کے ناکردہ کاموں پر بھی لوگ اس کی تعریف کریں، لیکن حضرت ابن عباس ؓ کا یہ کہنا ہے کہ یہ آیت صرف اہل کتاب کے ساتھ خاص ہے، اسے ان کا مسلک ہی قرار دیا جا سکتا ہے جو جمہور کے موقف کے خلاف ہے۔
واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4567 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2777 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں کچھ منافق لوگ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ کے لیے نکلتے، آپ سے پیچھے رہ جاتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ جانے پر خوش ہوتے تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آتے تو آپ کے سامنے عذر اور بہانے پیش کرتے اور قسمیں اٹھاتے اور پسند کرتے کہ جوکام انھوں نے نہیں کیا، اس پر ان کی تعریف کی جائے تو آیت نازل ہوئی:"جو لوگ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7033]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سورۂ آل عمران کی یہ آیت ان منافقوں کے بارے میں اتری ہے تو جان بوجھ کر جہاد کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ جاتے تھے، اور پھر جب آپ غزوہ سے واپس تشریف لے آتے تو جھوٹے بہانے پیش کرتے اور قسمیں اٹھا کر اپنی جان نثاری اور وفاداری کا یقین دلاتے اوراپنی جھوٹی وفاداری کی تعریف کی خواہش کرتے، لیکن حضرت ابن عباس کی اگلی روایت سے معلوم ہوتا ہے، یہ ان یہود کے بارے میں اتری ہے، جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کتمان علم کرتے تھے اور پھر اپنے اس عمل پر خوش ہوتے تھے اور آپ کو خلاف واقعہ بات بتا کر چاہتے تھے، آپ ان کے اس عمل کی تعریف کریں، یعنی ان کے جھوٹ اور کتمان پر ان کی تعریف کریں، جس سے معلوم ہوا، دونوں کا طرز عمل اس کا مصداق ہے، گویا اصل مقصد یہ ہے کہ کسی فرد کو، وہ مسلمان ہو یا منافق یا یہودی کسی برے کام کے کرنے پر خوش نہیں ہونا چاہیے، بھلا کرکے اترانا نہیں چاہیے اور جو اچھا کام نہیں کیا، اس پر تعریف کی خواہش نہیں کرنی چاہیے اور دوسروں کے کام کا کریڈٹ خود نہیں لینا چاہیے، بلکہ اچھا کام کرنے کے بعد بھی مدح سرائی کی توقع یا خواہش نہیں کرنی چاہیے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7033 سے ماخوذ ہے۔