حدیث نمبر: 4551
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ هُوَ ابْنُ أَبِي هَاشِمٍ ، سَمِعَ هُشَيْمًا ، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : " أَنَّ رَجُلًا أَقَامَ سِلْعَةً فِي السُّوقِ فَحَلَفَ فِيهَا ، لَقَدْ أَعْطَى بِهَا مَا لَمْ يُعْطِهِ لِيُوقِعَ فِيهَا رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَنَزَلَتْ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ " .
مولانا داود راز

´ہم سے علی بن ابی ہاشم نے بیان کیا ، انہوں نے ہشیم سے سنا ، انہوں نے کہا ہم کو عوام بن حوشب نے خبر دی ، انہیں ابراہیم بن عبدالرحمٰن نے اور انہیں عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے کہ` ایک شخص نے بازار میں سامان بیچتے ہوئے قسم کھائی کہ فلاں شخص اس سامان کا اتنا روپیہ دے رہا تھا ، حالانکہ کسی نے اتنی قیمت نہیں لگائی تھی ، بلکہ اس کا مقصد یہ تھا کہ اس طرح کسی مسلمان کو وہ دھوکا دے کر اسے ٹھگ لے تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا‏» کہ ” بیشک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچتے ہیں ۔ “ آخر آیت تک ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4551
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
4551. حضرت عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے بازار میں سامان لگایا، پھر قسم اٹھائی کہ اسے اس سامان کے اتنے دام مل رہے تھے، حالانکہ اس شخص کو وہ قیمت نہیں دی گئی تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ اس طرح کسی مسلمان کو اپنے دام تزویر میں پھنسائے (اسے ٹھگ لے۔) اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّـهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾[صحيح بخاري، حديث نمبر:4551]
حدیث حاشیہ: آیت میں بتلایا گیا ہے کہ معاملہ داری میں جھوٹی قسمیں کھانا اور اس طرح کسی کو نقصان پہنچانا کسی مرد مومن کا کام نہیں ہے۔
مسلمانوں کو اس عادت سے بچنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4551 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
4551. حضرت عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے بازار میں سامان لگایا، پھر قسم اٹھائی کہ اسے اس سامان کے اتنے دام مل رہے تھے، حالانکہ اس شخص کو وہ قیمت نہیں دی گئی تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ اس طرح کسی مسلمان کو اپنے دام تزویر میں پھنسائے (اسے ٹھگ لے۔) اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّـهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾[صحيح بخاري، حديث نمبر:4551]
حدیث حاشیہ:

حدیث ابن مسعود سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ آیت کنویں کے معاملے میں حضرت اشعث ؓ اور ان کے مخالف کے متعلق نازل ہوئی جبکہ حضرت عبداللہ بن ابواوفیٰ ؓ کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بازار میں ایک شخص نے سامان فروخت کرنے کی غرض سے جھوٹی قسم اٹھائی تو اس شخص کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔
ان روایات میں کوئی تضاد نہیں کیونکہ یہ آیت عام ہے اور اس کے نازل ہونے کا سبب دونوں واقعات ہوسکتے ہیں۔

یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت اشعث ؓ کے معاملے میں مذکورہ آیت نازل ہوچکی ہولیکن حضرت عبداللہ بن ابواوفیٰ ؓ کو بازار میں سامان فروخت کرنے کے واقعے کے بعد اس کی اطلاع ہوئی ہوتو انھوں نے سمجھا کہ یہ آیت اس واقعے سے متعلق ہے۔
مطلب یہ ہے کہ ہر ایک نے اپنے اپنے علم کے مطابق بیان فرمایا۔
(فتح الباري: 269/8)
واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4551 سے ماخوذ ہے۔