صحيح البخاري
كتاب تفسير القرآن— کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
بَابُ قَوْلِهِ: {وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ وَلاَ تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ} إِلَى قَوْلِهِ: {تَتَّقُونَ} : باب: آیت کی تفسیر ”کھاؤ اور پیو جب تک کہ تم پر صبح کی سفید دھاری رات کی سیاہ دھاری سے ممتاز نہ ہو جائے، پھر روزے کو رات (ہونے) تک پورا کرو اور بیویوں سے اس حال میں صحبت نہ کرو جب تم اعتکاف کئے ہو مسجدوں میں“ آخر آیت «تتقون» تک۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ , حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ , عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيٍّ , قَالَ : أَخَذَ عَدِيٌّ , عِقَالًا أَبْيَضَ وَعِقَالًا أَسْوَدَ حَتَّى كَانَ بَعْضُ اللَّيْلِ نَظَرَ ، فَلَمْ يَسْتَبِينَا فَلَمَّا أَصْبَحَ , قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جَعَلْتُ تَحْتَ وِسَادِي عِقَالَيْنِ , قَالَ : " إِنَّ وِسَادَكَ إِذًا لَعَرِيضٌ أَنْ كَانَ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ وَالْأَسْوَدُ تَحْتَ وِسَادَتِكَ " .´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ، ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے ، ان سے عامر شعبی نے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے بیان کیا کہ` انھوں نے ایک سفید دھاگا اور ایک سیاہ دھاگا لیا ( اور سوتے ہوئے اپنے ساتھ رکھ لیا ) ۔ جب رات کا کچھ حصہ گزر گیا تو انہوں نے اسے دیکھا ، وہ دونوں میں تمیز نہیں ہوئی ۔ جب صبح ہوئی تو عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں نے اپنے تکئے کے نیچے ( سفید و سیاہ دھاگے رکھے تھے اور کچھ نہیں ہوا ) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر بطور مذاق کے فرمایا کہ پھر تو تمہارا تکیہ بہت لمبا چوڑا ہو گا کہ صبح کا سفیدی خط اور سیاہ خط اس کے نیچے آ گیا تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
سفید دھاری جب کھڑی ہوئی نظر آئے تویہ صبح کاذب ہے اور عرض میں جب یہ پھیل جائے تو یہ صبح صادق ہے۔
1۔
حضرت عدی بن حاتم ؓ آیت کریمہ کا مطلب یہ سمجھے کہ (الْخَيْطُ الأَبْيَضُ)
اور(الْخَيْطِ الأَسْوَدِ)
سے مراد درحقیقت سیاہ اور سفید ڈورے ہیں، حالانکہ آیت مذکورہ میں کالی دھاری سے رات کی تاریکی اور سفید دھاری سے صبح کی روشنی مراد ہے۔
سفید دھاری جب کھڑی نظر آئے تو یہ صبح کاذب اور جب عرض (چوڑائی)
میں پھیل جائے توصبح صادق ہے۔
2۔
عرب جب کسی کے متعلق (عَرِيضُ القَفَا)
کہتے ہیں تو اس سے مراد اس کی غبارت اور غفلت ہوتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا مقصد یہ تھا کہ اگررات اور دن تیرے تکیے کے نیچے آجائیں پھر غفلت کی نیند سوتا ہوگا جو کم عقلی کی علامت ہے۔
اس سے حضرت عدی بن حاتم ؓ کی مذمت مقصود نہیں کیونکہ انھوں نے اہل زبان ہونے کی حیثیت سے فوراً ذہن میں آنے والا مفہوم اخذ کیا۔
3۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اپنی زبان دانی کے بل بوتے پر قرآن کو سمجھنا حماقت کی علامت ہے، اس کے لیے صاحب قرآن کی وضاحت نہایت ضروری ہے۔
واللہ اعلم۔
1۔
حضرت عدی بن حاتم ؓ آیت کریمہ کا مطلب یہ سمجھے کہ (الْخَيْطُ الأَبْيَضُ)
اور(الْخَيْطِ الأَسْوَدِ)
سے مراد درحقیقت سیاہ اور سفید ڈورے ہیں، حالانکہ آیت مذکورہ میں کالی دھاری سے رات کی تاریکی اور سفید دھاری سے صبح کی روشنی مراد ہے۔
سفید دھاری جب کھڑی نظر آئے تو یہ صبح کاذب اور جب عرض (چوڑائی)
میں پھیل جائے توصبح صادق ہے۔
2۔
عرب جب کسی کے متعلق (عَرِيضُ القَفَا)
کہتے ہیں تو اس سے مراد اس کی غبارت اور غفلت ہوتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا مقصد یہ تھا کہ اگررات اور دن تیرے تکیے کے نیچے آجائیں پھر غفلت کی نیند سوتا ہوگا جو کم عقلی کی علامت ہے۔
اس سے حضرت عدی بن حاتم ؓ کی مذمت مقصود نہیں کیونکہ انھوں نے اہل زبان ہونے کی حیثیت سے فوراً ذہن میں آنے والا مفہوم اخذ کیا۔
3۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اپنی زبان دانی کے بل بوتے پر قرآن کو سمجھنا حماقت کی علامت ہے، اس کے لیے صاحب قرآن کی وضاحت نہایت ضروری ہے۔
واللہ اعلم۔
(1)
مسلمانوں کے ہاں ابتدائی طور پر روزے کے متعلق یہ دستور تھا کہ وہ اہل کتاب کی طرح شام کو سونے کے بعد روزہ شروع کر دیتے اور آئندہ شام تک کھانے پینے سے پرہیز کرتے، چنانچہ سنن نسائی میں ہے کہ روزہ دار جب شام کا کھانا کھانے سے پہلے سو جاتا تو رات بھر کچھ نہیں کھا سکتا تھا۔
اس آیت کریمہ اور پیش کردہ روایت میں اس ابتدائی دستور کے ختم ہونے کا اعلان ہے۔
(سنن النسائي، الصیام، حدیث: 2170) (2)
حضرت عدی بن حاتم ؓ نے سفید دھاگے اور سیاہ دھاگے کو حقیقت پر محمول کرتے ہوئے دونوں کو اپنے تکیے کے نیچے رکھ لیا لیکن رسول اللہ ﷺ کی وضاحت کے بعد انہیں اصل حقیقت معلوم ہوئی۔
(3)
اس حدیث کے ظاہری الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عدی بن حاتم ؓ اس آیت کے نزول کے وقت حاضر تھے جبکہ حقیقت اس کے خلاف ہے کیونکہ رمضان کی فرضیت دو ہجری میں ہوئی اور حضرت عدی بن حاتم نو یا دس ہجری کو مسلمان ہوئے۔
اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ یہاں کچھ عبارت مخذوف ہے، یعنی اس آیت کے نزول کے بعد میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر مسلمان ہوا اور شریعت کے احکام سیکھے، اس وقت میں نے سیاہ اور سفید دھاگے اپنے تکیے کے نیچے رکھے۔
اس کی تائید امام احمد بن حنبل کی ایک روایت سے ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عدی بن حاتم ؓ سے فرمایا: ’’ایسے نماز پڑھو، اس طرح روزہ رکھو، جب سورج غائب ہو جائے تو کھاؤ پیو، پھر سحری کے متعلق مسائل بیان کیے کہ کھاؤ پیو حتی کہ سیاہ دھاگے سے سفید دھاگا نمایاں ہو جائے۔
‘‘ (مسندأحمد: 377/4، وفتح الباري: 170/4)
کیونکہ وہ تو نو (9)
یا دس(10)
ہجری کو مسلمان ہوئے جبکہ روزے 2 ہجری میں فرض ہو چکے ہیں۔
اس لیے آیت کے نزول سے مراد ان کو سکھانا اور تعلیم دینا ہے جیسا کہ مسند احمد کی روایت میں اس کی صراحت موجود ہے۔
لیکن انہوں نے عربی محاورہ کو ظاہری معنی پر محمول کیا۔
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: اگر تمہارے تکیہ کے نیچے یا تمہاری گدی اور گردن کے نیچے اگر دن رات سما گئے تو پھر تو تمہارا تکیہ اور گدی بہت چوڑی ہے۔
پھر انہیں بتا دیا۔
اس سے مراد سفید دھاگا نہیں بلکہ رات کی سیاہی اور دن کی روشنی ہے۔
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ «حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود» ” یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگا سیاہ دھاگے سے ظاہر ہو جائے “ (سورۃ البقرہ: ۱۸۷) نازل ہوئی تو میں نے ایک سفید اور ایک کالی رسی لے کر اپنے تکیے کے نیچے (صبح صادق جاننے کی غرض سے) رکھ لی، میں دیکھتا رہا لیکن پتہ نہ چل سکا، میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ ہنس پڑے اور کہنے لگے، ” تمہارا تکیہ تو بڑا لمبا چوڑا ہے، اس سے مراد رات اور دن ہے۔“ عثمان کی روایت میں ہے: ” اس سے مراد رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2349]
اس سے معلوم ہوا کہ فہم قرآن کے لیے محض الفاظ کا ترجمہ یا لغوی مفہوم کافی نہیں بلکہ عربی ادب کی فصاحت و بلاغت کے ساتھ ساتھ شارع علیہ السلام کی تشریحات (احادیث) کو مدنظر رکھنا بھی ضروری ہے۔
عدی بن حاتم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آیت کریمہ: «حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود» کے متعلق سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «خيط الأسود» (سیاہ دھاری) رات کی تاریکی ہے، (اور «خيط الأسود» سفید دھاری) دن کا اجالا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2171]
س حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ بعض دفعہ ہم میں غلطی ہو جاتی ہے فہم وہی معتبر ہے جو قرآن و حدیث کے موافق ہو۔