حدیث نمبر: 4505
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ , أَخْبَرَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ , عَنْ عَطَاءٍ , سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقْرَأُ : وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ سورة البقرة آية 184 , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَيْسَتْ بِمَنْسُوخَةٍ هُوَ الشَّيْخُ الْكَبِيرُ وَالْمَرْأَةُ الْكَبِيرَةُ لَا يَسْتَطِيعَانِ أَنْ يَصُومَا ، فلَيُطْعِمَانِ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا .
مولانا داود راز

´مجھ سے اسحاق نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو روح نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہم سے زکریا بن اسحاق نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا ، ان سے عطاء نے اور انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا` وہ یوں قرآت کر رہے تھے «وعلى الذين يطوقونه فدية طَعام مسكين» ( تفعیل سے ) «فدية طَعام مسكين» ۔ “ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہے ۔ اس سے مراد بہت بوڑھا مرد یا بہت بوڑھی عورت ہے ۔ جو روزے کی طاقت نہ رکھتی ہو ، انہیں چاہئیے کہ ہر روزہ کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4505
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
4505. حضرت عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے سنا، وہ یوں قراءت کرتے تھے: ﴿وَعَلَى الَّذِينَ يُطَوَّقُونَهُ فَلَا يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ ﴾ ''یعنی وہ لوگ جو بمشقت روزہ رکھتے ہیں وہ (ہر روزے کے بدلے) ایک مسکین کو بطور فدیہ کھانا کھلائیں۔'' حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت منسوخ نہیں بلکہ محکم ہے اور اس سے مراد بہت بوڑھا مرد یا انتہائی بوڑھی عورت ہے جو روزے کی طاقت نہ رکھتے ہوں انہیں چاہئے کہ وہ ہر روزے کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4505]
حدیث حاشیہ: یہ ابن عباس ؓ کا فول ہے اور اکثر علماء کہتے ہیں کہ بہ آیت منسوخ ہے اور ابتدائے اسلام میں یہی حکم ہوا تھا کہ جس کا جی چاہے روزہ رکھے جس کا چاہے روزہ رکھے جس کا جی چاہے فدیہ دے۔
پھر یعد میں آیت ﴿فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ﴾ (البقره: 175)
هوئی اور اس سے وہ پچھلی آیت منسوخ ہو گئی۔
البتہ جو شخص اتنا بوڑھا ہو جائے کہ روزہ رکھ سکے اس کے لئے افطار کرنا اور فدیہ دینا جائز ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4505 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
4505. حضرت عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے سنا، وہ یوں قراءت کرتے تھے: ﴿وَعَلَى الَّذِينَ يُطَوَّقُونَهُ فَلَا يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ ﴾ ''یعنی وہ لوگ جو بمشقت روزہ رکھتے ہیں وہ (ہر روزے کے بدلے) ایک مسکین کو بطور فدیہ کھانا کھلائیں۔'' حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت منسوخ نہیں بلکہ محکم ہے اور اس سے مراد بہت بوڑھا مرد یا انتہائی بوڑھی عورت ہے جو روزے کی طاقت نہ رکھتے ہوں انہیں چاہئے کہ وہ ہر روزے کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4505]
حدیث حاشیہ:
حضرت ابن عباس ؓ کا موقف یہ ہے کہ جو شخص زیادہ بڑھاپے یا ایسی بیماری میں مبتلا ہو جس سے شفا یابی کی امید نہ ہو اور وہ روزہ رکھنے میں مشقت محسوس کرے تو وہ روزہ نہ رکھے اور ایک مسکین کو بطور فدیہ کھانا کھلا دے جبکہ جمہور اہل علم نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ ابتدائے اسلام میں روزے کی طاقت رکھنے والوں کو یہ رخصت دی گئی تھی۔
لیکن بعد میں اسے منسوخ کرکے ہر صاحب استطاعت کے لیے روزہ فرض کردیا گیا، تاہم زیادہ بوڑھے اوردائمی مریض کے لیے اب بھی یہی حکم ہے کہ وہ فدیہ دے دیں۔
اسی طرح حاملہ اوردودھ پلانے والی اگرروزہ رکھنے میں مشقت محسوس کرے تو وہ مریض کے حکم میں ہے، یعنی وہ روزہ نہ رکھیں۔
بعد میں چھوڑے ہوئے روزوں کی قضا دیں۔
واضح رہے کہ امام بخاری ؒ بھی حضرت ابن عباس ؒ کے مؤقف سے متفق معلوم ہوتے ہیں۔
واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4505 سے ماخوذ ہے۔