صحيح البخاري
كتاب تفسير القرآن— کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
بَابُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ} : باب: آیت کی تفسیر ”اے ایمان والوں! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جیسا کہ ان لوگوں پر فرض کئے گئے تھے جو تم سے پہلے ہو گزرے ہیں تاکہ تم متقی بن جاؤ“۔
حدیث نمبر: 4503
حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ , أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ , عَنْ إِسْرَائِيلَ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ عَلْقَمَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : دَخَلَ عَلَيْهِ الْأَشْعَثُ وَهْوَ يَطْعَمُ , فَقَالَ : الْيَوْمُ عَاشُورَاءُ , فَقَالَ : " كَانَ يُصَامُ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ رَمَضَانُ ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ تُرِكَ فَادْنُ فَكُلْ " .مولانا داود راز
´مجھ سے محمود نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبیداللہ نے خبر دی ، انہیں اسرائیل نے ، انہیں منصور نے ، انہیں ابراہیم نے ، انہیں علقمہ نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` اشعث ان کے یہاں آئے ، وہ اس وقت کھانا کھا رہے تھے ، اشعث نے کہا کہ آج تو عاشوراء کا دن ہے ۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ان دنوں میں عاشوراء کا روزہ رمضان کے روزوں کے نازل ہونے سے پہلے رکھا جاتا تھا لیکن جب رمضان کے روزے کا حکم نازل ہوا تو یہ روزہ چھوڑ دیا گیا ۔ آؤ تم بھی کھانے میں شریک ہو جاؤ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
4503. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ ان کے پاس اشعث بن قیس کندی اس وقت آئے جب وہ کھانا تناول کر رہے تھے۔ حضرت اشعث نے کہا: آج تو عاشوراء کا دن ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا: رمضان کی فرضیت سے پہلے عاشوراء کا روزہ رکھا جاتا تھا، جب رمضان کا حکم نازل ہوا تو اسے چھوڑ دیا گیا، لہذا قریب آ کر کھانا کھاؤ۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4503]
حدیث حاشیہ: ان جملہ احادیث میں رمضان کے روزوں کی فرضیت کا ذکر ہے۔
باب میں اور ان میں یہی مطابقت ہے۔
باب میں اور ان میں یہی مطابقت ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4503 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
4503. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ ان کے پاس اشعث بن قیس کندی اس وقت آئے جب وہ کھانا تناول کر رہے تھے۔ حضرت اشعث نے کہا: آج تو عاشوراء کا دن ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا: رمضان کی فرضیت سے پہلے عاشوراء کا روزہ رکھا جاتا تھا، جب رمضان کا حکم نازل ہوا تو اسے چھوڑ دیا گیا، لہذا قریب آ کر کھانا کھاؤ۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4503]
حدیث حاشیہ:
ایک روایت میں وضاحت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا: ''اگرتم روزے دار نہیں ہوتو میرے ساتھ کھانا کھاؤ۔
" (صحیح مسلم، الصیام، حدیث: 2651(1127)
حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں عاشوراء کے دن روزہ رکھنے کا حکم دیتے تھے، پھر جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو ہمیں عاشوراء کے بارے میں نہ حکم ہوا اور نہ منع کیا گیا۔
(صحیح مسلم، الصیام، حدیث: 2652(1128)
ایک روایت میں وضاحت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا: ''اگرتم روزے دار نہیں ہوتو میرے ساتھ کھانا کھاؤ۔
" (صحیح مسلم، الصیام، حدیث: 2651(1127)
حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں عاشوراء کے دن روزہ رکھنے کا حکم دیتے تھے، پھر جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو ہمیں عاشوراء کے بارے میں نہ حکم ہوا اور نہ منع کیا گیا۔
(صحیح مسلم، الصیام، حدیث: 2652(1128)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4503 سے ماخوذ ہے۔