صحيح البخاري
كتاب تفسير القرآن— کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
بَابُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ} : باب: آیت کی تفسیر ”اے ایمان والوں! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جیسا کہ ان لوگوں پر فرض کئے گئے تھے جو تم سے پہلے ہو گزرے ہیں تاکہ تم متقی بن جاؤ“۔
حدیث نمبر: 4501
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , قَالَ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ : كَانَ عَاشُورَاءُ يَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ , قَالَ : " مَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ لَمْ يَصُمْهُ " .مولانا داود راز
´ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا ، انہیں نافع نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` عاشوراء کے دن جاہلیت میں ہم روزہ رکھتے تھے لیکن جب رمضان کے روزے نازل ہو گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کا جی چاہے عاشوراء کا روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
4501. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ اہل جاہلیت عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے۔ جب رمضان کی فرضیت نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جو چاہے عاشوراء کا روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:4501]
حدیث حاشیہ:
عاشوراء کا روزہ پہلے فرض تھا۔
رمضان کی فرضیت کے بعد عاشوراء کی فرضیت منسوخ ہوگئی، البتہ استحباب اب بھی باقی ہے۔
حضرت عائشہ ؓ سے مروی حدیث میں اس کی مزید وضاحت ہے، آپ نے فرمایا: قریش دورجاہلیت میں عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے۔
رسول اللہ ﷺ نے خود بھی مکہ میں رہتے ہوئے عاشوراء کا روزہ رکھا اور اپنے اصحاب کو بھی اس روزے کا پابند کیا۔
جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: "جو چاہے عاشوراء کا روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔
" (صحیح البخاري، الصوم، حدیث: 1893)
عاشوراء کا روزہ پہلے فرض تھا۔
رمضان کی فرضیت کے بعد عاشوراء کی فرضیت منسوخ ہوگئی، البتہ استحباب اب بھی باقی ہے۔
حضرت عائشہ ؓ سے مروی حدیث میں اس کی مزید وضاحت ہے، آپ نے فرمایا: قریش دورجاہلیت میں عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے۔
رسول اللہ ﷺ نے خود بھی مکہ میں رہتے ہوئے عاشوراء کا روزہ رکھا اور اپنے اصحاب کو بھی اس روزے کا پابند کیا۔
جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: "جو چاہے عاشوراء کا روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔
" (صحیح البخاري، الصوم، حدیث: 1893)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4501 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1892 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
1892. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے عاشوراء کا روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی یہ روزہ رکھنے کاحکم دیا۔ جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو عاشوراء کا روزہ ترک کردیا گیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ یہ روزہ نہیں رکھتے تھے۔ البتہ اگر ان کے روزوں کے موافق ہوجاتا تو رکھ لیتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1892]
حدیث حاشیہ: یعنی جس دن ان کو روزہ رکھنے کی عادت ہوتی مثلاً پیر یا جمعرات اور اس دن عاشورہ کا دن بھی آپڑتا تو روزہ رکھ لیتے تھے، یوم عاشور محرم الحرام کی دسویں تاریخ کو کہا جاتا ہے، یہ قدیم زمانے سے ایک تاریخی دن چلا آرہا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1892 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1126 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اہل جاہلیت عاشورہ کے دن کا روزہ رکھتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان بھی رمضان کی فرضیت سے پہلے اس کا روزہ رکھتے تھے۔ جب رمضان فرض کر دیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عاشورہ ایام اللہ میں سے ایک دن ہے تو جو چاہے اس کا روزہ رکھے اور جو چاہے اسے چھوڑ دے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2642]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: ’’ایام اللہ‘‘سے مراد وہ ایام ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے گزشتہ انبیاء اور ان کی امتوں پر احسان و انعام فرمایا اس لیے سورہ ابراہیم میں فرمایا: ﴿وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ﴾ اور انہیں اللہ تعالیٰ کے احسانات و انعامات سے تذکیرو نصیحت کیجئے۔
اور ان کے دشمنوں کو تباہ و برباد کیا۔
اور ان کے دشمنوں کو تباہ و برباد کیا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1126 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2443 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´یوم عاشورہ (دسویں محرم) کے روزہ کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں ہم عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے، پھر جب رمضان کے روزوں فرضیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہ (یوم عاشوراء) اللہ کے دنوں میں سے ایک دن ہے لہٰذا جو روزہ رکھنا چاہے رکھے، اور جو نہ چاہے نہ رکھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2443]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں ہم عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے، پھر جب رمضان کے روزوں فرضیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہ (یوم عاشوراء) اللہ کے دنوں میں سے ایک دن ہے لہٰذا جو روزہ رکھنا چاہے رکھے، اور جو نہ چاہے نہ رکھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2443]
فوائد ومسائل:
دن تو سارے ہی اللہ کے ہیں، مگر جن ایام میں کوئی خاص واقعہ پیش آیا ہو اور دینی و شرعی اعتبار سے ان کی اہمیت ہو، تو انہیں (أَيَّامَ ٱللَّهِ) کہا گیا ہے۔
دن تو سارے ہی اللہ کے ہیں، مگر جن ایام میں کوئی خاص واقعہ پیش آیا ہو اور دینی و شرعی اعتبار سے ان کی اہمیت ہو، تو انہیں (أَيَّامَ ٱللَّهِ) کہا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2443 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1737 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´یوم عاشوراء کا روزہ۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عاشوراء (محرم کی دسویں تاریخ) کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہ وہ دن ہے جس میں دور جاہلیت کے لوگ روزہ رکھتے تھے، لہٰذا تم میں سے جو روزہ رکھنا چاہے تو رکھے، اور جو نہ چاہے نہ رکھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1737]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عاشوراء (محرم کی دسویں تاریخ) کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہ وہ دن ہے جس میں دور جاہلیت کے لوگ روزہ رکھتے تھے، لہٰذا تم میں سے جو روزہ رکھنا چاہے تو رکھے، اور جو نہ چاہے نہ رکھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1737]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اس سے معلوم ہوا کہ یہ روزہ فر ض نہیں البتہ ثواب کا کا م ضرور ہے
(2)
جاہلیت کے جس کام کی تائید قرآن وحدیث سے ہو جائے وہ ہماری شریعت کا حکم بن جاتا ہے پھر اسے جاہلیت کا کام سمجھ کر نہیں بلکہ اسلام کا حکم سمجھ کر ادا کیا جاتا ہے اور جس کام سے منع کر دیا جائے وہ با لکل حرام ہوتا ہے جس کام کے بارے میں حکم یا ممانعت کی دلیل نہ ملے اس سے اجتنا ب کرنا چاہیے کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے بہت سے کاموں میں یہود و نصاری کی مخالفت کی ہے حتی کے صحابہ اکرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سمجھ لیا کہ کفار کی مخالفت اسلام کا ایک اصول ہے یہی وجہ ہے کہ جب نماز کے وقت کا اعلان کرنے کے لئے مشوره ہوا تو صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے ناقوس بجانے اور آگ جلانے کی تجویز رد کر دی كہ یہ غیر مسلمو ں کا طر یقہ ہے۔
تفصیل کے لئے دیکھیے: (سنن ابن ماجة، الأذان، باب بدء الأذان، حدیث: 707)
فوائد و مسائل:
(1)
اس سے معلوم ہوا کہ یہ روزہ فر ض نہیں البتہ ثواب کا کا م ضرور ہے
(2)
جاہلیت کے جس کام کی تائید قرآن وحدیث سے ہو جائے وہ ہماری شریعت کا حکم بن جاتا ہے پھر اسے جاہلیت کا کام سمجھ کر نہیں بلکہ اسلام کا حکم سمجھ کر ادا کیا جاتا ہے اور جس کام سے منع کر دیا جائے وہ با لکل حرام ہوتا ہے جس کام کے بارے میں حکم یا ممانعت کی دلیل نہ ملے اس سے اجتنا ب کرنا چاہیے کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے بہت سے کاموں میں یہود و نصاری کی مخالفت کی ہے حتی کے صحابہ اکرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سمجھ لیا کہ کفار کی مخالفت اسلام کا ایک اصول ہے یہی وجہ ہے کہ جب نماز کے وقت کا اعلان کرنے کے لئے مشوره ہوا تو صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے ناقوس بجانے اور آگ جلانے کی تجویز رد کر دی كہ یہ غیر مسلمو ں کا طر یقہ ہے۔
تفصیل کے لئے دیکھیے: (سنن ابن ماجة، الأذان، باب بدء الأذان، حدیث: 707)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1737 سے ماخوذ ہے۔