صحيح البخاري
كتاب تفسير القرآن— کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
بَابُ قَوْلِهِ: {وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا} : باب: آیت کی تفسیر ”اور اسی طرح ہم نے تم کو امت وسط (یعنی امت عادل) بنایا، تاکہ تم لوگوں پرگواہ رہو اور رسول تم پر گواہ رہیں“۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ رَاشِدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ , وَأَبُو أُسَامَةَ وَاللَّفْظُ لِجَرِيرٍ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , وَقَالَ أَبُو أُسَامَةَ : حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ ،عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُدْعَى نُوحٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيَقُولُ : لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ يَا رَبِّ ، فَيَقُولُ : هَلْ بَلَّغْتَ ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ ، فَيُقَالُ : لِأُمَّتِهِ هَلْ بَلَّغَكُمْ ، فَيَقُولُونَ : مَا أَتَانَا مِنْ نَذِيرٍ ، فَيَقُولُ : مَنْ يَشْهَدُ لَكَ ، فَيَقُولُ : مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ ، فَتَشْهَدُونَ أَنَّهُ قَدْ بَلَّغَ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا سورة البقرة آية 143 فَذَلِكَ قَوْلُهُ جَلَّ ذِكْرُهُ وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا سورة البقرة آية 143 ، وَالْوَسَطُ : الْعَدْلُ .´ہم سے یوسف بن راشد نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر اور ابواسامہ نے بیان کیا ۔ ( حدیث کے الفاظ جریر کی روایت کے مطابق ہیں ) ان سے اعمش نے ، ان سے ابوصالح نے اور ابواسامہ نے بیان کیا ( یعنی اعمش کے واسطہ سے کہ ) ہم سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” قیامت کے دن نوح علیہ السلام کو بلایا جائے گا ۔ وہ عرض کریں گے ، «لبيك وسعديك» : یا رب ! اللہ رب العزت فرمائے گا ، کیا تم نے میرا پیغام پہنچا دیا تھا ؟ نوح علیہ السلام عرض کریں گے کہ میں نے پہنچا دیا تھا ، پھر ان کی امت سے پوچھا جائے گا ، کیا انہوں نے تمہیں میرا پیغام پہنچا دیا تھا ؟ وہ لوگ کہیں گے کہ ہمارے یہاں کوئی ڈرانے والا نہیں آیا ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ( نوح علیہ السلام سے ) کہ آپ کے حق میں کوئی گواہی بھی دے سکتا ہے ؟ وہ کہیں گے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کی امت میری گواہ ہے ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ان کے حق میں گواہی دے گی کہ انہوں نے پیغام پہنچا دیا تھا اور رسول ( یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنی امت کے حق میں گواہی دیں گے ( کہ انہوں نے سچی گواہی دی ہے ) یہی مراد ہے اللہ کے اس ارشاد سے «وكذلك جعلناكم أمة وسطا لتكونوا شهداء على الناس ويكون الرسول عليكم شهيدا» کہ ” اور اسی طرح ہم نے تم کو امت وسط بنایا تاکہ تم لوگوں کے لیے گواہی دو اور رسول تمہارے لیے گواہی دیں ۔ “ آیت میں لفظ «وسط» کے معنی عادل ، منصف ، بہتر کے ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
وسط کے معنی بہتر کے ہیں۔
عرب لوگ کہتے ہیں۔
فلان وسط في قومه۔
یعنی فلاں اپنی قوم میں سب سے بہتر آدمی ہے۔
ابو معاویہ کی روایت میں اتنازیادہ ہے کہ پر ور دگا ر پوچھے گا تم کو کیسے معلوم ہوا، وہ عرض کریں گے ہمارے رسول کریم ﷺ نے ہم کو خبر دی تھی کہ اگلے پیغمبروں نے اپنی اپنی امتوں کو اللہ کے حکم پہنچا دئیے اور ان کی خبر سچی ہے۔
اس حدیث سے یہ قانون نکلا کہ اگر سنی ہوئی بات کا یقین ہوجا ئے تو اس کی گواہی دینا درست ہے۔
1۔
ایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس امت سے دریافت کرے گا۔
"تمھیں اس بات کا علم کیسے ہوا۔
؟" وہ عرض کریں گے ہمیں رسول اللہ ﷺ نے خبر دی تھی کہ تمام رسولوں نے اپنی اپنی امت کو اللہ کا حکم پہنچا دیا تھا۔
ان کی خبر صحیح تھی۔
اس پر ہم نے حضرت نوح ؑ کی تصدیق کردی۔
(مسند أحمد: 58/3)
2۔
اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ گواہی کے لیے کسی چیز کا مشاہدہ ضروری نہیں بلکہ کسی امر کے متعلق علم و اطلاع ہو نا ہی کافی ہے وگرنہ اس مات کے لوگ حضرت نوح ؑ کے متعلق کیونکر گواہی دیں گے کہ وہ حق پر ہیں کیا یہ لوگ اس وقت وہاں موجود تھے؟ انھیں اس کا علم رسول اللہ ﷺ کے ذریعے سے ہوا اور اس علم کی بنیاد پر انھوں نے گواہی دی۔
3۔
واضح رہے کہ وسط کے لغوی معنی تو درمیان کے ہیں لیکن یہ لفظ بہتر اور افضل کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے جیسا کہ امام بخاری ؒ نے حدیث کے آخر میں اس کی وضاحت کی ہے یعنی جس طرح تمھیں سب سے بہتر قبلہ عطا کیا گیا ہے اسی طرح تمھیں تمام امتوں سے افضل بنایا گیا ہے۔
وسط کے ایک معنی اعتدال بھی کیے گئے ہیں یعنی تم معتدل اور افراط و تفریط سے پاک ہو۔
یہ معنی اسلامی تعلیمات کے اعتبار سے ہیں یعنی دینی معامالات میں نہ تو عیسائیوں کی طرح غلو کا شکار ہیں اور نہ یہودیوں کی طرح تقصیر ہی کے مرتکب ہیں۔
(فتح الباري: 217/8)
صحیح بخاری کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وسط کے یہ معنی مرفوع حدیث کا حصہ ہیں جیسا کہ کتاب الاعتصام میں وسطاً عدلاً کے الفاظ ہیں۔
(صحیح البخاري، الاعضام بالکتاب والسنة، حدیث: 7349)
1۔
قرآن کریم میں ہے۔
آج ہم ان کی زبانوں پر مہر لگادیں گے تاکہ وہ بات نہ کر سکیں۔
(یٰس 36۔
65)
سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ان کی زبان بندی ہوگی تو وہ اللہ کے حضور کلام کیسے کریں گے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قیامت کے دن لوگ کئی قسم کے حالات سے دوچار ہوں گے۔
ایک وقت ایسا ہوگا کہ وہ باتیں کریں گے اور ایک وقت ایسا آئے گا کہ ان کی زبانوں پر مہر لگا دی جائے گی اور ان کے اعضاء ان کے خلاف گواہی دے گے۔
2۔
اس حدیث میں بھی حضرت نوح ؑ کا ذکر خیر ہے لہٰذا اسے مذکورہ عنوان کے تحت ذکر کیا گیا ہے۔
مثلاً ایک شخص کسی کا بیٹا ہو اور سب لوگوں میں مشہور ہو تو یہ گواہی دے سکتے ہیں کہ وہ فلاں شخص کا بیٹا ہے حالانکہ اس کو پیدا ہوتے وقت آنکھ سے نہیں دیکھا۔
اس آیت سے بعضوں نے یہ نکالا ہے کہ اجماع حجت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو امت عادلہ فرمایا اور یہ ممکن نہیں کہ ساری امت کا اجماع نا حق اور باطل پر ہو جائے۔
1۔
ہم لوگوں نے حضرت نوح علیہ السلام یا ان کی امت کونہیں دیکھا مگرقیامت کے دن یقین کےساتھ گواہی دیں گے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی اُمت کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچادیا تھا۔
ہمیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتانے سے اس حقیقت کا پتا چلا ہے، جو بات تواتر کے ساتھ سنی جائے وہ دیکھی ہوئی چیز کی طرح ہوتی ہے اور اس کے متعلق گواہی بھی دی جا سکتی ہے۔
مثلاً: ایک شخص کا بیٹا ہے اور سب لوگوں کو اس کا علم ہوتو وہ اس کے متعلق گواہی دے سکتے ہیں کہ فلاں شخص فلاں کا بیٹا ہے، حالانکہ کسی نے اسے پیدا ہوتے ہوئے اپنی آنکھ سے نہیں دیکھا۔
2۔
اس آیت کریمہ سے بعض حضرات نے حجیت اجماع کو ثابت کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس اُمت کو اُمت وَسَط، یعنی عدل پسند فرمایا ہے اور یہ ممکن نہیں کہ ساری اُمت کا اجماع کسی باطل یا ناحق چیز پر ہو جائے، چنانچہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے عنوان میں اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کیونکہ آیت کریمہ میں اس امت مرحومہ کا وصف "وَسَط" بیان ہوا ہے۔
اس سے مراد ان کا عدل پسند ہونا ہے، اس لیے اہل جہالت اور اہل بدعت قطعاً اس وصف کے لائق نہیں ہیں تو معلوم ہوا کہ اس سے مراد حقیقی اہل سنت والجماعت کے لوگ (اہل حدیث)
ہیں اور وہ حقیقی علم شرعی کے حاملین ہیں۔
3۔
احادیث میں جماعت سے چمٹے رہنے کا حکم ہے۔
شارح صحیح بخاری ابن بطال نے کہا ہے کہ اس عنوان میں جماعت کو مضبوطی سے پکڑے رکھنے کی ترغیب ہے۔
واللہ أعلم۔
(فتح الباري: 387/13)
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «وكذلك جعلناكم أمة وسطا» " ہم نے اسی طرح تمہیں عادل امت بنایا ہے " (البقرہ: ۱۴۳) کے سلسلے میں فرمایا: " «وسط» سے مراد عدل ہے " (یعنی انصاف پسند)۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 2961]
وضاحت:
1؎:
ہم نے اسی طرح تمہیں عادل امت بنایا ہے (البقرۃ: 143)