صحيح البخاري
كتاب تفسير القرآن— کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
بَابُ وَ {قَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا سُبْحَانَهُ} : باب: اللہ تعالیٰ کے ارشاد «وقالوا اتخذ الله ولدا سبحانه» کی تفسیر میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ , حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قالَ : " قَالَ اللَّهُ : كَذَّبَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ ، وَشَتَمَنِي وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ ، فَأَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ فَزَعَمَ أَنِّي لَا أَقْدِرُ أَنْ أُعِيدَهُ كَمَا كَانَ ، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ ، فَقَوْلُهُ لِي وَلَدٌ فَسُبْحَانِي أَنْ أَتَّخِذَ صَاحِبَةً أَوْ وَلَدًا " .´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہیں عبداللہ بن ابی حسین نے ، ان سے ان سے نافع بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ، ابن آدم نے مجھے جھٹلایا حالانکہ اس کے لیے یہ مناسب نہ تھا ۔ اس نے مجھے گالی دی ، حالانکہ اس کے لیے یہ مناسب نہ تھا ۔ اس کا مجھے جھٹلانا تو یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ میں اسے دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں ہوں اور اس کا مجھے گالی دینا یہ ہے کہ میرے لیے اولاد بتاتا ہے ، میری ذات اس سے پاک ہے کہ میں اپنے لیے بیوی یا اولاد بناؤں ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
ان کی تر دید میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی بہت سی مشرک قوموں میں قوموں میں ایسے غلط تصورات مختلف شکلوں میں آج بھی موجود ہیں۔
مگر یہ سب تصورات باطلہ ہیں۔
اللہ کی ذات کے بارے میں صحیح ترین تصور وہی ہے جو اسلام نے پیش کیا ہے جس کا ذکر سورۃ اخلاص میں ہے۔
1۔
خیبر کے یہودی حضرت عزیرؑ کو اللہ کا بیٹا نجران کے عیسائی حضرت عیسیٰ ؑ کو فرزند الٰہی اور مکہ کے کافر ومشرک فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے۔
ان کی تردید میں اللہ تعالیٰ نے مذکورہ بالا آیات نازل فرمائی۔
(فتح الباری: 210/8)
آج بھی بہت سی قوموں میں اللہ تعالیٰ کے متعلق اس قسم کے غلط تصورات مختلف شکلوں میں موجود ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق صحیح ترین عقیدہ وہی ہے جو قرآن کریم نے سورہ اخلاص میں بیان کیا ہے۔
2۔
اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرنے کو گالی سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ اس عقیدے سے اللہ تعالیٰ کی توہین اور تنقیص ہوتی ہے، وہ اس طرح کہ بچے کے لیے والدہ کا ہونا ضروری ہے جو اس کا حمل اٹھائے، پھر اسے جنم دے، نیز اس سے پہلے نکاح کا ہونا بھی ضروری ہے نکاح کرنے والے میں صنفی جذبات بھی ہونے چاہئیں تاکہ میاں بیوی کے ملاپ سے بچے کی پیدائش ممکن ہو۔
ان تمام باتوں سے اللہ پاک ہے۔
اس کی نہ بیوی ہے اور نہ اس کی کوئی اولاد ہے۔
وہ اکیلا ہے اور بیوی بچوں سے بے نیاز ہے۔
3۔
یہ قدسی حدیث ہے یعنی اسے رسول اللہ ﷺ رب العالمین سے بیان کرتے ہیں قدسی حدیث اور قرآن کریم میں حسب ذیل فرق ہے۔
قرآن کریم کے الفاظ اور معانی دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں جبکہ حدیث قدسی میں معانی تو اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور ان معانی کو رسول اللہ ﷺ اپنے الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔
قرآن کریم کی تلاوت عبادت ہے جبکہ حدیث قدسی کا پڑھنا عبادت شمار نہیں ہوتا بلکہ ایک عام اچھا عمل ہے۔
قرآن کریم کو نماز میں پڑھا جاتا ہے لیکن حدیث قدسی کو نماز میں پڑھنا درست نہیں۔
قرآن کریم کے لیے متواتر ہونا شرط ہے مگر حدیث کے ثبوت کے لیے تواتر شرط نہیں۔
«. . . وَفِي رِوَايَة عَن ابْنِ عَبَّاسٍ: " وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ فَقَوْلُهُ: لِي وَلَدٌ وَسُبْحَانِي أَنْ أَتَّخِذَ صَاحِبَةً أَوْ وَلَدًا " . . .»
”. . . اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ اس کا مجھے برا بھلا کہنا، اس کا یہ کہنا ہے کہ میری اولاد ہے حالانکہ میں اس سے پاک ہوں کہ میں بیوی یا اولاد والا بنوں۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 21]
[صحیح بخاری 4482]
فقہ الحدیث
➊ عیسائی پولسی حضرات یہ کہتے پھرتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں، حالانکہ عیسیٰ علیہ السلام کنواری مریم علیہا السلام سے پیدا ہوئے۔ آپ اولاد آدم میں سے، اور داود علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ صلیب کے پجاری عیسائی حضرات سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا کہنے اور سمجھنے کی وجہ سے خدا کو گالیاں دیتے ہیں۔
➋ مشرک شرک کرتا ہے اور اپنے شرک کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو گالیاں دیتا ہے۔
➌ تمام اہل اسلام اور متبعین انبیاء کرام کا یہی عقیدہ ہے کہ قیامت کے بعد تمام انسانوں کو زندہ کیا جائے گا اور اللہ کے دربار میں پیش کیا جائے گا۔ جو شخص اس عقیدے کا انکار کرتا ہے وہ اپنے خالق و مالک، اللہ تبارک و تعالیٰ کو جھوٹا سمجھتا ہے، اور یہ بات عام لوگوں کو بھی معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کو جھوٹا سمجھنے والا شخص کائنات کا بدترین کافر ہے۔
➍ یہ حدیث ان احادیث میں سے ہے جنہیں احادیث قدسیہ کہتے ہیں۔ یہ احادیث تقریباً ایک سو سے زیادہ ہیں۔ حدیث قدسی اور قرآن مجید میں یہ فرق ہے کہ حدیث قدسی وحی غیر متلو ہے جو الہام، خواب یا فرشتے کے ذریعے سے بالمعنی یا باللفظ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی طرف سے بتائی گئی ہے، جبکہ قرآن مجید سارے کا سارا وحی متلو ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ جبرئیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نازل کیا گیا ہے۔ قرآن مجید کا ہر لفظ، اللہ کا کلام ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک متواتر ہے۔ نیز دیکھئے: [مرعاة المفاتيح 1؍83]
➎ اللہ رب العزت کتنا بےنیاز ہے کہ وہ ان لوگوں کو بھی دنیا میں ڈھیل دے رہا ہے، جو اسے گالیاں دیتے ہیں اور اس کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہ ڈھیل ان لوگوں کی موت تک ہے۔ مرنے کے بعد وہ ہمیشہ ہمیشہ دکھ دینے والے عذاب میں مبتلا کر دیئے جائیں گے اور انہیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں ہو گا۔
➏ سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایتوں کے مفہوم میں کوئی فرق نہیں ہے، بس الفاظ میں معمولی اختلاف ہے۔ ہر ایک نے جو سنا ہے وہ یاد رکھا ہے، لہٰذا معلوم ہوا کہ ایک روایت میں ایک چیز کا ذکر ہو اور دوسری میں ذکر نہ ہو تو عدم ذکر نفی ذکر کی دلیل نہیں ہوتا۔
➐ روایت بالمعنی بھی جائز ہے۔