صحيح البخاري
كتاب تفسير القرآن— کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
بَابُ: {وَإِذْ قُلْنَا ادْخُلُوا هَذِهِ الْقَرْيَةَ فَكُلُوا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ نَغْفِرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ وَسَنَزِيدُ الْمُحْسِنِينَ} : باب: آیت کی تفسیر ”اور جب ہم نے کہا کہ اس بستی میں داخل ہو جاؤ اور پوری کشادگی کے ساتھ جہاں چاہو اپنا رزق کھاؤ اور دروازے سے جھکتے ہوئے داخل ہونا، یوں کہتے ہوئے کہ اے اللہ! ہمارے گناہ معاف کر دے تو ہم تمہارے گناہ معاف کر دیں گے اور خلوص کے ساتھ عمل کرنے والوں کے ثواب میں ہم زیادتی کریں گے“۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ , عَنْ مَعْمَرٍ , عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " قِيلَ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ سورة البقرة آية 58 ، فَدَخَلُوا يَزْحَفُونَ عَلَى أَسْتَاهِهِمْ فَبَدَّلُوا ، وَقَالُوا حِطَّةٌ حَبَّةٌ فِي شَعَرَةٍ " .´مجھ سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے ، ان سے عبداللہ بن مبارک نے ، ان سے معمر نے ، ان سے ہمام بن منبہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کو یہ حکم ہوا تھا کہ شہر کے دروازے میں جھکتے ہوئے داخل ہوں اور «حطة» کہتے ہوئے ( یعنی ) ” اے اللہ ! ہمارے گناہ معاف کر دے ۔ “ لیکن وہ الٹے چوتڑوں کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے اور کلمہ «حطة» کو بھی بدل دیا اور کہا کہ «حبة في شعرة» یعنی دل لگی کے طور پر کہنے لگے کہ ” دانہ بال کے اندر ہونا چاہیے ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
نتیجہ یہ ہوا کہ عذاب میں گرفتار ہوئے۔
ایسے گستاخوں کی یہی سزاہے۔
1۔
اس حدیث سے بنی اسرائیل کی شر کشی اور احکام الٰہی سے استہزاء کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
ان ظالموں نے تعمیل حکم کے بجائے کردارو گفتا ر دونوں میں مخالفت کی اور دنیا طلبی میں لگ گئے۔
اس پر استزاد یہ کہ وہ تحریف کے بھی مرتکب ہوئے چنانچہ وہ اس جرم کی پاداش میں سنگین سزا سے دوچار ہوئے۔
ان پر طاعون کا عذاب آیا۔
2۔
واقعہ یہ ہے کہ جب کوئی قوم اخلاق و کردار کے لحاظ سے اس حد تک زوال پذیر ہو جائے تو پھر قانون الٰہی کے مطابق انھیں صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے۔
1۔
قرآن کریم میں ہے: "پھر ان ظالموں نے اس بات کو بدل ڈالا جو ان سے کہی گئی تھی تو ہم نے بھی ان ظلم پیشہ لوگوں پر ان کے فسق ونافرمانی کی وجہ سے آسمانی عذاب نازل کیا۔
" (البقرة: 59/2)
بہرحال ان بدبختوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی پوری پوری نافرمانی کی۔
فتح کے بعد ان میں عجزوانکسار کے بجائے فخروگھمنڈ پیدا ہوگیا اور وہ اترانے لگے۔
2۔
اس واقعے سے ان کی نافرمانی اور سرکشی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے جو ان کے اندر پیدا ہوگئی تھی اور احکام الٰہی سے تمسخر اور استہزاء کا بھی پتہ چلتا ہے، واقعہ یہ ہے کہ جب کوئی قوم اخلاق و کردار کے لحاظ سے زوال پذیر ہوجائے تو اس کا معاملہ احکام الٰہیہ کے ساتھ اسی طرح کا ہوجاتا ہے جیسا کہ بنی اسرائیل نے کیا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے انھیں اس خلاف ورزی کی پاداش میں طاعون جیسے موذی مرض میں مبتلا کردیا جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’یہ طاعون اسی رجز اورعذاب کاحصہ ہے جو تم سے پہلے کچھ لوگوں پر نازل ہوا۔
‘‘ (صحیح مسلم، السلام، حدیث: 5772(2218)
1۔
بنی اسرائل سے کہا گیا تھا کہ جب تم بیت المقدس میں داخل ہو تو سر جھکاتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے گناہوں کی معافی مانگتے ہوئے اندرجاؤ لیکن انھوں نےسارا پروگرام ہی تبدیل کردیا۔
سرجھکانےکے بجائے اکڑ اکڑ کر داخل ہوئے اور زبان سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کی بجائے مہمل کلام بکنے لگے۔
یہ ان کی نادانی اور سرکشی تھی اور ان کا مقصد اللہ کے حکم کی مخالفت کرنا تھا۔
اس بنا پر وہ اللہ کے غضب میں گرفتار ہوئے۔
ان پر طاعون کی بیماری مسلط کردی گئی چنانچہ ستر ہزار بنی اسرائیل ایک گھڑی میں لقمہ اجل بن گئے۔
2۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ انسان کو ہمیشہ عجز و انکسار اختیار کرتے ہوئےاللہ سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرنی چاہیے ان پر اصرار کرتے ہوئے اکڑنا اللہ کی طرف سے عذاب کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
أعاذنا اللہ منها۔
کی جمع ہے۔
اور دروازہ کس بستی یا شہر کا تھا، اس کے بارے میں اختلاف ہے، حافظ ابن کثیر نے بیت المقدس دروازہ مرادلیا، بعض نے کہا باب لداوربعض نے باب اریحاء اور بعض نے کہا کوئی مصری شہر مراد ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «ادخلوا الباب سجدا» ” اور جھکے جھکے دروازہ میں داخل ہونا “ (البقرہ: ۵۸) کے بارے میں فرمایا: ” بنی اسرائیل چوتڑ کے بل کھسکتے ہوئے داخل ہوئے۔“ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 2956]
وضاحت:
1؎:
اور جھکے جھکے دروازہ میں داخل ہونا (البقرۃ: 58)