حدیث نمبر: 4468
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ , عَنْ الْفُضَيْلِ بْنِ سُلَيْمَانَ , حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ أَبِيهِ ، اسْتَعْمَل النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ , فَقَالُوا فِيهِ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ بَلَغَنِي أَنَّكُمْ قُلْتُمْ فِي أُسَامَةَ وَإِنَّهُ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ " .
مولانا داود راز

´ہم سے ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے بیان کیا ، کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا ، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ، ان سے سالم نے اور ان سے ان کے والد ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ) نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو ایک لشکر کا امیر بنایا تو بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے ان کی امارت پر اعتراض کیا ۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم اسامہ رضی اللہ عنہ پر اعتراض کر رہے ہو حالانکہ وہ مجھے سب سے زیادہ عزیز ہے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4468
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة