صحيح البخاري
كتاب المغازي— کتاب: غزوات کے بیان میں
بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، قَالَ : ذُكِرَ عِنْدَ عَائِشَةَ : " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَى إِلَى عَلِيٍّ ، فَقَالَتْ : مَنْ قَالَهُ ؟ لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنِّي لَمُسْنِدَتُهُ إِلَى صَدْرِي ، فَدَعَا بِالطَّسْتِ فَانْخَنَثَ فَمَاتَ ، فَمَا شَعَرْتُ ، فَكَيْفَ أَوْصَى إِلَى عَلِيٍّ ؟ " .´ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، کہا ہم کو ازہر بن سعد سمان نے خبر دی ، کہا ہم کو عبداللہ بن عون نے خبر دی ، انہیں ابراہیم نخعی نے اور ان سے اسود بن یزید نے بیان کیا کہ` عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے اس کا ذکر آیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو کوئی ( خاص ) وصیت کی تھی ؟ تو انہوں نے بتلایا کون کہتا ہے ، میں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھی ، آپ میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے ، آپ نے طشت منگوایا ، پھر ایک طرف جھک گئے اور آپ کی وفات ہو گئی ۔ اس وقت مجھے بھی کچھ معلوم نہیں ہوا ، پھر علی رضی اللہ عنہ کو آپ نے کب وصی بنا دیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
وصیت اگر ہو سکتی تھی تو زندگی کے آخری لمحات میں ہو سکتی تھی۔
آخری وقت کی وصیت کا حضرت عائشہ ؓ انکار کر رہی ہیں اس کے باوجود اگر رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے کوئی وصیت کی ہوتی تو صحابہ میں سے کسی نے تو اسے سنا ہوتا۔
کوئی اسے بیان کرتا، حالانکہ کتب حدیث میں وصیت مزعومہ کے متعلق کوئی بھی روایت وحکایت منقول نہیں ہے۔
ایسے حالات میں حضرت علی ؓ "وصي رسول اللہ" کیسے بن گئے؟ 2۔
خود حضرت علی ؓ کی تصریحات ہیں کہ وصیت کے متعلق ہماری کوئی خصوصیت نہیں ہے۔
حضرت علی ؓ اپنا صحیفہ دکھایا کرتے تھے جس میں احکام صدقات ودیات وغیرہ تھے۔
اس میں بھی خلافت وغیرہ کا کوئی ذکر نہیں تھا۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (مرض الموت میں) علی رضی اللہ عنہ کو وصی بنایا، حقیقت یہ ہے کہ آپ نے تھال منگوایا کہ اس میں پیشاب کریں، مگر (اس سے قبل ہی) آپ کا جسم ڈھیلا پڑ گیا۔ (آپ فوت ہو گئے) مجھے پتہ بھی نہ چلا، تو آپ نے کس کو وصیت کی؟ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 33]
➋ اس حدیث میں وصیت سے وصیت خلافت مراد ہے جیسا کہ روا فض کا عقیدہ ہے، اسی لیے وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ’’وصی“ کہتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا مقصد یہ ہے کہ وصیت تو وفات کے وقت ہوتی ہے اور اس وقت آپ کا سر مبارک میری گود میں تھا۔ وہیں آپ کی وفات ہوئی۔ [صحیح البخاري، الجنائز، حدیث: 1389]
لہٰذا وصیت کب کی؟ اور کس کو کی؟ یعنی آپ نے کوئی وصیت نہیں کی، نہ آپ کو اس کا موقع ہی ملا۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو وصیت کی (اس وقت آپ کی حالت اتنی خراب تھی کہ) آپ نے پیشاب کرنے کے لیے طشت منگوایا کہ اتنے میں آپ کے اعضاء ڈھیلے پڑ گئے (روح پرواز کر گئی) اور میں نہ جان سکی تو آپ نے کس کو وصیت کی؟ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3654]
امیمہ بنت رقیقہ بیان کرتی ہیں: «كَانَ لِلنَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَدَحٌ مِنْ عِيْدَانِ تَحْتَ سَرِيرِهِ يَبُولُ فيه بالليل»
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چارپائی کے نیچے کھجور کی لکڑی کا برتن تھا، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت پیشاب کرتے تھے۔“
[ابوداؤد: 24، نسائي: 32، صحيح الجامع: 4832، صحيح]
شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ حدیث دلیل ہے کہ رات کے وقت پیشاب کے لیے برتن رکھنا جائز ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
[نيل الاوطار: 99/1]