صحيح البخاري
كتاب المغازي— کتاب: غزوات کے بیان میں
بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، وَزَادَ قَالَتْ عَائِشَةُ : لَدَدْنَاهُ فِي مَرَضِهِ فَجَعَلَ يُشِيرُ إِلَيْنَا أَنْ لَا تَلُدُّونِي ، فَقُلْنَا : كَرَاهِيَةُ الْمَرِيضِ لِلدَّوَاءِ ، فَلَمَّا أَفَاقَ ، قَالَ : " أَلَمْ أَنْهَكُمْ أَنْ تَلُدُّونِي ؟ " قُلْنَا : كَرَاهِيَةَ الْمَرِيضِ لِلدَّوَاءِ ، فَقَالَ : " لَا يَبْقَى أَحَدٌ فِي الْبَيْتِ إِلَّا لُدَّ ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَّا الْعَبَّاسَ فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْكُمْ " . رَوَاهُ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .´ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ۔ کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا عبداللہ بن ابی شیبہ کی حدیث کی طرح ، لیکن انہوں نے اپنی اس روایت میں یہ اضافہ کیا کہ` عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض میں ہم آپ کے منہ میں دوا دینے لگے تو آپ نے اشارہ سے دوا دینے سے منع کیا ۔ ہم نے سمجھا کہ مریض کو دوا پینے سے ( بعض اوقات ) جو ناگواری ہوتی ہے یہ بھی اسی کا نتیجہ ہے ( اس لیے ہم نے اصرار کیا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گھر میں جتنے آدمی ہیں سب کے منہ میں میرے سامنے دوا ڈالی جائے ۔ صرف عباس رضی اللہ عنہ اس سے الگ ہیں کہ وہ تمہارے ساتھ اس کام میں شریک نہیں تھے ۔ اس کی روایت ابن ابی الزناد نے بھی کی ، ان سے ہشام نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
منہ کے ایک کنارے سے دوائی ڈالنے کو لدود، جو دوائی حلق میں ڈالی جائے اسے وجور اور جو ناک میں ڈالی جائے اسے سعوط کہا جاتا ہے۔
آپ کو نمونیا کی شکایت تھی۔
حضرت اُم سلمہ ؓ اور حضرت اسماء بنت عمیس ؓ نے کہا کہ قسط ہندی کو تیل میں ملا کر لدود کیا جائے۔
چنانچہ بصورت لدود آپ کو دوادی گئی تو آپ نے فرمایا۔
یہ عورتوں کا ٹوٹکا ہے۔
میرے روکنے کے باوجود تم نے ایسا کیا ہے اب تمھارے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جائے گا حتی کہ اُم المومنین حضرت میمونہ ؓ روزے کی حالت میں تھیں ان کے ساتھ بھی یہ برتاؤ کیا گیا۔
2۔
واضح رہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تمام اہل خانہ کو ادب سکھانے کے لیے بصورت لدود ان کے منہ میں دوا ڈالنے کا حکم دیا، تاکہ آئندہ ایسی حرکت نہ کریں۔
یہ اقدام قصاص یا انتقام کی وجہ سے نہ تھا۔
(فتح الباري: 185/8)
(1)
یہ مرض وفات کا واقعہ ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روکنے کے باوجود تمام اہل خانہ نے آپ کے منہ میں زبردستی دوا ڈال دی تو آپ نے بدلے کے طور پر تمام اہل مجلس کے منہ میں دوائی ڈالنے کا حکم دیا۔
چونکہ حضرت عباس رضی اللہ عنہما اس وقت وہاں موجود نہ تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اس سزا سے الگ رکھا۔
(2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: اس حدیث میں اشارہ ہے کہ اگر عورت کسی مرد کو کو زخمی کرتی ہے تو اس سے بھی بدلہ لیا جائے گا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں مرد اور عورتیں ہر قسم کے لوگ تھے، چنانچہ بعض روایات میں تصریح ہے کہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہما کے منہ میں بھی دوائی ڈالی گئی تھی، حالانکہ وہ روزے سے تھیں کیونکہ وہ بھی اس مجلس میں موجود تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمومی امر دیا تھا جس کی زد میں وہ بھی آگئیں۔
(فتح الباري: 268/12)
اس حدیث سے اگرچہ صاف طور پر قصاص ثابت نہیں ہوتا، تاہم یہ بات واضح ہے کہ ایک کام میں جو حضرات شریک تھے ان سب سے قصاص لیا گیا یا انھیں سزا دی گئی۔
بہرحال جب معمولی اشیاء میں قصاص ہے تو بڑے بڑے کاموں میں اگر کئی لوگ شریک ہو جائیں تو ان سے بطریق اولی قصاص لیا جائے گا، جیسے: قتل اور چوری وغیرہ میں تمام شرکاء کو قصاص میں شامل کیا جائے گا۔
واللہ أعلم
لددنا: ہم نے(آپ کی مرضی کےخلاف)
آپ کے منہ ایک طرف سے دوائی پلائی، کیونکہ لدود، اس دوا کو کہتے ہیں، جو منہ کے ایک جانب سے دی جائے۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے، سمجھ میں آنے والا، اشارہ تصریح کے قائم مقام ہے، چونکہ لُدُود، آپ کی بیماری کے مناسب نہ تھا، اس لیے آپ نے اس سے منع فرمایا، لیکن ازواج مطہرات نے خیال کیا، آپﷺ بیمار ہونے کے باعث دوا لینا پسند نہیں کر رہے، اس لیے انہوں نے آپ کے حکم پر عمل نہ کیا تو آپ نے آئندہ حرکت سے باز رہنے کے لیے تادب و سرزنش کے طور پر سب حاضرین کو لدود کروایا، یہ قصاص یا انتقام کے جذبہ کے تحت نہ تھا، کیونکہ آپ کا معمول تو عفو و درگزر تھا، انتقام لینا نہ تھا، اس سے معلوم ہوتا ہے، لدود کو ناپسند کرنا مخصوص حالات و ظروف کی بنا پر تھا، اس لیے اس سے لدود کی ناپسندیدگی پر استدلال زیادہ وزنی نہیں ہے۔