صحيح البخاري
كتاب المغازي— کتاب: غزوات کے بیان میں
بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان۔
حدیث نمبر: 4457
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ،عَنْ عَائِشَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ : " أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَبَّلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَوْتِهِ " .مولانا داود راز
´مجھ سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا ، ان سے سفیان بن عیینہ نے ، ان سے موسیٰ بن ابی عائشہ نے ، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو بوسہ دیا تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
4457. حضرت عائشہ اور حضرت ابن عباس ؓ سے رویت ہے کہ نبی ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر ؓ نے آپ کو بوسہ دیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4457]
حدیث حاشیہ:
1۔
حضرت ابو بکر ؓ نے رسول اللہ ﷺ کی پیشانی پر اپنا منہ رکھا اور بوسہ دیا، پھر روتے ہوئے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ تو حیات و ممات میں پاکیزہ ہیں۔
2۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابو بکر ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو چھوا تو لوگوں نے عرض کی: اے رسول اللہ ﷺ کے ساتھی! کیا رسول اللہ ﷺ وفات پا چکے ہیں؟ حضرت ابو بکر ؓ نے فرمایا: جی ہاں آپ وفات پا چکے ہیں۔
(مجمع الزوائد: 217/5۔
وفتح الباري: 184/8)
1۔
حضرت ابو بکر ؓ نے رسول اللہ ﷺ کی پیشانی پر اپنا منہ رکھا اور بوسہ دیا، پھر روتے ہوئے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ تو حیات و ممات میں پاکیزہ ہیں۔
2۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابو بکر ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو چھوا تو لوگوں نے عرض کی: اے رسول اللہ ﷺ کے ساتھی! کیا رسول اللہ ﷺ وفات پا چکے ہیں؟ حضرت ابو بکر ؓ نے فرمایا: جی ہاں آپ وفات پا چکے ہیں۔
(مجمع الزوائد: 217/5۔
وفتح الباري: 184/8)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4457 سے ماخوذ ہے۔