حدیث نمبر: 4427
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ السَّائِبِ أَذْكُرُ أَنِّي خَرَجْتُ مَعَ الصِّبْيَانِ نَتَلَقَّى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ مَقْدَمَهُ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ.
مولانا داود راز

´ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے زہری نے اور ان سے سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے کہ` مجھے یاد ہے ، جب میں بچوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کرنے گیا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس تشریف لا رہے تھے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4427
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2779 | صحيح البخاري: 4426

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
4427. حضرت سائب بن یزید ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں بچوں کے ہمراہ ثنیۃ الوداع تک گیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی تبوک سے واپسی پر ہم آپ کا استقبال کرنے کے لیے نکلے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4427]
حدیث حاشیہ: حدیث بالا میں ثنیۃ الوداع تک استقبال کے لئیے جانا مذکور ہے۔
یہ غزوہ تبوک ہی کی واپسی پر ہوا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4427 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2779 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´مسافر کا استقبال کرنا۔`
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے مدینہ آئے تو لوگوں نے آپ کا استقبال کیا، تو میں بھی بچوں کے ساتھ آپ سے جا کر ثنیۃ الوداع پر ملا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2779]
فوائد ومسائل:
یہ ایک مستحب عمل ہے۔
بالخصوص مسافر جب جہاد سے واپس آرہا ہو یا حج سے۔
لیکن اس میں دکھلاوا یا شہرت کا دخل نہیں ہونا چاہیے۔
علماء محدثین کے متعلق بھی آتا ہے۔
کہ جب ان کی کسی شہر میں آمد متوقع ہوتی تو لوگ ان کا نہایت عمدہ انداز میں استقبال کرتے تھے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2779 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4426 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4426. حضرت سائب بن یزید ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں بچوں کے ہمراہ ثنیۃ الوداع تک گیا تھا۔ ہم رسول اللہ ﷺ کا استقبال کرنے کے لیے نکلے تھے۔ سفیان نے ایک مرتبہ (غلمان کے بجائے) صبيان کا لفظ بیان کیا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4426]
حدیث حاشیہ:

ابن قیم ؓ نے اس بات کا انکار کیا ہےثنیہ الوداع مکے کی جانب ہے تبوک کی طرف نہیں۔
تبوک سے مخالف سمت میں واقع ہے لیکن ممکن ہے کہ تبوک کی طرف ثنیہ الوداع ہو جہاں مسافروں کو الوداع کہنے اہل مدینہ جاتے تھے۔

امام بخاری ؒ نے اس حدیث سے اشارہ کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سربراہان مملکت کو غزوہ تبوک کے سال دعوتی خطوط لکھتےتھے اگرچہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے صلح حدیبیہ کے سال قیصر کے نام خطوط لکھاتھا ممکن ہے کہ اسے دو مرتبہ دعوتی خط لکھا ہو جیسا کہ سر براہ حبشہ نجاشی کو خط لکھا تو وہ مسلمان ہو گیا اور آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی اس کے بعد جو نجاشی بادشاہ بنا اسے بھی خط لکھا لیکن وہ مسلمان نہ ہوا بلکہ اسے کفر پر موت آئی۔
(فتح الباري: 162/6)
واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4426 سے ماخوذ ہے۔