صحيح البخاري
كتاب المغازي— کتاب: غزوات کے بیان میں
بَابُ قُدُومُ الأَشْعَرِيِّينَ وَأَهْلِ الْيَمَنِ: باب: قبیلہ اشعر اور اہل یمن کی آمد کا بیان۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " قَدِمْتُ أَنَا وَأَخِي مِنْ الْيَمَنِ فَمَكَثْنَا حِينًا مَا نُرَى ابْنَ مَسْعُودٍ وَأُمَّهُ إِلَّا مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ مِنْ كَثْرَةِ دُخُولِهِمْ وَلُزُومِهِمْ لَهُ " .´مجھ سے عبداللہ بن محمد اور اسحاق بن نصر نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابواسحاق عمرو بن عبداللہ نے ، ان سے اسود بن یزید نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ` میں اور میرے بھائی ابورحم یا ابوبردہ یمن سے آئے تو ہم ( ابتداء میں ) بہت دنوں تک یہ سمجھتے رہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کی والدہ ام عبداللہ رضی اللہ عنہما دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے ہیں کیونکہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں رات دن بہت آیا جایا کرتے تھے اور ہر وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا کرتے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
وہاں سے جعفر بن ابی طالب ؓ کے ساتھ ہو کر خدمت نبوی میں تشریف لائے۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ اپنے بھائی کے ہمراہ غزوہ خیبر کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تھے ان کے بھائی کی کنیت ابو رہم اور ابو بردہ ہے۔
اسی طرح حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی والدہ کا نام اُم عبد بنت عبدود ؓ ہے۔
اس حدیث سے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ اور ان کی والدہ ماجدہ کی فضیلت معلوم ہوتی ہے ان حضرات کا بکثرت رسول اللہ ﷺ کے گھر آنا جانا تھا اجنبی آدمی یہ خیال کرتا تھا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے اہل خانہ اور ان کے افراد ہیں۔
(عمدة القاري: 348/12)