مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 4365
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي صَخْرَةَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ الْمَازِنِيِّ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : أَتَى نَفَرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا بَنِي تَمِيمٍ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا ، فَرُئِيَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ ، فَجَاءَ نَفَرٌ مِنْ الْيَمَنِ ، فَقَالَ : " اقْبَلُوا الْبُشْرَى ، إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ " ، قَالُوا : قَدْ قَبِلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ .
مولانا داود راز

´ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ان سے ابوصخرہ نے ، ان سے صفوان بن محرز مازنی نے اور ان سے عمران بن حصین نے بیان کیا کہ` بنو تمیم کے چند لوگوں کا ( ایک وفد ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ” اے بنو تمیم ! بشارت قبول کرو ۔ “ وہ کہنے لگے کہ بشارت تو آپ ہمیں دے چکے ، کچھ مال بھی دیجئیے ۔ ان کے اس جواب پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر ناگواری کا اثر دیکھا گیا ، پھر یمن کے چند لوگوں کا ایک ( وفد ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ بنو تمیم نے بشارت نہیں قبول کی ، تم قبول کر لو ۔ انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم کو بشارت قبول ہے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4365
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3190 | صحيح البخاري: 4386 | سنن ترمذي: 3951

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
4365. حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: بنو تمیم کا وفد نبی ﷺ کے پاس حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا: ’’اے بنو تمیم! بشارت قبول کرو۔‘‘ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے ہمیں بشارت دی ہے مال بھی تو عطا فرمائیں۔ آپ ﷺ کے چہرے پر اس کے اثرات دیکھے گئے۔ پھر یمن سے ایک وفد آیا تو آپ نے فرمایا: ’’بنو تمیم نے تو بشارت کو قبول نہیں کیا تم ہی اس بشارت کو قبول کر لو۔‘‘ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے قبول کیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4365]
حدیث حاشیہ: آنحضرت ﷺ کی ناراضگی کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے جنت کی دائمی نعمتوں کی بشارت کو قبول نہ کیا اور دنیائے دنی کے طالب ہوئے۔
حالانکہ وہ اگر بشار ت نبوی کو قبول کر لےتے تو کچھ نہ کچھ دنیا بھی مل ہی جاتی مگر ﴿خسر الدنیا والآخرة﴾ کے مصداق ہوئے۔
یمن کی خوش قسمتی ہے کہ وہاں والوں نے بشارت نبوی کو قبول کیا۔
اس سے یمن کی فضیلت بھی ثابت ہوئی، مگر آج کل کی خانہ جنگی نے یمن کو داغدار کردیا ہے۔
اللهم ألف بین قلوب المسلمین، آمین۔
بنو تمیم سارے ہی ایسے نہ تھے یہ چند لوگ تھے جن سے یہ غلطی ہوئی باقی بنو تمیم کے فضائل بھی ہیں جیسا کہ آگے ذکر آرہا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4365 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
4365. حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: بنو تمیم کا وفد نبی ﷺ کے پاس حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا: ’’اے بنو تمیم! بشارت قبول کرو۔‘‘ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے ہمیں بشارت دی ہے مال بھی تو عطا فرمائیں۔ آپ ﷺ کے چہرے پر اس کے اثرات دیکھے گئے۔ پھر یمن سے ایک وفد آیا تو آپ نے فرمایا: ’’بنو تمیم نے تو بشارت کو قبول نہیں کیا تم ہی اس بشارت کو قبول کر لو۔‘‘ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے قبول کیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4365]
حدیث حاشیہ:
بنو تمیم کا پورا قبیلہ اس طرح کا نہ تھا، صرف چند افراد تھے جن سے یہ غلطی ہوئی۔
رسول اللہ ﷺ اس لیے ناراض ہوئے کہ ان لوگوں نے جنت کی دائمی نعمتوں کو ٹھکرا کردنیا کے حقیر مال کا مطالبہ کیا، حالانکہ اگروہ رسول اللہ ﷺ کی بشارت کو قبول کرلیتے توانھیں دنیا میں بھی بہت کچھ ملتا، البتہ اہل یمن کی خوش بختی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی بشارت کو قبول کیا۔
اس سے یمن اور اہل یمن کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4365 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3190 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3190. حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ بنو تمم کے کچھ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے ان سے فرمایا: ’’اے بنو تمیم!تم خوش ہوجاؤ۔‘‘ انھوں نے کہا کہ آپ نے ہمیں بشارت تو دے دی مال بھی دیجئے! اس سے آپ کے چہرے مبارک کا رنگ بدل گیا۔ پھر آپ کے پاس یمن کے کچھ لوگ آئے تو آپ نے ان سے فرمایا: ’’اے اہل یمن!تم بشارت قبول کرو، جبکہ بنو تمیم نے اسے قبول نہیں کیا۔‘‘ انھوں نے عرض کیا کہ ہم نے اسے قبول کیا۔ پھر نبی کریم ﷺ نے ابتدائے آفر مینش اور عرش سے متعلقہ باتیں بیان فرمائیں۔ اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے (مجھ سے) کہا: عمران! تمہاری اونٹنی بھاگ گئی ہے (تو میں اٹھ کر چلا گیا) لیکن میرے دل میں حسرت رہ گئی کہ کاش میں نہ اٹھتا تو بہتر ہوتا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3190]
حدیث حاشیہ: آنحضرت ﷺنے بنوتمیم کو اسلام لانے کی وجہ سے آخر کی بھلائی کی خوش خبری دی تھی۔
بنوتمیم کے لوگوں نے اپنی کم عقلی سے یہ سمجھا کہ آپ دنیا کا مال دولت دینے والے ہیں۔
ان کی اس سوچ سے آپ ﷺ کو دکھ ہوا۔
کہتے ہیں کہ یہ مانگے والا اقرع بن حابس نامی ایک جنگلی آدمی تھا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3190 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3190 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3190. حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ بنو تمم کے کچھ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے ان سے فرمایا: ’’اے بنو تمیم!تم خوش ہوجاؤ۔‘‘ انھوں نے کہا کہ آپ نے ہمیں بشارت تو دے دی مال بھی دیجئے! اس سے آپ کے چہرے مبارک کا رنگ بدل گیا۔ پھر آپ کے پاس یمن کے کچھ لوگ آئے تو آپ نے ان سے فرمایا: ’’اے اہل یمن!تم بشارت قبول کرو، جبکہ بنو تمیم نے اسے قبول نہیں کیا۔‘‘ انھوں نے عرض کیا کہ ہم نے اسے قبول کیا۔ پھر نبی کریم ﷺ نے ابتدائے آفر مینش اور عرش سے متعلقہ باتیں بیان فرمائیں۔ اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے (مجھ سے) کہا: عمران! تمہاری اونٹنی بھاگ گئی ہے (تو میں اٹھ کر چلا گیا) لیکن میرے دل میں حسرت رہ گئی کہ کاش میں نہ اٹھتا تو بہتر ہوتا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3190]
حدیث حاشیہ:

اہل یمن سے مراد وفد حمیرہےہے۔
اس سے مراد حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ اور ان کے ساتھی نہیں ہیں کیونکہ امام بخاری ؒ نے آئندہ ایک عنوان ان الفاظ میں قائم کیا ہے۔
(باب قدوم الأشعريين وأهل اليمن)
’’اشعر یین اور اہل یمن کے وفد کی آمد۔
‘‘ (صحیح البخاري، المغازي، باب: 75)
اس کا مطلب یہ ہے کہ اشعریین اور اہل یمن دونوں الگ ہیں اس کے علاوہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ 7 ہجری میں فتح خیبر کے وقت آئے تھے جبکہ اہل یمن 9 ہجری میں بطوروفد آئے تھے تاکہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کریں اور رسول اللہ ﷺ کے پاس بنو تمیم کے ساتھ اسی وفد کا اجتماع ہوا تھا اشریین بنو تمیم کے ساتھ جمع نہیں ہوئے۔
(فتح الباري: 122/8)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےبنو تمیم کو قبول اسلام کی وجہ سے اخروی کامیابی کی بشارت دی۔
انھوں نے اسے دنیا کے مال و متاع کی خوشخبری خیال کیا۔
رسول اللہ ﷺان کی حرص اور دنیا طلبی پر پریشان ہوئے یا اس لیے رنجیدہ ہوئے کہ وہ لوگ نئےنئے مسلمان تھے۔
ان کی تالیف قلبی کے لیے آپ کے پاس مال نہ تھا اس لیے آپ افسردہ ہوئے لیکن پہلی توجیہ زیادہ وزنی معلوم ہوتی ہے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3190 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4386 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
4386. حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ بنو تمیم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا: ’’اے بنو تمیم! تمہیں بشارت ہو۔‘‘ انہوں نے کہا: جب آپ نے ہمیں بشارت دی ہے تو مال بھی دیں۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کا چہرہ انور متغیر ہو گیا۔ اس کے بعد یمن سے کچھ لوگ آئے تو نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اہل یمن! تم ہی بشارت قبول کر لو جبکہ بنو تمیم نے قبول نہیں کی۔‘‘ انہوں نے عرض کی: اللہ کے رسول! ہم یہ بشارت قبول کرتے ہیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4386]
حدیث حاشیہ: یہ حدیث اوپر گذر چکی ہے۔
حافظ ابن حجر کہتے ہیں کہ اس میں یہ اشکا ل پیدا ہوتا ہے کہ بنوتمیم کے لوگ تو 9ھ میں آئے تھے اور اشعری اس سے پہلے 7ھ میں، اس کا جواب یوں دیا ہے کہ کچھ اشعری لوگ بنوتمیم کے بعد بھی آئے ہوں گے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4386 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4386 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4386. حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ بنو تمیم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا: ’’اے بنو تمیم! تمہیں بشارت ہو۔‘‘ انہوں نے کہا: جب آپ نے ہمیں بشارت دی ہے تو مال بھی دیں۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کا چہرہ انور متغیر ہو گیا۔ اس کے بعد یمن سے کچھ لوگ آئے تو نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اہل یمن! تم ہی بشارت قبول کر لو جبکہ بنو تمیم نے قبول نہیں کی۔‘‘ انہوں نے عرض کی: اللہ کے رسول! ہم یہ بشارت قبول کرتے ہیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4386]
حدیث حاشیہ:

امام بخاری ؓ نے اس حدیث کو انتہائی اختصار سے بیان کیا ہے جبکہ قبل ازیں یہ حدیث تفصیل سے بیان ہو چکی ہے۔
اس میں ہے کہ اہل یمن نے اس کائنات کے آغاز کے متعلق سوال کیا تھا۔
(صحیح البخاري، بدءالخلق، حدیث: 3119)

حافظ ابن حجر ؒ کہتے ہیں کہ اس حدیث میں یہ اشکال ہے کہ بنو تمیم کے لوگ تو 9ہجری میں مدینہ طیبہ آئے تھے جبکہ اشعری حضرات اس سے پہلے غزوہ خیبر کے موقع پر سات ہجری میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئےان کا اجتماع کیونکر ممکن ہے؟ پھر اس کا یوں جواب دیا ہے کہ کچھ اشعری حضرات غزوہ خیبر کے بعد بھی آئے ہوں گے۔
(فتح الباري: 123/8)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4386 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔