صحيح البخاري
كتاب المغازي— کتاب: غزوات کے بیان میں
بَابُ بَعْثُ أَبِي مُوسَى وَمُعَاذٍ إِلَى الْيَمَنِ قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ: باب: حجۃ الوداع سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ابوموسیٰ اشعری اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما کو یمن بھیجنا۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ : أَنَّ مُعَاذًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا قَدِمَ الْيَمَنَ صَلَّى بِهِمُ الصُّبْحَ ، فَقَرَأَ : وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلا سورة النساء آية 125 ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : لَقَدْ قَرَّتْ عَيْنُ أُمِّ إِبْرَاهِيمَ " ، زَادَ مُعَاذٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ ، فَقَرَأَ مُعَاذٌ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ سُورَةَ النِّسَاءِ ، فَلَمَّا ، قَالَ : وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلا سورة النساء آية 125 ، قَالَ رَجُلٌ خَلْفَهُ : قَرَّتْ عَيْنُ أُمِّ إِبْرَاهِيمَ .´ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے حبیب بن ابی ثابت نے بیان کیا ، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن میمون نے اور ان سے معاذ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` جب وہ یمن پہنچے تو یمن والوں کو صبح کی نماز پڑھائی اور نماز میں آیت «واتخذ الله إبراهيم خليلا» کی قرآت کی تو ان میں سے ایک صاحب ( نماز ہی میں ) بولے کہ ابراہیم کی والدہ کی آنکھ ٹھنڈی ہو گئی ہو گی ۔ معاذ بن معاذ بغوی نے شعبہ سے ، انہوں نے حبیب سے ، انہوں نے سعید سے ، انہوں نے عمرو بن میمون سے اس حدیث میں صرف اتنا بڑھایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ کو یمن بھیجا وہاں انہوں نے صبح کی نماز میں سورۃ نساء پڑھی جب اس آیت پر پہنچے «واتخذ الله إبراهيم خليلا» تو ایک صاحب جو ان کے پیچھے کھڑے ہوئے تھے کہا کہ ابراہیم کی والدہ کی آنکھ ٹھنڈی ہو گئی ہو گی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس شخص نے مسئلہ نہ جان کر نما ز میں بات کرلی ایسی نادانی کی حالت میں نماز فاسد نہیں ہوتی۔
1۔
جب حضرت معاز بن جبل ؓ یمن گئے تو حضرت عمرو بن میمون وہاں تھے، اس لیے انھوں نے حضرت معاذ ؓ کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی ہے۔
انھوں نے دو رجاہلیت اور دوراسلام دونوں کو پایا لیکن صحابیت کے شرف سے محروم رہے، اس قسم کے تابعی کو مخضرم کہا جاتاہے۔
2۔
مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کو جب اللہ تعالیٰ نے اپنامخلص دوست بنالیاتو ان کی والدہ ماجدہ کو بہت خوشی ہوئی کہ ان کا بیٹا خلیل اللہ ہوا۔
آنکھوں کا ٹھنڈا ہونا سرور اور خوشی سے کنایہ ہے۔
سرور کے آنسو ٹھنڈے ہوتے ہیں جبکہ حزن وملال کے آنسو گرم ہوتے ہیں۔
3۔
واضح رہے کہ اس شخص نے نادانستہ طور پر دوران نماز میں یہ الفاظ کہے یا وہ ابھی نماز میں داخل نہیں ہواتھا۔
اس لیے اسے اپنی نماز دہرانے کا حکم نہیں دیاگیا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت معاذ بن جبل ؓ نے اسے نماز دہرانے کا حکم دیا ہو لیکن وہ نقل نہیں کیا گیا۔
(فتح الباري: 81/8)
واللہ اعلم۔