صحيح البخاري
كتاب المغازي— کتاب: غزوات کے بیان میں
بَابُ بَعْثُ أَبِي مُوسَى وَمُعَاذٍ إِلَى الْيَمَنِ قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ: باب: حجۃ الوداع سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ابوموسیٰ اشعری اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما کو یمن بھیجنا۔
حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ هُوَ النَّرْسِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَائِذٍ ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ طَارِقَ بْنَ شِهَابٍ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَرْضِ قَوْمِي ، فَجِئْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنِيخٌ بِالْأَبْطَحِ ، فَقَالَ : " أَحَجَجْتَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " كَيْفَ ؟ " قُلْتَ : قَالَ : قُلْتُ : لَبَّيْكَ إِهْلَالًا كَإِهْلَالِكَ ، قَالَ : " فَهَلْ سُقْتَ مَعَكَ هَدْيًا ؟ " قُلْتُ : لَمْ أَسُقْ ، قَالَ : " فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَاسْعَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، ثُمَّ حِلَّ " ، فَفَعَلْتُ حَتَّى مَشَطَتْ لِي امْرَأَةٌ مِنْ نِسَاءِ بَنِي قَيْسٍ وَمَكُثْنَا بِذَلِكَ حَتَّى اسْتُخْلِفَ عُمَرُ .´ہم سے عباس بن ولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا ، ان سے ایوب بن عائذ نے ، ان سے قیس بن مسلم نے بیان کیا ، کہا میں نے طارق بن شہاب سے سنا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ` مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری قوم کے وطن ( یمن ) میں بھیجا ۔ پھر میں آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( مکہ کی ) وادی ابطح میں پڑاؤ کئے ہوئے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا : عبداللہ بن قیس ! تم نے حج کا احرام باندھا لیا ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں یا رسول اللہ ! آپ نے دریافت فرمایا کہ کلمات احرام کس طرح کہے ؟ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا ( کہ یوں کلمات ادا کئے ہیں ) ” اے اللہ میں حاضر ہوں ، اور جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا ہے ، میں نے بھی اسی طرح باندھا ہے ۔ “ فرمایا تم اپنے ساتھ قربانی کا جانور بھی لائے ہو ؟ میں نے کہا کہ کوئی جانور تو میں اپنے ساتھ نہیں لایا ۔ فرمایا تم پھر پہلے بیت اللہ کا طواف اور صفا اور مروہ کی سعی کر لو ۔ ان رکنوں کی ادائیگی کے بعد حلال ہو جانا ۔ میں نے اسی طرح کیا اور بنو قیس کی خاتون نے میرے سر میں کنگھا کیا اور اسی قاعدے پر ہم اس وقت تک چلتے رہے جب تک عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے ( اسی کو حج تمتع کہتے ہیں اور یہ بھی سنت ہے ) ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ کو رسول اللہ ﷺ نے 9ہجری میں حاکم بنا کر یمن بھیجا تھا اورحجۃ الوداع 10 ہجری میں ہوا۔
2۔
رسول اللہ ﷺ نے حج کرنے سے پہلے تمام عرب میں اعلان کردیا تھا کہ احکام حج سیکھنے کے لیے سب لوگ جمع ہوں اور تمام گورنروں کو بھی یہی حکم تھا۔
اس حکم کی تعمیل میں حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ تشریف لائے تو انھوں نے احرام باندھتے وقت یہ نیت کی تھی کہ جو احرام رسول اللہ ﷺ کا ہے وہی میراہے۔
لیکن رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ قربانی کا جانور تھ اور آپ نے حج قرآن کی نیت کی تھی جبکہ حضر ت ابوموسیٰ ؓ اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہیں لائے تھے۔
اس لیے آپ نے انھیں عمرہ کرکے احرام کھول دینے کا حکم دیا اور حج تمتع کرنے کی تلقین کی۔
حضرت عمر ؓ نے اپنے دورخلافت میں حج تمتع سے منع کردیاتھا۔
اس کی تفصیل کتاب الحج میں آچکی ہے۔
3۔
اس مقام پر اس حدیث کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ کو ان کی قوم کے ملک میں گورنربنا کر روانہ کیا تھا۔
واللہ اعلم۔
جن لوگوں کے ساتھ قربانی نہ تھی گو انہوں نے میقات سے حج کی نیت کی تھی مگر آنحضرت ﷺ نے حج کو فسخ کرکے ان کو عمرہ کرکے احرام کھولنے کا حکم دیا اور فرمایا اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی ایسا ہی کرتا، ابوموسیٰ ؓ اسی کے مطابق فتویٰ دیتے رہے کہ تمتع کرنا درست ہے اور حج کو فسخ کرکے عمرہ بنا دینا درست ہے، یہاں تک کہ حضرت عمر ؓ کا زمانہ آیا تو انہوں نے تمتع سے منع کیا۔
(وحیدی)
اس روایت سے باب کا مطلب یوں نکلا کہ جب آنحضرت ﷺ نے اس وقت تک احرام نہیں کھولا جب تک قربانی اپنی ٹھکانے نہیں پہنچ گئی یعنی منیٰ میں ذبح یا نحر نہیں کی گئی تو معلوم ہوا کہ قربانی حلق پر مقدم ہے اور باب کا یہی مطلب تھا۔
حضرت عمر ؓ نے اللہ کی کتاب سے یہ آیت مراد لی ﴿وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ﴾ (البقرة: 196)
اور اس آیت سے استدلال کرکے انہوں نے حج کو فسخ کرکے عمرہ بنا دینا اور احرام کھول ڈالنا ناجائز سمجھا حالانکہ حج کو فسخ کرکے عمرہ کرنا آیت کے خلاف نہیں ہے کیوں کہ اس کے بعد حج کا احرام باندھ کر اس کو پورا کرتے ہیں اور حدیث سے بھی استدلال صحیح نہیں اس لیے کہ آنحضرت ﷺ ہدی ساتھ لائے تھے اور جو شخص ہدی ساتھ لائے اس کو بے شک احرام کھولنا اس وقت تک درست نہیں جب تک ذبح نہ ہو لے لیکن کلام اس شخص میں ہے جس کے ساتھ ہدی نہ ہو۔
(وحیدی)
و مطابقتة للترجمة من قول عمر فیه لم یحل حتی بلغ الهدي محله لأن بلوغ الهدي محله یدل علی ذبح الهدي فلو تقدم الحلق علیه لصار متحللا قبل بلوغ الهدي محله و هذا هو الأصل و هو تقدیم الذبح علی الحلق و أما تأخیرہ فهو رخصة۔
(فتح)
(1)
امام بخاری ؒ نے اس روایت سے اس طرح عنوان ثابت کیا ہے کہ حضرت عمر ؓ کے فرمان کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے قربانی ذبح کرنے سے پہلے احرام نہیں کھولا۔
اس سے معلوم ہوا کہ قربانی حلق کرنے سے پہلے ہے کیونکہ اگر بال منڈوا دیے ہوتے تو آپ پر احرام کی پابندی ختم ہو جانی تھی لیکن احرام کی پابندی کو قربانی ذبح کرنے تک برقرار رکھا گیا ہے۔
اصل ترتیب یہی ہے کہ قربانی، سر منڈوانے سے پہلے کی جائے، قربانی سے پہلے سر منڈوانا تو ایک رخصت ہے۔
(فتح الباري: 707/3) (2)
حضرت عمر ؓ نے قرآنی آیت اور حدیث نبوی سے تمتع کے عدم جواز پر دلیل لی ہے۔
اس کی تفصیل ہم پہلے بیان کر آئے ہیں کہ حج کو فسخ کر کے عمرہ کرنا آیت کریمہ کے خلاف نہیں کیونکہ اس کے بعد حج کا احرام باندھ کر اسے پورا کیا جاتا ہے۔
اور حدیث نبوی سے استدلال بھی محل نظر ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی قربانی ساتھ لائے تھے اور جو شخص قربانی ساتھ لے کر آئے اس کے لیے قربانی ذبح ہونے تک احرام کھولنا جائز نہیں لیکن یہ کلام اس شخص سے متعلق ہے جو قربانی ساتھ لے کر نہ آیا ہو۔
واللہ أعلم
آنحضرت ﷺ نے احرام نہیں کھولا اس کی وجہ بھی آپ نے خود بیان فرمائی تھی کہ آپ کے ساتھ ہدی تھی۔
جن کے ساتھ ہدی نہ تھی ان کا احرام خود آنحضرت ﷺ نے کھلوادیا۔
پس جہاں صاف صریح حدیث نبوی موجود ہو وہاں کسی کی بھی رائے قبول نہیں کی جاسکتی خواہ وہ حضرت عمر ؓ ہی کیوں نہ ہوں۔
حضرات مقلدین کو یہاں غور کرنا چاہئے کہ جب حضرت عمر ؓ جیسے خلیفہ راشدجن کی پیروی کرنے کا خاص حکم نبوی ہے اقتدو بالذین من بعدي أبي بکر وعمر حدیث کے خلاف قابل اقتداء نہ ٹھہرے تو اور کسی امام یا مجتہد کی کیا بساط ہے۔
(وحیدی)
(1)
ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں: جب میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی کہ میرا احرام رسول اللہ ﷺ کے احرام جیسا ہے تو آپ نے دریافت فرمایا: ’’کیا تم اپنے ساتھ قربانی لائے ہو؟‘‘ میں نے کہا: نہیں! اس پر آپ نے فرمایا: ’’بیت اللہ کا طواف کرو اس کے بعد صفا و مروہ کی سعی کر کے احرام کی پابندی سے حلال ہو جاؤ۔
‘‘ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4346)
دوسری روایت میں ہے کہ اس کے بعد میں اس کے مطابق لوگوں کو فتویٰ دیتا تھا کہ جس کے پاس قربانی نہ ہو وہ پہلے عمرہ کرے، پھر الگ سے ذوالحجہ کی آٹھویں تاریخ کو حج کا احرام باندھے لیکن جب حضرت عمر ؓ خلیفہ بنے تو میں نے ان سے اپنا موقف بیان کیا تو انہوں نے اس سے اختلاف کیا۔
(صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1724)
حضرت عمر کی رائے تھے کہ حج کے احرام کو عمرے کے احرام میں نہیں بدلنا چاہیے۔
دوسرے الفاظ میں وہ حج تمتع کے قائل نہیں تھے لیکن رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مقابلے میں حضرت عمر کی رائے سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا، پھر رسول اللہ ﷺ نے تو اس لیے احرام نہیں کھولا تھا کہ آپ کے ساتھ قربانی کا جانور تھا۔
بہرحال رسول اللہ ﷺ کی حدیث کے مقابلے میں کسی کی رائے قبول نہیں کرنی چاہیے۔
(2)
الغرض امام بخاری ؒ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کی اس حدیث سے یہ ثابت کیا ہے کہ مبہم احرام باندھا جا سکتا ہے جیسا کہ حضرت علی اور حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نے اسی طرح کا احرام باندھا تھا لیکن ایسا کرنا صرف زمانہ نبوی کے ساتھ خاص تھا۔
یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے دریافت کرنے پر حضرت علی ؓ کو ان کی نیت کے مطابق ان کے احرام پر برقرار رکھا گیا کیونکہ وہ قربانی کا جانور ساتھ لائے تھے اور حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کو طواف اور سعی کے بعد احرام کھول دینے کا حکم دیا کیونکہ ان کے ساتھ قربانی کا جانور نہیں تھا۔
اب چونکہ دین کی تکمیل ہو چکی ہے اور حج و عمرہ کے احرام واضح کر دیے گئے ہیں اور ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ﴿وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّـهِ﴾ (البقرة: 196: 2)
’’حج اور عمرے کو اللہ کے لیے پورا کرو۔
‘‘ ان حالات میں کسی کو مبہم احرام باندھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
امام بخاری ؒ کے عنوان سے یہی اشارہ ملتا ہے۔
واللہ أعلم
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ بطحاء میں تھے۔ آپ نے فرمایا: ” تم نے کس چیز کا تلبیہ پکارا ہے؟ “ میں نے عرض کیا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ پر تلبیہ پکارا ہے، پوچھا: ” کیا تم کوئی ہدی لے کر آئے ہو “، میں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: خانہ کعبہ کا طواف کرو اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کرو پھر احرام کھول کر حلال ہو جاؤ “، تو میں نے خانہ کعبہ کا طواف کیا، صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، پھر میں۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2739]
(2) حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو خود نبی اکرمﷺ نے یمن بھیجا تھا کیونکہ یہ بھی یمنی تھے، پھر یہ حجۃ الوداع کی اطلاع پر یمن سے مکہ پہنچے۔
(3) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا استدلال یہ ہے کہ قرآن مجید بھی اتمام کا حکم دیتا ہے۔ ظاہر ہے حج کی نیت رکھنے والے کا عمرہ کر کے حلال ہو جانا حج کے اتمام کے خلاف ہے کیونکہ ابھی حج تو ہوا ہی نہیں، وہ حلال بھی ہوگیا۔ ہاں جو آدمی جائے ہی عمرے کی نیت سے، وہ عمرے کا احرام باندھے اور عمرہ کر کے حلال ہو مگر حج کی نیت والا عمرے کا احرام کیوں باندھے؟ اور رسول اللہﷺ نے بھی حج ہی کا احرام باندھا تھا۔ باوجود عمرہ داخل ہونے کے پھر بھی حلال حج کی تکمیل کے بعد ہی ہوئے تھے۔ باقی رہا آپ کا صحابہ کو یہ حکم دینا کہ حج کے احرام کو عمرے کے احرام میں بدل کر عمرہ کر کے حلال ہو جاؤ، یہ مخصوص حکم تھا جو مخصوص حالت میں وحی کی بنا پر ہنگامی طور پر جاری کیا گیا۔ یہ ہمیشہ کے لیے ہے، لہٰذا جو حج کرنا چاہتا ہے وہ حج ہی کا احرام باندھے یا پھر حج اور عمرے کا اکٹھا احرام باندھے اور حج کی تکمیل کے بعد ہی احرام ختم کرے۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اس اجتہاد میں کوئی شک نہیں لیکن صاحب قرآن کا عمل اور تمتع کے لیے آپ کا حکم یقینا مقدم ہے کیونکہ آپ ہی شارع ہیں، نیز یہ کوئی وقتی حکم نہ تھا جیسا کہ سیدنا عمر وغیرہ نے سمجھا بلکہ یہ استحباب ہمیشہ کے لیے ہے جیسا کہ ایک سائل کے جواب میں آپﷺ نے فرمایا کہ عمرہ حج میں تا قیامت داخل ہوگیا۔ اس سے تخصیص کا موقف کمزور ٹھہرتا ہے۔ واللہ أعلم
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں یمن سے آیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بطحاء میں جہاں کہ آپ نے حج کیا تھا اونٹ بٹھائے ہوئے تھے، آپ نے (مجھ سے) پوچھا: ” کیا تم نے حج کا ارادہ کیا ہے؟ “ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: ” تم نے کیسے کہا؟ “ انہوں نے کہا: میں نے یوں کہا: «لبيك بإهلال كإهلال النبي صلى اللہ عليه وسلم» ” میں حاضر ہوں اس تلبیہ کے ساتھ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ ہے “ آپ نے فرمایا: ” بیت اللہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2743]