صحيح البخاري
كتاب المغازي— کتاب: غزوات کے بیان میں
بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْئًا وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُدْبِرِينَ ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ} إِلَى قَوْلِهِ: {غَفُورٌ رَحِيمٌ} : باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان اور اللہ تعالیٰ کا فرمان (سورۃ التوبہ میں) کہ ”یاد کرو تم کو اپنی کثرت تعداد پر گھمنڈ ہو گیا تھا پھر وہ کثرت تمہارے کچھ کام نہ آئی اور تم پر زمین باوجود اپنی فراخی کے تنگ ہونے لگی، پھر تم پیٹھ دے کر بھاگ کھڑے ہوئے، اس کے بعد اللہ نے تم پر اپنی طرف سے تسلی نازل کی“ «غفور رحيم» تک۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَجَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عُمَارَةَ ، أَتَوَلَّيْتَ يَوْمَ حُنَيْنٍ ؟ فَقَالَ : أَمَّا أَنَا فَأَشْهَدُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَمْ يُوَلِّ ، وَلَكِنْ عَجِلَ سَرَعَانُ الْقَوْمِ فَرَشَقَتْهُمْ هَوَازِنُ وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ آخِذٌ بِرَأْسِ بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ ، يَقُولُ : " أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ " .´ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے ابواسحاق نے ، کہا کہ` میں نے براء رضی اللہ عنہ سے سنا ، ان کے یہاں ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ اے ابو عمارہ ! کیا تم نے حنین کی لڑائی میں پیٹھ پھیر لی تھی ؟ انہوں نے کہا ، میں اس کی گواہی دیتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ سے نہیں ہٹے تھے ۔ البتہ جو لوگ قوم میں جلد باز تھے ، انہوں نے اپنی جلد بازی کا ثبوت دیا تھا ، پس قبیلہ ہوازن والوں نے ان پر تیر برسائے ۔ ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید خچر کی لگام تھامے ہوئے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے «أنا النبي لا كذب ، أنا ابن عبد المطلب» ” میں نبی ہوں اس میں بالکل جھوٹ نہیں ، میں عبدالمطلب کی اولاد ہوں ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
یعنی حضرت ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب بن ہاشم ؓ نبی کریم ﷺ کے چچا کے بیٹے تھے۔
یہ مکہ فتح ہونے سے پہلے ہی سے نکل کر راستے ہی میں آنحضرت اسے جاکرملے اور اسلام قبول کر لیااور یہ غزوئہ حنین میں ثابت قدم رہے تھے۔
1۔
کسی بھی قوم کی فتح و شکست کا دارو مدار سپہ سالار پر ہوتا ہے حضرت براء بن عازب ؓ کا کہنا ہے اگر ہم بھاگ نکلے تو اس کا کیا اعتبار ہے ہمارے سالار تو اپنی جگہ پر قائم رہے وہ نہیں بھاگے۔
2۔
واضح رہے کہ عبدالمطلب کا قریش میں بہت وقار تھا اور وہ بڑے بہادر تھےاس بن پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "میں بھاگنے والا نہیں ہوں، میں تو بہادر شخص کا بیٹا ہوں۔
" 3۔
حضرت ابو سفیان بن حارث ؓ رسول اللہ ﷺ کے چچا کے بیٹے ہیں۔
یہ مکہ فتح ہونے سے پہلے ہی مسلمان ہو گئے تھے اور غزوہ حنین میں ثابت قدم رہے جیسا کہ اس حدیث کے آخر میں ہے۔
واللہ اعلم۔
مولانا وحید الزماں مرحوم نے اس کا ترجمہ شعرمیں یوں کیا ہے: ہوں میں پیغمبر بلا شک و خطر اور عبدالمطلب کا ہوں پسر مزید تفصیل جنگ حنین کے حالات میں آئے گی۔
إن شاء اللہ تعالیٰ
معلوم ہوا کہ دوران جہاد میں کسی دوسرے سے مدد لی جا سکتی ہے اس میں کوئی حرج نہیں لیکن غنیمت میں صرف گھوڑے کے مالک کو حصہ ملے گا۔
لگام تھامنے سے اس کا استحقاق ثابت نہیں ہو گا۔
یہ خدمت گزاری فی سبیل اللہ شمار ہو گی۔
واللہ أعلم۔
﴿وَّيَوْمَ حُنَيْنٍ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ ﴾ (التوبة: 25)
یعنی حنین کی لڑائی میں تم کو تمہاری کثرت نے گھمنڈو غرور میں ڈال دیا تھا جس کا نتیجہ یہ کہ تمہاری کثرت نے تم کو کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچایا اور قبیلہ ہوازن کے تیر اندازوں نے عام مسلمانوں کے منہ موڑ دئیے۔
بعد میں رسول کریمﷺ کی استقامت و بہادری نے اکھڑے ہوئے مجاہدین کے دل بڑھا دئیے اور ذرا سی ہمت و بہادری نے میدان جنگ کا نقشہ بدل دیا‘ اس موقع پر آنحضرتﷺ نے أنا النبيُ لا کَذب کا نعرہ بلند فرمایا‘ میدان جنگ میں ایسے قومی نعرے بلند کرنا مذموم نہیں ہے۔
حضرت امام بخاریؒ کا یہی مقصد ہے۔
1۔
اپنے قول یا فعل سے بہادری اور شجاعت کا اظہار کرنا دور جاہلیت کا وتیرہ تھا۔
نیز اس دور میں اپنے باپ دادا کی نسبت سے فخر کیا جاتا تھا جس سے اسلام نے منع فرمایاہے۔
البتہ میدان جنگ میں دشمن کو مرعوب کرنے اور اپنے ساتھیوں کے حوصلے بلند کرنے کے لیے ایسا کرنا جائز ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺنے غزوہ حنین کے موقع پر خود کو اپنے دادا کی طرف منسوب کیا جو بہادری اور شجاعت میں اونچا مقام رکھتے تھے نیز حضرت سلمہ ابن اکوع ؓنے بھی ایسا کیا۔
2۔
امام بخارى ؒ کا مقصد ہے کہ ذاتی طور پر ایسا کرنا اگرچہ معیوب ہے لیکن کسی عظیم مقصد کے پیش نظر یہ انداز اختیار کرنے میں چنداں حرج نہیں اور میدان جنگ میں قومی نعرہ لگانا مذموم نہیں ہے۔
واللہ أعلم۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جہاد میں مناسب طور پر آباء و اجداد کی بہادری کا ذکر کیا جاسکتا ہے۔
جنگ حنین ماہ شوال ۸ ھ میں قبائل ہوازن و ثقیف کے جارحانہ حملوں کی مدافعت کے لئے لڑی گئی تھی۔
دشمنوں کی تعداد چار ہزار کے قریب تھی اور اسلامی لشکر بارہ ہزار پر مشتمل تھا اور اسی کثرت تعدادکے گھمنڈ میں اسلام مراحل حزم و احتیاط سے غافل ہوگیا تھا جس کی پاداش فرار کی صورت میں بھگتنی پڑی‘ بعد میں جلد ہی مسلمان سنبھل گئے اور آخر میں مسلمانوں کی ہی فتح ہوئی۔
مزید تفصیل اپنے مقام پر آئے گی۔
1۔
امام بخاری ؓنے مذکورہ حدیث اس مقصد کے لیے ذکر کی ہے کہ اس میں سفید خچر کا ذکر ہے صحیح مسلم میں ہے یہ خچر آپ ﷺ کو کو فروہ نفاثہ نے بطور ہدیہ دیا تھا۔
(صحیح البخاري، الجهاد والسیر، حدیث 1775)
بعض سیرت نگاروں نے لکھا ہے۔
جس خچر پر آپ نے حنین کے دن سواری کی تھی اس کا نام دلدل تھا اور مقوقش نے اپ کو تحفہ میں دیا تھا۔
اور جو خچر فروہ نے پیش کیا تھا اس کانام فضہ تھا۔
ہمارے رجحان کے مطابق صحیح مسلم کی روایت راجح اور صحیح ہے کہ مذکورہ خچر حضرت فروہ بن نفاثہ نے دیا تھا۔
(فتح الباري: 92/6)
واللہ أعلم۔
2۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جہاد و قتال کے موقع پر مناسب انداز میں اپنے آباء واجداد کی بہادری کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔
(فَأَقْبَلُوا هُنَالِكَ)
کے دو مفہوم ہیں۔
’’ایک یہ کہ آپ کے پاس آنے والے وہ نوجوان مسلمان تھے جنھوں نے کفار سے پیٹھ پھیر لی تھی۔
جب یہ لوگ رسول اللہ ﷺکے پاس پہنچے تو کچھ تو اپنے اپنے راستے پر چلے گئے اور کچھ وہیں آپ کے پاس رک گئے آپ نے ان کی دوبارہ صف بندی کی اور ہلابول دیا۔
(حملہ کر دیا)
۔
‘‘ اور دوسرا احتمال یہ ہے۔
’’مسلمانوں کے شکست کھانے کے بعد کفار آپ کے سامنے آئے ہوں اور ان کی طرف سے آپ پر حملہ کرنے کا بیان ہو۔
‘‘ دونوں صورتوں میں یہ بات سامنے آئی کہ ہزیمت کے بعد رسول اللہ ﷺنے اپنے ساتھیوں کی دوبارہ صف بندی کی اور اپنی سواری سے اتر کر اللہ تعالیٰ سے اپنی نصرت و فتح کی دعا مانگی اس دعا کا بیان آئندہ احادیث میں آئے گا۔
تین بنو ہاشم کے ایک حضرت عباس ؓ آپ کے سامنے تھے اور ابو سفیان ؓ آپ کے خچر کی باگ تھامے ہوئے تھے، عبد اللہ بن مسعود ؓ آپ کے دوسری طرف تھے۔
ترمذی کی روایت میں ہے کہ سو آدمی بھی آپ کے ساتھ نہ رہے اورامام احمد اور حاکم کی روایت میں ہے، ابن مسعود ؓ سے کہ سب لوگ بھاگ نکلے صرف اسی (80)
آدمی مہاجرین اور انصار میں سے آپ کے ساتھ رہ گئے۔
مسلم کی روایت میں ہے کہ کافروں نے آپ کو گھیر لیاآپ خچر سے اتر پڑے پھر خاک کی ایک مٹھی لی اور کافروں کے منہ پر ماری، کوئی کافر باقی نہ رہا جس کی آنکھ میں مٹی نہ گھسی ہو۔
آخر میں کافر ہار کر سب بھاگ گئے۔
آپ نے فرمایا''شاھت الوجوہ'' یعنی ان کے منہ کالے ہوں۔
یہ بھی آنحضرت اکے بڑے معجزات میں سے ہے۔
1۔
ایک روایت میں ہے کہ جب مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا خچر کفار کی طرف دوڑایا۔
حضرت عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اس کی لگام زور سے پکڑرکھی تھی تاکہ وہ تیزی سے کفار کی صفوں میں گھسنے نہ پائے اور ابو سفیان ؓ نے اس کی رکاب تھام رکھی تھی۔
(صحیح مسلم، الجهاد، حدیث: 4612۔
(1775)
2۔
یہ روایت صحیح بخاری کی روایت کے منافی نہیں کیونکہ ابو سفیان اور حضرت عباس ؓ نے باری باری لگام تھام رکھی تھی۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے خچر سے اترے، دعا کی اور اللہ سے فتح و نصرت طلب کی۔
آپ کی دعا تھی۔
"اے اللہ!میں تیری مددکا طلب گار ہوں۔
" آخر کار اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتح عطا فرمائی اور کفار بھاگ گئے۔
(صحیح مسلم، الجهاد، حدیث: 4616۔
(1776)
مسلم کی روایت ہے کہ کافروں نے آپ کو گھیر لیاآپ خچر پر سے اتر پڑے پھر خاک کی ایک مٹھی لی اور کافروں کے منہ پر ماری فرمایا ﴿شاھتِ الوُجوہُ﴾ کوئی کافر باقی نہ رہا، جس کی آنکھ میں مٹی نہ گھسی ہو۔
آخر شکست پا کر سب بھاگ نکلے۔
شاھت الوجوہ کا معنی ان کے منہ برے سوئے۔
قسطلانی نے کہا یہ آپ کا ایک بڑا معجزہ ہے۔
چار ہزار کافروں کی آنکھوں پر ایک مٹھی خاک کا ایسا اثر پڑنابالکل عادت کے خلاف ہے۔
(مولا ناوحید الزماں)
مترجم کہتا ہے آنحضرت ﷺ کی شجاعت اور بہادری کو اس معنی سے دریافت کر لینا چاہئیے کہ سارے ساتھی بھاگ نکلے، تیروں کی بوچھار ہو رہی ہے اور آپ خچر پر میدان میں جمے ہوے ہیں۔
ایسے موقعوں پر بڑے بڑے بہادروں کے پاؤں اکھڑ جاتے ہیں۔
اگر آپ کا ہم کوئی معجزہ نہ دیکھیں صرف آپ کے صفات حسنہ اور اخلاق حمیدہ پر غور کرلیں تب بھی آپ کی پیغمبری میں کوئی شک نہیں رہتا۔
شجاعت ایسی، سخاوت ایسی کہ کسی سائل کو محروم نہ کر تے۔
لاکھ روپیہ آیا تو سب کا سب اسی وقت بانٹ دیا۔
ایک روپیہ بھی اپنے لیے نہیں رکھا۔
ایک دفعہ گھر میں ذرا سا سونا رہ گیا تھا تونماز کا سلام پھیر تے ہی تشریف لے گئے اس کو بانٹ دیا پھر سنتیں پڑھیں۔
قوت اور طاقت ایسی کہ نوبیویوں سے ایک ہی رات میں صحبت کر آئے۔
صبر اور تحمل ایسا کہ ایک گنوارنے تلوار کھینچ لی مارڈالنا چاہا مگر آپ نے اس پر قابو پاکراسے معاف کر دیا۔
ایک یہودی عورت نے زہر دے دیا مگر اس کو سزا نہ دی، عفت اور پاکدامنی ایسی کہ کسی غیر عورت پر آنکھ تک نہ اٹھائی۔
کیا یہ صفات کسی ایسے شخص میں جمع ہوسکتی ہیں جو مؤ ید من اللہ اور پیغمبر اور ولی نہ ہو بڑا بیو قوف ہے وہ شخص جوآنحضرت ﷺ کی سیرت طیبہ کو پڑھ کر پھر آپ کی نبو ت میں شک کرے۔
معلوم ہو کہ اس کو عقل سے کوئی واسطہ نہیں۔
ایک جاہل ناتربیت یافتہ قوم میںایسے جامع کمالات اور مہذب اور صاحب علم ومعرفت کا وجود بغیر تائید الہی اور تعلیم خداوندی کے ناممکن ہے پھر کیا وجہ ہے کہ حضرت موسی اور حضرت عیسی اور حضرت داؤد ؑ تو پیغمبر ہوںاور حضرت محمد پیغمبر نہ ہوں۔
اللہ تعالی اہل کتاب کو انصاف اور سمجھ دے۔
(وحیدی)
1۔
سائل نے حضرت براء بن عازب ؓ سے جمع کے صیغے سے سوال کیا۔
اس سے یہ وہم ہو سکتا تھا کہ بھاگنے والوں میں رسول اللہ ﷺ بھی شامل تھے، اس لیے حضرت براء بن عازب ؓ نے وضاحت فرمائی کہ رسول اللہ ﷺ نہیں بھاگے تھے۔
2۔
ایک دوسری روایت میں ہے کہ حنین کے موقع پر جب کفار نے رسول اللہﷺ کا گھیراؤ کر لیا تو آپ خچر سے اترے اور مٹی کی مٹھی لے کر ان کی طرف پھینکی تو وہ تمام شکست خوردہ ہو کر بھاگ گئے۔
(صحیح مسلم، الجهاد، حدیث 4619۔
(1777)
بہر حال رسول اللہ ﷺ کے متعلق شکست خوردہ ہونے کا اعتقاد رکھنا جائز نہیں اس پر تمام اہل علم کا اتفاق ہے۔
(1)
رجل جراد: ٹڈی دل، ٹڈیوں کی جماعت و لشکر۔
(2)
انكَشَفُوا: بکھر گئے یا شکست کھا گئے۔
(3)
اِحمَرَّ البَأسُ: لڑائی سرخ ہو گئی، یعنی زور پکڑ گئی، شدت اختیار کر گئی۔
(1)
أَخِفَّائُهُم: خفيف کی جمع ہے، جلد باز، جوشیلہ۔
(2)
حُسَّر: حاسر کی جمع ہے، ننگے سر مراد ہے، جن کے پاس دفاعی اسلحہ نہ تھا۔
(3)
رَشَقُوهُم رَشقًا: انہوں نے انتہائی زور سے تیر اندازی کی۔
فوائد ومسائل: چونکہ جنگ حنین میں سب لوگ نہیں بھاگے تھے، خاص طور پر لشکر کا سپہ سالار، دشمن کے مقابلہ میں ڈٹا ہوا، آگے بڑھ رہا تھا، اس لیے حضرت براء رضی اللہ عنہ نے، بعض صحابہ کے بھاگنے کو کوئی اہمیت نہیں دی کیونکہ وہ بھی آواز سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پلٹ آئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نسبت، والد کے بجائے عبدالمطلب کی طرف کی، کیونکہ وہ معروف و مشہور شخصیت تھی اور لوگوں میں یہ بات پھیلی ہوئی تھی کہ عبدالمطلب کی اولاد میں ایک نبی ہو گا، جو غالب آئے گا، اور ایک عظیم مقام و مرتبہ کا حامل ہو گا، اس طرح آپ نے ان کو یاد دلایا، میں وہی ہوں، اس لیے غالب آ کر رہوں گا، میدان سے بھاگنے والا نہیں ہوں۔
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم سے ایک آدمی نے کہا: ابوعمارہ! ۱؎ کیا آپ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے فرار ہو گئے تھے؟ کہا: نہیں، اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹھ نہیں پھیری، بلکہ جلد باز لوگوں نے پیٹھ پھیری تھی، قبیلہ ہوازن نے ان پر تیروں سے حملہ کر دیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر پر سوار تھے، ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب خچر کی لگام تھامے ہوئے تھے ۲؎، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ” میں نبی ہوں، جھوٹا نہیں ہوں، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں ۳۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الجهاد/حدیث: 1688]
وضاحت:
1؎:
یہ براء بن عازب رضی اللہ عنہما کی کنیت ہے۔
2؎:
ابوسفیان بن حارث نبی اکرمﷺ کے چچازاد بھائی ہیں، مکہ فتح ہونے سے پہلے اسلام لے آئے تھے، نبی اکرمﷺ مکہ کی جانب فتح مکہ کے سال روانہ تھے، اسی دوران ابوسفیان مکہ سے نکل کر نبی اکرمﷺ سے راستہ ہی میں جاملے، اور اسلام قبول کرلیا، پھر غزوہ حنین میں شریک ہوئے اور ثبات قدمی کا مظاہرہ کیا۔
3؎:
اس طرح کے موزون کلام آپ ﷺ کی زبان مبارک سے بلاقصد وارادہ نکلے تھے، اس لیے اس سے استدلال کرنا کہ آپ شعر بھی کہہ لیتے تھے درست نہیں، اور یہ کیسے ممکن ہے جب کہ قرآن خود شہادت دے رہا ہے کہ آپ کے لیے شاعری قطعاً مناسب نہیں، عبدالمطلب کی طرف نسبت کی وجہ غالباً یہ ہے کہ یہ لوگوں میں مشہورشخصیت تھی، یہی وجہ ہے کہ عربوں کی اکثریت آپ ﷺ کو ابن عبدالمطلب کہہ کر پکارتی تھی، چنانچہ ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ نے جب آپﷺ کے متعلق پوچھا تو یہ کہہ کر پوچھا: (أيكم ابن عبد المطلب؟)