حدیث نمبر: 4314
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ : " رَأَيْتُ بِيَدِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ضَرْبَةً ، قَالَ : ضُرِبْتُهَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ " ، قُلْتُ : " شَهِدْتَ حُنَيْنًا ؟ " قَالَ : " قَبْلَ ذَلِكَ " .
مولانا داود راز

´ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا ، کہا ہم کو اسماعیل بن ابی خالد نے خبر دی ، انہوں نے بیان کیا کہ` میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کے ہاتھ میں زخم کا نشان دیکھا پھر انہوں نے بتلایا کہ یہ زخم اس وقت آیا تھا جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین میں شریک تھا ۔ میں نے کہا ، آپ حنین میں شریک تھے ؟ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی میں کئی غزوات میں شریک ہو چکا ہوں ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4314
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
4314. اسماعیل سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن ابی اوفی ؓ کے ہاتھ پر تلوار کا زخم دیکھا۔ انہوں نے بتایا کہ غزوہ حنین میں مجھے نبی ﷺ کے ہمراہ یہ زخم آیا تھا۔ میں نے پوچھا: آپ غزوہ حنین میں موجود تھے؟ انہوں نے فرمایا: میں اس سے پہلے غزوات میں بھی حاضر ہوتا رہا ہوں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4314]
حدیث حاشیہ:

سائل کا مقصد یہ تھا کہ حنین سے پہلے کون سے غزوے میں شرکت کی تھی؟ انھوں نے بتایا کہ کئی ایک غزوات میں شریک رہا ہوں۔
انھوں نے صلح حدیبیہ میں شرکت کی تھی۔

بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ غزوہ خندق میں بھی موجود تھے۔
وہ صحابی بن صحابی ہیں۔
۔
۔
رضي اللہ تعالیٰ عنه۔
(فتح الباري: 36/8)
وہ درخت کے نیچے رسول اللہ ﷺ کی بیعت کرنے والوں میں سے ہیں۔
یہ آخری صحابی ہیں، جنھوں نے کوفے میں وفات پائی۔
واضح رہے کہ ان کی وفات 86ہجری میں ہوئی۔
(عمدة القاري: 287/12)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4314 سے ماخوذ ہے۔