حدیث نمبر: 4278
وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ . وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ : عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا داود راز

‏‏‏‏ اور عبدالرزاق نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں ایوب نے ‘ انہیں عکرمہ نے اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ۔ اور حماد نے ایوب سے روایت کیا ‘ انہوں نے عکرمہ سے ‘ انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4278
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
4278. حضرت معمر سے روایت ہے، انہیں عکرمہ نے بواسطہ ایوب بتایا، وہ ابن عباس ؓ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ فتح مکہ کے سال نکلے۔ حماد بن زید نے ایوب سے، انہوں نے عکرمہ سے بروایت ابن عباس ؓ نبی ﷺ سے ذکر کیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4278]
حدیث حاشیہ: مشہور روایتوں میں ہے کہ آنحضرت ﷺ غزوئہ حنین کے لیے شوال میں فتح مکہ کے بعد تشریف لے گئے تھے۔
اس روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے رمضان ہی میں غزوئہ حنین کا سفر کیا تھا۔
سو تطبیق یہ ہے کہ سفر مبارک رمضان میں شروع ہوا۔
شوال میں اس کی تکمیل ہوئی۔
غزوئہ حنین کا وقوع شوال ہی میں صحیح ہے۔
(قسطلانی)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4278 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
4278. حضرت معمر سے روایت ہے، انہیں عکرمہ نے بواسطہ ایوب بتایا، وہ ابن عباس ؓ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ فتح مکہ کے سال نکلے۔ حماد بن زید نے ایوب سے، انہوں نے عکرمہ سے بروایت ابن عباس ؓ نبی ﷺ سے ذکر کیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4278]
حدیث حاشیہ:

ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ غزوہ حنین کے لیے ماہ رمضان میں تشریف لے گئے، حالانکہ غزوہ حنین رمضان میں نہیں بلکہ ماہ شوال میں ہوا تھا۔
اس اشکال کے مختلف جواب دیے گئے ہیں لیکن محب طبری کا جواب قرین قیاس معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے رمضان میں حنین کی طرف نکلنے سے مراد یہ ہے کہ ہوازن کی شورش سن کر ان کی طرف رمضان میں نکلنے کا پروگرام بنایاتھا، یعنی نکلنے سے مراد نکلنے کا ارادہ ہے۔
یہ استعمال عربی زبان میں عام ہے۔

حنین مکہ مکرمہ سے دس میل دور ایک وادی ہے۔
اس غزوے کا سبب یہ تھا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے خزاعہ کی مدد کے لیے مکہ مکرمہ سے نکلنے کاارادہ کیا تو قبیلہ ہوازن کو یہ خبر پہنچائی گئی کہ آپ ان پرحملہ کرنے والے ہیں۔
وہ آپ کا مقابلہ کرنے کے لیے ذوالمجاز منڈی میں آگئے۔
رسول اللہ ﷺ چلتے رہے حتی کہ وادی حنین میں اتوار کی رات کو پہنچے، پھرنصف شوال اتوار کے دن ان سے صلح ہوگئ۔
(عمدة القاري: 264/12۔
)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4278 سے ماخوذ ہے۔