صحيح البخاري
كتاب المغازي— کتاب: غزوات کے بیان میں
بَابُ غَزْوَةِ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ: باب: فتح مکہ کا بیان جو رمضان سنہ ۸ ھ میں ہوا تھا۔
حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ إِلَى حُنَيْنٍ وَالنَّاسُ مُخْتَلِفُونَ فَصَائِمٌ وَمُفْطِرٌ ، فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَى رَاحِلَتِهِ دَعَا بِإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ أَوْ مَاءٍ ، فَوَضَعَهُ عَلَى رَاحَتِهِ أَوْ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، ثُمَّ نَظَرَ إِلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : " الْمُفْطِرُونَ لِلصُّوَّامِ ، أَفْطِرُوا " .´مجھ سے عیاش بن ولید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا ‘ ان سے خالد نے بیان کیا ‘ ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں حنین کی طرف تشریف لے گئے ۔ مسلمانوں میں بعض حضرات تو روزے سے تھے اور بعض نے روزہ نہیں رکھا تھا لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر پوری طرح بیٹھ گئے تو آپ نے برتن میں دودھ یا پانی طلب فرمایا اور اسے اپنی اونٹنی پر یا اپنی ہتھیلی پر رکھا ( اور پھر پی لیا ) پھر آپ نے لوگوں کو دیکھا تو جن لوگوں نے پہلے سے روزہ نہیں رکھا تھا ‘ انہوں نے روزہ داروں سے کہا کہ اب روزہ توڑ لو ۔
تشریح، فوائد و مسائل
قریش نے سنہ6ھ کے معاہدہ کو توڑ کر بنو خزاعہ پر حملہ کردیا جو آنحضرت ﷺ کے حلیف تھے اور جن پر حملہ نہ کرنے کا عہد وپیمان تھا مگر قریش نے اس عہد کو اس بری طرح توڑا کہ سارے بنی خزاعہ کا صفایا کر دیا۔
ان بچاروں نے بھاگ کر کعبہ شریف میں پناہ مانگی اور الہک الہک کہہ کر پناہ مانگتے تھے کہ اپنے اللہ کے واسطے ہم کو قتل نہ کرو۔
مشرکین ان کو جواب دیتے ”لا اله الیوم“ آج اللہ کوئی چیز نہیں۔
ان مظلو موں کے بچے ہوئے چالیس آدمیوں نے دربار رسالت میں جاکر اپنی بربادی کی ساری داستان سنائی۔
آنحضرت ﷺ معاہدے کی پابندی فریق مظلوم کی داد رسی دوستدار قبائل کی آئندہ حفاظت کی غرض سے دس ہزار کی جمعیت کے ساتھ بجانب مکہ عازم سفر ہوئے۔
دو منزلہ سفر ہوا تھا کہ راستے میں ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب اور عبد اللہ بن امیہ سے ملاقات ہوئی اور اسلام قبول کیا۔
اس موقع پر ابو سفیان ؓ نے عجب جوش ونشاط کے ساتھ مندرجہ ذیل اشعار پڑے۔
لعمرك أني حین أحمل رأیه لتغلب خیل الات خیل محمد لکا المدلج الحیران أظلم لیلة فھذا أواني حین ھدي فاھتدی ھداني ھاد غیر نفسي و دلني إلی اللہ من طرد ته کل مطرد ترجمہ ” قسم ہے کہ میں جن دنوں لڑائی کا جھنڈا اس ناپاک خیال سے اٹھایا کرتا تھا کہ لات بت کے پوجنے والوں کی فوج حضرت محمد ﷺ کی فوج پر غالب آجائے۔
ان دنوں میں اس خار پشت جیسا تھا جو اندھیری رات میں ٹکریں کھاتا ہو۔
اب وقت آگیا ہے کہ میں ہدایت پاؤں اور سیدھے راستے (اسلام پر)
گامزن ہو جاؤں۔
مجھے سچے ہادی بر حق نے ہدا یت فرمادی ہے (نہ کہ میرے نفس نے)
اور اللہ کا راستہ مجھے اس ہادی بر حق نے دکھلا دیا ہے جسے میں نے (اپنی غلطی سے)
ہمیشہ دھتکار رکھا تھا۔
‘‘ آخر20 رمضان سنہ8ھ کو آپ مکہ میں فاتحانہ داخل ہوئے اور جملہ دشمنان اسلام کو عام معافی کا اعلان کرادیا گیا۔
اس موقع پر آپ نے یہ خطبہ پیش فرمایا۔
يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَذْهَبَ عَنْكُمْ نَخْوَةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَتَعَظُّمَهَا بِالآبَاءِ النَّاسُ مِنْ آدَمَ، وَآدَمُ خُلِقَ مِنْ تراب ثم تلا رسول الله: «يا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْناكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثى وَجَعَلْناكُمْ شُعُوباً وَقَبائِلَ لِتَعارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقاكُمْ» الآيَةَ.يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، وَيَا أَهْلَ مَكَّةَ، مَا تَرَوْنَ أَنِّي فَاعِلٌ بِكُمْ؟ قَالُوا: خَيْرًا، أَخٌ كَرِيمٌ وَابْنُ أَخٍ كَرِيمٍ ثُمَّ قَالَ: اذهبوا فأنتم الطلقاء. (طبری)
اے خاندا ن قریش والو! خدا نے تمہاری جاہلانہ نخوت اور باپ دادوں پر اترانے کا غرور آج ختم کر دیا سن لو! سب لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے پیدا ہوئے پھر آپ نے اس آیت کو پڑھا اے لوگو! ہم نے تم کو ایک ہی مرد عورت سے پیدا کیا ہے اور گوت اور قبیلے سب تمہاری آپس کی پہچان کے لیے بنا دیئے ہیں اور خدا کے ہاں تو صرف تقوی والے کی عزت ہے۔
پھر فرمایا (اے قریشیو!)
جاؤ آج تم سب آزاد ہو تم پر آج کوئی مواخذہ نہیں ہے۔
اس جنگ کے جستہ جستہ حالات حضرت امام بخاری ؒ نے مندرجہ ذیل ابواب میں بیان فرمائے ہیں۔
1۔
رسول اللہ ﷺ کا مذکورہ سفر فتح مکہ کے موقع پر ہواتھا جیسا کہ سابقہ روایات میں وضاحت ہے۔
امام بخاری ؒ نے اسی لیے اس روایت کو غزوہ فتح مکہ میں بیان کیاہے۔
رسول اللہ ﷺ کوقریش کی بدعہدی کی وجہ سے مجبوراً مکہ مکرمہ پر لشکر کشی کرنا پڑی، آخر 20 رمضان المبارک کو آپ مکہ مکرمہ میں فاتحانہ طور پر داخل ہوئے اور تمام دشمنان ِاسلام کے لیے عام معافی کا اعلان کردیاگیا۔
اس کے بعد حنین کی لڑائی ہوئی، پھراوطاس پر حملہ کیا گیا، اس کے بعدچوبیس دن تک طائف کامحاصرہ کیا یہاں تک کہ ذوالقعدہ کا چاند نظر آیا، پھر آپ مقام جعرانہ پہنچے، رات کے وقت عمرے کا احرام باندھا،عمرہ کرکے واپس مدینہ طیبہ تشریف لائے۔
2۔
امام بخاری ؒ نے فتح مکہ کے چیدہ چیدہ حالات بیان کیے ہیں جن کے لیے آپ نے مختلف انداز میں عنوان بندی کرکے احادیث جمع کی ہیں۔
واللہ اعلم۔
امام بخاری نے کہا‘ زہری اور ان کے ہم خیالوں کا یہی قول ہے کہ اثنائے رمضان میں سفر در پیش ہونے سے افطار درست نہیں اور چاہئے کہ آنحضرتﷺ کے آخری فعل کو لیا جائے۔
یعنی آخر فعل آپﷺ کا یہ ہے کہ آپﷺ نے کدید میں پہنچ کر افطار کرلیا۔
تو معلوم ہوا کہ اگر رمضان میں سفر پیش آئے تو افطار کرنا درست ہے اور یہ مسئلہ آیت قرآنی ﴿وَمَنْ کَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃً مِّنْ آیْامٍ اُخَرَ﴾ (البقرة: 175)
سے ثابت ہے۔
یہاں اس حدیث کو لانے سے حضرت مجتہد مطلق امام بخاریؒ کی غرض یہ ہے کہ جس شخص نے رمضان میں سفر مکروہ بتایا‘ اس کا قول صحیح نہیں۔
آج ۲۶ محرم ۹۱ھ کو دانا پور پٹنہ میں مخلصی و محبی حضرت حاجی عبدالغفار صاحب ٹیلر کے دولت کدہ پر نظر ثانی شروع کر رہا ہوں۔
اللہ پاک تمام کی توفیق بخشے۔
اور میرے محترم بھائی کو برکات دارین سے مزید در مزید نوازے۔
اور ان کے حسنات جاریہ کو قبول فرمائے آمین۔
۱۸ مارچ ۱۹۷۱ء
1۔
بعض لوگ ماہ رمضان میں سفرکرنا مکروہ خیال کرتے ہیں۔
ان کا کہناہے کہ اس مہینے میں سفرکرنے سے اس کا تقدس مجروح ہوتا ہے۔
امام بخاری ؒنے اس کی تردیدفرمائی ہے کہ یہ موقف بلا دلیل ہے بلکہ رسول اللہ ﷺ سے ماہ رمضان میں سفرکرنا ثابت ہے،لہذا اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
2۔
چونکہ پہلی سند میں امام زہری ؒنے اپنے شیخ عبیداللہ سے سماع کی تصریح نہیں کی تھی،اس لیے امام بخاری ؒنے حدیث کے آخرمیں دوسری سند ذکر کی ہے۔
اس میں تصریح سماع ہے۔
3۔
کدید یہ مقام مکہ مکرمہ سے 90 کلومیٹر کے فاصلے پر عسفان اور خلیص کے درمیان واقع ہے۔
آج کل اس کا نام خَمص ہے۔
(معجم المعالم الجغرافیة في السیرة النبویة، ص: 263)
1۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اثنائے سفر میں روزہ افطار کیاجاسکتا ہے جیسا کہ قرآنِ مجید میں ہے: "جو شخص مریض ہو یاسفر پر ہو وہ بعد میں فوت شدہ روزے رکھ لے۔
" (البقرۃ 2: 185۔
)
اس حدیث میں ان لوگوں کا درد ہے جو کہتے ہیں کہ جس نے اول رمضان میں روزہ رکھ لیا، اب اس افطار نہیں کرنا چاہیے لیکن اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا آخری عمل دوران سفر رمضان المبارک میں روزہ افطار کرنا ہے اور جوسارا رمضان مقیم ہوا سے رمضان کے روزے رکھنا ضروری ہیں۔
2۔
اس حدیث میں امام بخاری ؒ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے لیے دس ہزار کی نفری لے کر روانہ ہوئے اور روانگی کے وقت مکہ مکرمہ سے ہجرت کیے ہوئے آٹھ سال پورے ہونے والے تھے۔
3۔
واضح رہے کہ اس حدیث میں لشکر کی تعداد دس ہزار مذکور ہے جبکہ صاحب مغازی نے بارہ ہزار ذکر کی ہے جن میں مہاجرین، بانصار، اسلم،غفار، مزینہ، اور جہینہ کے قبائل بھی شامل ہیں، ان دونوں روایات میں تطبیق کی یہ صورت ممکن ہے کہ دس ہزار صرف مدینہ طیبہ کا لشکر تھا، پھر اس کے بعد دوہزار مذید قبائلی افراد شامل ہوگئے۔
واللہ اعلم۔
(فتح الباري: 7/8۔
)
اور ابن عباس ؓ کی حدیث سے ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے کدید میں پہنچ کر پھر روزہ نہیں رکھا حالانکہ آپ دسویں رمضان کو مدینہ سے روانہ ہوئے تھے اب اگرکوئی شخص اقامت میں روزہ کی نیت کرلے پھر دن کو کسی وقت سفر میں نکلے تو اس کو روزہ کھول ڈالنا درست ہے یا پورا کرنا چاہئے اس میں اختلاف ہے مگر ہمارے امام احمد بن حنبل اور اسحق بن راہویہ یہ روزہ افطار کرنے کو درست جانتے ہیں، اور مزنی نے اس کے لیے اس حدیث سے حجت لی حالانکہ اس حدیث میں اس کی کوئی حجت نہیں کیوں کہ کدید مدینہ سے کئی منزل پر ہے۔
(وحیدی)
(1)
عنوان میں دو ٹوک الفاظ میں کوئی حکم نہیں بیان کیا گیا کیونکہ پیش کردہ حدیث میں اس کی وضاحت تھی۔
(2)
بعض حضرات کا موقف ہے کہ جس شخص کو دوران اقامت میں رمضان کا چاند نظر آ جائے اسے دوران سفر میں روزہ افطار کرنے کی اجازت نہیں۔
دلیل کے طور پر حضرت علی ؓ سے مروی ایک حدیث پیش کی جاتی ہے کہ جس شخص کو حضر میں رمضان آ جائے، پھر وہ سفر کرے تو اس کے لیے روزہ چھوڑنا جائز نہیں کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ﴾ (البقرة: 195: 2)
’’جو تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو، اسے چاہیے کہ روزہ رکھے۔
‘‘ امام بخاری ؒ نے اس عنوان سے حدیث مذکور کے ضعف کی طرف اشارہ کیا ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ دس رمضان کو فتح مکہ کے لیے روانہ ہوئے تھے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو رمضان کا چاند مدینہ طیبہ میں نظر آیا تھا اور آپ نے چند روزے رکھنے کے بعد سفر کا آغاز کیا۔
اسی طرح بعض حضرات کا کہنا ہے کہ اگر دوران حضر میں فجر طلوع ہو تو اس دن سفر کرنے کے بعد بھی روزہ ترک کرنا جائز نہیں جبکہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے روزہ رکھنے کے بعد دوران سفر میں اسے افطار کیا تھا۔
اس سے معلوم ہوا کہ روزہ رکھنے کے بعد اگر سفر کا آغاز کیا جائے تو دوران سفر میں اسے پورا کرنا ضروری نہیں بلکہ اسے چھوڑا جا سکتا ہے۔
(فتح الباري: 231/4)
سفر میں روزہ رکھنا نہ رکھنا یہ خود مسافر کے اپنے حالات پر موقوف ہے۔
شارع ؑ نے ہر دو عمل کے لیے اسے مختار بنایا ہے، طاؤس بن کیسان فارسی الاصل خولانی ہمدانی یمانی ہیں۔
ایک جماعت سے روایت کرتے ہیں۔
ان سے زہری جیسے اجلہ روایت کرتے ہیں۔
علم و عمل میں بہت اونچے تھے، مکہ شریف میں 105ھ میں وفات پائی۔
رحمة اللہ تعالیٰ علیه۔
(1)
رسول اللہ ﷺ ماہ رمضان میں فتح مکہ کے لیے روانہ ہوئے، لوگ بھی آپ کے ہمراہ روزہ رکھے ہوئے تھے۔
آپ سے عرض کی گئی: لوگوں کو روزے کے باعث سخت تکلیف ہے اور وہ آپ کو دیکھ رہے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے پانی کا پیالہ منگوایا اور اسے لوگوں کو دکھانے کے لیے اپنے منہ کی طرف بلند کیا تاکہ لوگ افطار کرنے میں آپ کا اتباع کریں۔
پھر آپ نے لوگوں کى آسانی کے لیے روزہ افطار کر دیا کیونکہ روزے کے سبب کمزوری ہونے کے باعث دشمن کے مقابلے میں حرج واقع ہونے کا امکان تھا۔
(2)
دوران سفر میں روزہ افطار کرنے کے کئی ایک اسباب ہیں، مثلا: ٭ جو انسان روزے کی وجہ سے مشقت میں پڑ جائے۔
٭ جسے روزے کی وجہ سے تکبر اور خودپسندی کا اندیشہ ہو۔
٭ اسے رخصت سے بے زاری اور روگردانی کا خطرہ ہو۔
ایسے حالات میں روزہ ترک کر دینا افضل ہے۔
امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ روزہ ترک کرنا صرف مذکورہ تین اسباب ہی پر منحصر نہیں بلکہ اتباع اور اقتدا کے لیے چھوڑا جائے تاکہ اس کی پیروی کر کے مذکورہ تینوں اسباب سے بچ جائے تو ایسا کرنا بھی افضل اور بہتر ہے لیکن حضرت ابن عباس ؓ نے اسے صرف بیان جواز پر محمول کیا ہے، افضل اور بہتر قرار نہیں دیا۔
ہم اس سلسلے میں پہلے وضاحت کر چکے ہیں۔
(فتح الباري: 238/4)
1۔
سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما، ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، زہری رحمۃ اللہ علیہ، نخعی رحمۃ اللہ علیہ، اور ابن ظاہر رحمۃ اللہ علیہ، کے نزدیک سفر میں فرض روزہ رکھنا جائز نہیں ہے اگر رکھے گا تو کفایت نہیں کرے گا اور اقامت (حضر)
میں اس کی قضاء لازم ہو گی۔
2۔
سعید ابن المسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اسحاق رحمۃ اللہ علیہ، اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ، اور احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ، کے نزدیک افطار افضل ہے۔
3۔
اگر رمضان اقامت میں شروع ہو گیا بعد میں سفر پر نکلا تو افطار جائز نہیں۔
4۔
اگر انسان روزہ رکھ سکتا ہے اور روزہ رکھنے سے تکلیف اور مشقت یا نقصان کا اندیشہ نہیں ہے تو امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ امام مالکِ رحمۃ اللہ علیہ، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ، اور جمہور علماء کے نزدیک روزہ رکھنا افضل ہے اگر روزہ رکھنے سے تکلیف یا مشقت یا نقصان کا ڈر ہو تو روزہ نہ رکھنا افضل ہے۔
5۔
اختیار ہے کہ روزہ رکھے یا نہ رکھے۔
6۔
جس عمل میں سہولت اور آسانی ہو وہی افضل ہے یعنی اگر بعد میں قضاء مشکل ہو تو روزہ رکھنا افضل ہے اگر قضاء میں سہولت اور آسانی ہو تو یہ افضل ہے عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ اور ابن المنذر رحمۃ اللہ علیہ کا یہی موقف ہے صحیح بات یہی ہے کہ موقع اور محل کا لحاظ رکھا جائے گا اگر دشمن سے ٹکراؤ کا خطرہ ہے یا روزہ رکھنے میں حضرکے مقابلہ میں زائد تکلیف اور مشقت ہے یا عجب وریاء کا اندیشہ ہے یا دوسروں کے لیے بوجھ اور کلفت کا باعث بنے گا یا شرعی رخصت کو اہمیت نہیں دیتا یا اس کا عمل دوسروں کے لیے نمونہ بنتا ہے تو پھر روزہ نہ رکھنا افضل ہے اور اگر روزہ رکھنے میں تکلیف ومشقت یا ضرر کا اندیشہ نہیں یا بعد میں نہ رکھ سکنے کا خطرہ ہے یا سب ساتھیوں کے ساتھ روزہ رکھنے کی سہولت اور آسانی میسر ہے تو روزہ رکھنا افضل ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے مکہ کے لیے نکلے یہاں تک کہ مقام عسفان پر پہنچے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پانی وغیرہ کا) برتن منگایا اور اسے اپنے منہ سے لگایا تاکہ آپ اسے لوگوں کو دکھا دیں (کہ میں روزے سے نہیں ہوں) اور یہ رمضان میں ہوا، اسی لیے ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ بھی رکھا ہے اور افطار بھی کیا ہے، تو جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2404]
(1) یہ واقعہ فتح مکہ کے سفر کا ہے۔
(2) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس شخص نے سفر میں صبح کو روزے کی نیت کی ہو تو شرعی عذر سے کسی وقت اگر وہ افطار کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں روزہ رکھا یہاں تک کہ آپ قدید آئے، پھر آپ نے دودھ کا ایک پیالہ منگایا اور (اسے) پیا، اور آپ نے اور آپ کے اصحاب نے روزہ توڑ دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2291]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کیا تو روزہ رکھا یہاں تک کہ عسفان پہنچے، پھر آپ نے (پانی سے بھرا) ایک برتن منگایا، اور دن ہی میں پیا، تاکہ لوگ آپ کو دیکھ لیں، پھر آپ بغیر روزہ کے رہے، یہاں تک کہ مکہ پہنچ گئے۔ تو آپ نے مکہ کو رمضان میں فتح کیا۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں روزہ رکھا، اور روزہ توڑ بھی دیا [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2316]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں فتح مکہ کے سال روزہ کی حالت میں نکلے۔ یہاں تک کہ جب کدید ۱؎ میں پہنچے تو آپ نے روزہ توڑ دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2315]
(2) اس روایت میں افطار کی جگہ کدید بتلائی گئی ہے جو کہ عسفان اور قدید کے درمیان ہے، لہٰذا یہ روایت دوسری روایات سے مختلف نہیں۔ (دیکھئے، حدیث: 2292)۔
(3) باب کا مقصد یہ ہے کہ اگر مسافر سفر میں روزہ رکھنے کو ترجیح دے تو ضروری نہیں کہ وہ سب روزے رکھے بلکہ کچھ رکھ لے کچھ نہ رکھے۔ بعد میں بھی رکھ لے تو کوئی حرج نہیں۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں سفر کیا، اور آپ روزہ رکھے ہوئے تھے، یہاں تک کہ عسفان پہنچے تو آپ نے ایک برتن منگایا، تو دن ہی میں پی لیا، لوگ اسے دیکھ رہے تھے، پھر آپ بغیر روزہ کے رہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2293]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے لیے نکلے، آپ روزہ رکھے ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ آپ عسفان ۱؎ پہنچے، تو ایک پیالہ منگایا اور پیا۔ شعبہ کہتے ہیں: یہ واقعہ رمضان کے مہینے کا ہے، چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے: سفر میں جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2292]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں روزہ رکھا بھی ہے، اور نہیں بھی رکھا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1661]
فائده:
جس سفر میں نماز قصر کرنا جائز ہے۔
اس میں مسافر کےلئے روزہ چھوڑنا بھی جائز ہے۔
خواہ سفر پیدل ہو یا سواری پر اور سواری خواہ گاڑی ہو یا ہوائی جہاز وغیرہ اور خواہ تھکاوٹ لاحق ہوتی ہو جس میں روزہ مشکل ہو یا تھکاوٹ لاحق نہ ہوتی۔
خواہ سفر میں بھوک پیاس لگتی ہے۔
یا نہ لگتی ہو۔
کیونکہ شریعت نے سفر میں نمازقصر کرنے اور روزہ چھوڑنے کی مطلق اجازت دی ہے۔
اور اس میں سواری کی نوعیت یا تھکاوٹ اور بھوک پیاس وغیرہ کی کوئی قید نہیں لگائی۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
﴿ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۚ﴾ (البقرة: 184/2)
’’تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا سفر میں ہوتو وہ (رمضان کے علاوہ)
دوسرے دنوں سے گنتی پوری کرلے۔‘‘
علاوہ ازیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔
اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے کہ اس کی عطا کردہ رخصتوں کو قبول کیا جائے جس طرح و ہ اس بات کو ناپسند کرتا ہے کہ اس کی معصیت ونافرمانی کا ارتکاب کیاجائے۔ (مسند أحمد: 108/2)
البتہ اگر روزہ رکھنے میں کوئی تکلیف نہ ہو اور کوئی روزہ رکھ لے تو ا س میں کوئی حرج نہیں اور اگر تکلیف ہوتو پھر روزہ رکھنے سے احتراز کرنا چاہیے۔
«. . . عن ابن عباس: ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج إلى مكة عام الفتح فى رمضان فصام حتى بلغ الكديد ثم افطر فافطر الناس معه، وكانوا ياخذون بالاحدث فالاحدث من امر رسول الله صلى الله عليه وسلم . . .»
”. . . سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فتح مکہ والے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کی طرف رمضان میں روانہ ہوئے تو آپ نے کدید (ایک مقام) تک روزے رکھے پھر آپ نے افطار کیا (روزے نہ رکھے) تو لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ افطار کیا اور لوگ (صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم اجمعین) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تازہ بہ تازہ حکم پر عمل کرتے تھے . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 248]
[وأخرجه البخاري 1944، من حديث مالك به مختصراً ورواه الدارمي 1715، من حديث مالك به، ومسلم 1112، من حديث الزهري به]
تفقه:
➊ سفر میں روزہ رکھنا اور افطار کرنا دونوں طرح جائز ہے اگر سفر میں سخت مشقت ہے تو افطار افضل ہے اور نہ آسانی کی حالت میں روز ہ بہتر ہے۔ اس مسئلے میں علماء کے درمیان اختلاف ہے لیکن یہی قول راجح ہے۔ والله اعلم
➋ ایک روایت میں آیا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ قصر کرتے رہے اور میں (نماز) پوری پڑھتی رہی، آپ افطار کر تے رہے اور میں روزے رکھتی رہی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! ”تم نے اچھا کیا ہے۔“ [سنن النسائي: 121/3 ح 1457، وسنده صحيح]
● اس روایت پر حافظ ابن تیمیہ کی جرح مردود ہے۔
➌ سيدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما سفر میں روزہ نہیں رکھتے تھے۔ [الموطأ رواية يحييٰ 295/1 ح 663 و سنده صحيح]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سفر میں روزے رکھتی تھیں۔ [ابن ابي شيبه 16/3 ح 8980 سنده صحيح]
➍ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إن شئت فصم وإن شئت فأفطر» ”اگر تم چاہو تو روزہ رکھو اور اگر چاہو تو افطار کرو۔“ [صحيح بخاري:1943، صحيح مسلم:1121، الاتحاف الباسم:465]
تنبیہ: التحاف الباسم سے یہی کتاب مراد ہے الموطأ امام مالک روایۃ ابن القاسم جس کے متن میں امام عبدالرحمٰن بن القاسم رحمہ اللہ کے بیان کردہ الموطأ کا نسخہ درج ہے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ سفر میں روزہ افطار کرنا درست ہے۔