صحيح البخاري
كتاب المغازي— کتاب: غزوات کے بیان میں
بَابُ بَعْثُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ إِلَى الْحُرَقَاتِ مِنْ جُهَيْنَةَ: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو حرقات کے مقابلہ پر بھیجنا۔
حدیث نمبر: 4272
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ ، وَغَزَوْتُ مَعَ ابْنِ حَارِثَةَ اسْتَعْمَلَهُ عَلَيْنَا " .مولانا داود راز
´ہم سے ابوعاصم الضحاک بن مخلد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا ‘ ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزووں میں شریک رہا ہوں اور میں نے ابن حارثہ ( یعنی اسامہ رضی اللہ عنہ ) کے ساتھ بھی غزوہ کیا ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہم پر امیر بنایا تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
4272. حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ کے ساتھ سات جنگوں میں شرکت کی ہے۔ اور میں نے ابن حارثہ کے ہمراہ بھی ایک جنگ میں شرکت کی تھی۔ آپ ﷺ نے انہیں ہم پر امیر مقرر کیا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4272]
حدیث حاشیہ: یہ اس روایت کے خلاف نہیں جس میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ نو جہاد مذکور ہیں۔
شاید سلمہ نے وادی القری اور عمرہ قضا کا سفر بھی جہاد سمجھ لیا اس طرح نو ہو گئے۔
قسطلانی نے کہا یہ حدیث امام بخاری کی پندرہویں ثلاثی حدیث ہے۔
حارثہ حضرت اسامہ کے دادا کا نام ہے۔
(وحیدی)
شاید سلمہ نے وادی القری اور عمرہ قضا کا سفر بھی جہاد سمجھ لیا اس طرح نو ہو گئے۔
قسطلانی نے کہا یہ حدیث امام بخاری کی پندرہویں ثلاثی حدیث ہے۔
حارثہ حضرت اسامہ کے دادا کا نام ہے۔
(وحیدی)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4272 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4273 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
4273. حضرت سلمہ بن اکوع ؓ ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے نبی ﷺ کے ہمراہ سات جنگیں لڑی ہیں۔ انہوں نے غزوہ خیبر، غزوہ حدیبیہ، غزوہ حنین اور غزوہ ذاتِ قرد کا ذکر کیا۔ (راوی حدیث) یزید بن ابو عبید نے کہا کہ بقی غزوات کے نام میں بھول گیا ہوں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4273]
حدیث حاشیہ: ان جملہ غزوات کا بیان اسی پارے میں جگہ جگہ مذکور ہوا ہے۔
ذات القرد کا واقعہ پارے کے شروع میں ملاحظہ کیا جائے۔
یہ ان ڈاکوؤں کے خلاف غزوہ تھا جو آنحضرت ﷺ کی بیس عدد دودھ دینے والی اونٹنیوں کو بھگا کر لے جارہے تھے۔
جنگ خیبر سے چند روزپیشتر یہ حادثہ پیش آیا تھا۔
مزید جن غزوات کے نام بھول گئے ان سے مراد غزوئہ فتح مکہ غزوئہ طائف اور غزوئہ تبوک ہیں۔
(فتح)
ذات القرد کا واقعہ پارے کے شروع میں ملاحظہ کیا جائے۔
یہ ان ڈاکوؤں کے خلاف غزوہ تھا جو آنحضرت ﷺ کی بیس عدد دودھ دینے والی اونٹنیوں کو بھگا کر لے جارہے تھے۔
جنگ خیبر سے چند روزپیشتر یہ حادثہ پیش آیا تھا۔
مزید جن غزوات کے نام بھول گئے ان سے مراد غزوئہ فتح مکہ غزوئہ طائف اور غزوئہ تبوک ہیں۔
(فتح)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4273 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4273 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4273. حضرت سلمہ بن اکوع ؓ ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے نبی ﷺ کے ہمراہ سات جنگیں لڑی ہیں۔ انہوں نے غزوہ خیبر، غزوہ حدیبیہ، غزوہ حنین اور غزوہ ذاتِ قرد کا ذکر کیا۔ (راوی حدیث) یزید بن ابو عبید نے کہا کہ بقی غزوات کے نام میں بھول گیا ہوں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4273]
حدیث حاشیہ:
یزید بن ابوعبید حضرت سلمہ بن اکوع ؓ کا آزاد کرنا غلام ہے۔
حضرت سلمہ بن اکوع ؓ جن سات غزوات میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک تھے، ان کی تفصیل حسب ذیل ہے: غزوہ خیبر، غزوہ حدیبیہ، غزوہ حنین، غزوہ قرد، غزوہ فتح مکہ، غزوہ طائف اور غزوہ تبوک۔
اور یہ رسول اللہ ﷺ کا آخری غزوہ ہے۔
ایک روایت میں نوغزوات کاذکر ہے۔
ممکن ہے کہ ان میں ایک غزوہ وادی القری ہوجو خیبر کے بعد ہوا اور دوسرا عمرۃ القضا ہو، جسے غزوہ شمار کرلیا گیاہو۔
(فتح الباري: 648/7۔
)
اور جن سرایا میں حضرت ابوبکر ؓ امیر تھے ان میں سے سریہ بنو فزارہ اور سریہ بنوکلاب ہے، اسی طرح نوہجری میں حج کے لیے انھیں روانہ کیا تھا، یہ بھی ابوبکر ؓ کی سربراہی میں ہواتھا، اسی طرح حضرت اسامہ ؓ کی سربراہی میں دوسرا یا کاذکر ملتا ہے۔
یہ پانچ سرایا ہیں، باقی چار کو بھی تلاش کیاجاسکتا ہے۔
(فتح الباري: 649/7۔
)
ان سرایامیں رسول اللہ ﷺ نے کبھی امیرلشکر حضرت ابوبکر ؓ جیسے اکابر کو بنایا اور کبھی حضرت اسامہ ؓ جیسے نوجوانوں کو، لیکن کسی کے دل میں امر کا خیال نہیں آیا کہ امیر لشکرچھوٹا یا یا بڑا، بلکہ تمام شرکاء نے رسول اللہ ﷺ کے فرمان ذیشان کے سامنے سرتسلیم خم کردیا۔
رسول اللہ ﷺ کا ا رشاد گرامی تھا کہ اگر کوئی حبشی غلام بھی تم پر امیر بنادیا جائے تو اس کی اطاعت بھی تمہارا فرض ہے۔
(صحیح البخاري، الأحکام، حدیث: 7142۔
)
یزید بن ابوعبید حضرت سلمہ بن اکوع ؓ کا آزاد کرنا غلام ہے۔
حضرت سلمہ بن اکوع ؓ جن سات غزوات میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک تھے، ان کی تفصیل حسب ذیل ہے: غزوہ خیبر، غزوہ حدیبیہ، غزوہ حنین، غزوہ قرد، غزوہ فتح مکہ، غزوہ طائف اور غزوہ تبوک۔
اور یہ رسول اللہ ﷺ کا آخری غزوہ ہے۔
ایک روایت میں نوغزوات کاذکر ہے۔
ممکن ہے کہ ان میں ایک غزوہ وادی القری ہوجو خیبر کے بعد ہوا اور دوسرا عمرۃ القضا ہو، جسے غزوہ شمار کرلیا گیاہو۔
(فتح الباري: 648/7۔
)
اور جن سرایا میں حضرت ابوبکر ؓ امیر تھے ان میں سے سریہ بنو فزارہ اور سریہ بنوکلاب ہے، اسی طرح نوہجری میں حج کے لیے انھیں روانہ کیا تھا، یہ بھی ابوبکر ؓ کی سربراہی میں ہواتھا، اسی طرح حضرت اسامہ ؓ کی سربراہی میں دوسرا یا کاذکر ملتا ہے۔
یہ پانچ سرایا ہیں، باقی چار کو بھی تلاش کیاجاسکتا ہے۔
(فتح الباري: 649/7۔
)
ان سرایامیں رسول اللہ ﷺ نے کبھی امیرلشکر حضرت ابوبکر ؓ جیسے اکابر کو بنایا اور کبھی حضرت اسامہ ؓ جیسے نوجوانوں کو، لیکن کسی کے دل میں امر کا خیال نہیں آیا کہ امیر لشکرچھوٹا یا یا بڑا، بلکہ تمام شرکاء نے رسول اللہ ﷺ کے فرمان ذیشان کے سامنے سرتسلیم خم کردیا۔
رسول اللہ ﷺ کا ا رشاد گرامی تھا کہ اگر کوئی حبشی غلام بھی تم پر امیر بنادیا جائے تو اس کی اطاعت بھی تمہارا فرض ہے۔
(صحیح البخاري، الأحکام، حدیث: 7142۔
)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4273 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4271 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
4271. حضرت سلمہ بن اکوع ؓ ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کے ہمراہ سات غزوات میں حصہ لیا اور نو ایسے لشکروں میں شرکت کی ہے جنہیں خود آپ ﷺ نے روانہ کیا تھا۔ کبھی ہمارے امیر حضرت ابوبکر ؓ ہوتے اور کبھی حضرت اسامہ بن زید ؓ ہوتے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4271]
حدیث حاشیہ: راوی کا مقصد یہ ہے کہ جملہ غزوات میں رسول کریم ﷺ نے کبھی امیر لشکر ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسے اکابر کو بنایا ا ور کبھی اسامہ ؓ جیسے نوجوانوں کو مگر ہم لوگوں نے کبھی اس بارے میں امیر لشکر کے بڑے چھوٹے ہونے کا خیال نہیں کیا بلکہ فرمان رسالت کے سامنے سر تسلیم خم کردیا۔
آپ نے بار بار فرمادیا تھا کہ اگر کوئی حبشی غلام بھی تم پر امیر بنا دیا جائے تو اس کی اطاعت تمہارا فرض ہے۔
آپ نے بار بار فرمادیا تھا کہ اگر کوئی حبشی غلام بھی تم پر امیر بنا دیا جائے تو اس کی اطاعت تمہارا فرض ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4271 سے ماخوذ ہے۔