صحيح البخاري
كتاب المغازي— کتاب: غزوات کے بیان میں
بَابُ بَعْثُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ إِلَى الْحُرَقَاتِ مِنْ جُهَيْنَةَ: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو حرقات کے مقابلہ پر بھیجنا۔
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو ظَبْيَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحُرَقَةِ ، فَصَبَّحْنَا الْقَوْمَ فَهَزَمْنَاهُمْ ، وَلَحِقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ رَجُلًا مِنْهُمْ ، فَلَمَّا غَشِينَاهُ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَكَفَّ الْأَنْصَارِيُّ فَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي حَتَّى قَتَلْتُهُ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " يَا أُسَامَةُ ، أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ؟ " ، قُلْتُ : كَانَ مُتَعَوِّذًا فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَسْلَمْتُ قَبْلَ ذَلِكَ الْيَوْمِ .´مجھ سے عمرو بن محمد بغدادی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا ‘ انہیں حصین نے خبر دی ‘ انہیں ابوظبیان حصین بن جندب نے ‘ کہا کہ میں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ` ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ حرقہ کی طرف بھیجا ۔ ہم نے صبح کے وقت ان پر حملہ کیا اور انہیں شکست دے دی ‘ پھر میں اور ایک اور انصاری صحابی اس قبیلہ کے ایک شخص ( مرداس بن عمر نامی ) سے بھڑ گئے ۔ جب ہم نے اس پر غلبہ پا لیا تو وہ لا الہٰ الا اللہ کہنے لگا ۔ انصاری تو فوراً ہی رک گیا لیکن میں نے اسے اپنے برچھے سے قتل کر دیا ۔ جب ہم لوٹے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس کی خبر ہوئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اسامہ کیا اس کے لا الہٰ الا اللہ کہنے کے باوجود تم نے اسے قتل کر دیا ؟ میں نے عرض کیا کہ وہ قتل سے بچنا چاہتا تھا ( اس نے یہ کلمہ دل سے نہیں پڑھا تھا ) ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باربار یہی فرماتے رہے ( کیا تم نے اس کے لا الہٰ الا اللہ کہنے پر بھی اسے قتل کر دیا ) کہ میرے دل میں یہ آرزو پیدا ہوئی کہ کاش میں آج سے پہلے اسلام نہ لاتا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اسامہ ؓ کے دل میں تمنا پیدا ہوئی کہ کاش میں آج سے پہلے مسلمان نہ ہوتا اور مجھ سے یہ غلطی سرزد نہ ہوتی اور آج جب اسلام لاتا تو میرے پچھلے سارے گناہ معاف ہو چکے ہوتے۔
کیونکہ اسلام کفر کی زندگی کے تمام گناہوں کو معاف کرادیتا ہے۔
اسی لیے کسی کلمہ گو کی تکفیر کرنا وہ بد ترین حرکت ہے۔
جس نے مسلمانوں کی ملی طاقت کو پاش پاش کر کے رکھ دیا ہے۔
مزید افسوس ان علماءپر ہے جو ذراذرا سی باتوں پر تیر تکفیر چلاتے رہتے ہیں۔
ایسے علماءکو بھی سوچنا چاہیے کہ وہ کلمہ پڑھنے والوں کو کافر بنابناکر خدا کو کیا منہ دکھلائیں گے۔
ہاں اگر کوئی کلمہ گو افعال کفر کا ارتکاب کرے اور توبہ نہ کرے تو ان افعال کفریہ میں اس کی طرف لفظ کفر کی نسبت کی جاسکتی ہے۔
جو”کفر دون کفر“ کے تحت ہے۔
بہر حال افراط تفریط سے بچنا لازم ہے۔
''لانکفر أهل القبلة'' جملہ مسالک اہل سنت کا متفقہ اصول ہے۔
1۔
بسااوقات انسان ذاتی طور پر اپنے مقاصد پر نظر رکھتا ہے اور جو مفاسد اس سے لازم آتے ہیں، اس کی طرف اس کی نظر نہیں جاتی، اس بنا پرحضرت اسامہ ؓ نے یہ تمنا اس لیے کی تھی کہ وہ اس جرم عظیم سے بری ہوجائیں اور مذکورہ عتاب سے محفوظ رہیں، اس خوف کی بنا پر ہ تمنا تھی، یعنی انھیں ایسے اسلام کی تمناتھی جس میں گناہ نہ ہو۔
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں: ان کی تمنا تھی کہ وہ آج مسلمان ہوتے تاکہ مذکورہ گناہ عظیم اسلام لانے کی وجہ سے معاف ہوجاتا کیونکہ اسلام لانے سے پہلے گناہ معاف ہوجاتے ہیں، الغرض انھیں یہ گناہ مٹانے کی تمناہوئی عدم اسلام کی تمنا نہیں تھی۔
(فتح الباري: 244/12)
حضرت اسامہ ؓ نے اسے درج ذیل آیت کے پیش نظر قتل کیاتھا: ’’جب ہمارے عذاب کو دیکھ لیں تو ان کا ایمان لانا انھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا۔
‘‘ (المؤمن: 85: 40۔
)
رسول اللہ ﷺ نے حضرت اسامہ ؓ کو اس وجہ سے معذور خیال کیا اور ان پردیت وغیرہ واجب نہ کی۔
مؤرخین کے ہاں مشہور ہے کہ اس غزوے میں حضرت غالب بن عبداللہ لیثی ؓ امیر تھے اور اسی موقع پر یہ آیت نازل ہوئی تھی: ’’جب تمھیں کوئی اسلام کہے تو تم اسے یہ نہ کہو کہ تو مومن نہیں۔
‘‘ (النساء: 94: 4۔
)
اور جس شخص کو حضرت اسامہ ؓ نے قتل کیا تھا اس کا نام مرداس بن نہیک اور وہ بکریوں کا چروایا تھا۔
(فتح الباري: 242/12۔
)
واللہ اعلم۔
دوسری روایت میں یوں ہے کہ کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا۔
مطلب یہ ہے کہ دل کا حال اللہ کو معلوم ہے، جب اس نے زبان سے کلمہ توحید پڑھا تو اس کو چھوڑ دینا تھا، مسلمان سمجھنا تھا۔
اس حدیث سے کلمہ توحید پڑھنے والے کا مقام سمجھا جا سکتا ہے۔
کاش ہمارے وہ علمائے کرام و واعظین حضرات جو بات بات پر تیر کفر چلاتے رہتے ہیں اور اپنے مخالف کو فوراً کافر بے ایمان کہہ ڈالتے ہیں کاش اس حدیث پر غور کر سکیں اور اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کر سکیں، لیکن بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
(1)
ایک روایت میں ہے کہ جب میں نے اسے قتل کردیا تو میرے دل میں کھٹکا پیدا ہوا تو میں نے خود ہی یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی دی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم نے لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّھ کے اقرار کے بعد اسے قتل کر دیا؟‘‘ میں نے عرض کی: اس نے ہتھیار کے خوف سے اقرار کیا تھا۔
آپ نے فرمایا: ’’کیا تم نے اس کا دل پھاڑ کر دیکھا تھا کہ اس نے بچاؤ کے لیے اقرار کیا ہے۔
‘‘ (صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 277(96)
مطلب یہ ہے کہ دل کا حال تو اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے، جب اس نے زبان سے کلمۂ توحید پرھ لیا تھا تو اسے چھوڑ دینا چاہیے تھا اور اس کے کلمے کا اعتبار کرنا چاہیے تھا۔
(2)
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے اس شخص کا کافر خیال کرتے ہوئے قتل کیا تھا اور کلمۂ توحید سن کر یہ سمجھا کہ وہ صرف قتل سے بچنے کے لیے کلمۂ توحید کہہ رہا ہے۔
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ اس واقعے کے بعد کسی کو قتل کرنے میں جلدی نہ کرتے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ وہ جنگ صفین اور جنگ جمل میں کنارہ کش رہے۔
(فتح الباري: 244/12)
ایک روایت میں ہے کہ اس طرح کا ایک واقعہ کسی دوسرے شخص کے ساتھ بھی پیش آیا۔
کچھ وقت کے بعد قاتل بھی فوت ہو گیا جب اسے دفن کیا گیا تو زمین نے اسے قبول نہ کیا۔
دو تین بار دفنانے کے بعد صحابہ نے اسے دو پہاڑوں کے درمیان وادی میں پھینک دیا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی گئی تو آپ نے فرمایا: ’’زمین اس سے بدترین لوگوں کو قبول کر لیتی ہے لیکن اس واقعے سے اللہ تعالیٰ تمھیں لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّھ کی عظمت دکھانا چاہتا ہے۔
‘‘ (سنن ابن ماجة، الفتن، حدیث: 3930 م)
: (1)
حُرَقَات: بقول بعض جہینہ کے علاقہ میں ایک بستی کا نام ہے۔
اور بعض کے نزدیک یہ قبیلہ جہینہ کی ایک شاخ اور خاندان ہے۔
(2)
فِتْنَةٌ: آزمائش، امتحان، مقصود ہے دین سے برگشتہ کرنے کی طاقت نہ رہے۔
(3)
فَصَبَّحْنَا الْحُرَقَاتِ: جگہ کا نام ہو تو صبح کے وقت پہنچے، اگر خاندان ہو تو صبح صبح حملہ آور ہوئے۔
(4)
ذُو الْبُطَيْنِ: باء کے فتحہ کے ساتھ بَطنٌ کی تصغیر، بڑے پیٹ والا، حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کا پیٹ بڑھا ہوا تھا۔
فوائد ومسائل:
(1)
میدان جنگ میں اگر کافر کلمہ پڑھ لے تو وہ مسلمان تصور ہوگا، کیونک ہم ظاہر کے پابند ہیں، کسی کے دل سے آگاہی ہمارے بس میں نہیں ہے، اس لیے یہ کہہ کر کہ اس نے کلمہ جان بچانے کے لیے پڑھا ہے اس کو قتل کرناجائز نہیں ہوگا۔
(2)
حضرت اسامہ ؓ نے ایک کافر کو کلمہ پڑھنےکے باوجود قتل کر دیا تھا، لیکن آپ ﷺ نے اس پرقصاص، دین یا کفارہ لازم نہیں ٹھہرایا، صرف غصے کا اظہار کیا، جس کی بنا پر حضرت اسامہ ؓ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ کاش! میں آج مسلمان ہوا ہوتا تاکہ اس جرم کے گناہ معاف ہوجاتے۔
حضرت اسامہ ؓ کے دل میں یہ خواہش ندامت وپشیمانی کا اظہار تھا، یہ مقصد نہ تھا کہ میں آج سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا۔
حضرت اسامہ ؓ چونکہ اس اصول سے آگاہ نہ تھے کہ ہم ظاہر کے پابند ہیں، باطن اللہ کے سپرد ہے، اس لیے انہوں نے ظاہری قرآن سے یہ سمجھا کہ اس نے ڈر کر کلمہ پڑھا ہے، اس لیے اس کا خون بہانا جائز ہے، اس لیے ان کو سزا نہیں دی گئی۔
(3)
حضرت سعد ؓ اور اسامہ ؓ، حضرت علی ؓ اور حضرت معاویہ ؓ کی جنگوں میں الگ تھلگ ہوگئے تھے- وہ مسلمانوں کی باہمی جنگوں کوفتنہ برپا کرنے سے تعبیر کرتے تھے، اس لیے شراکت کےلیے آمادہ نہ ہوئے۔
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حرقات ۱؎ کی طرف ایک سریہ میں بھیجا، تو ان کافروں کو ہمارے آنے کا علم ہو گیا، چنانچہ وہ سب بھاگ کھڑے ہوئے، لیکن ہم نے ایک آدمی کو پکڑ لیا، جب ہم نے اسے گھیرے میں لے لیا تو «لا إله إلا الله» کہنے لگا (اس کے باوجود) ہم نے اسے مارا یہاں تک کہ اسے قتل کر دیا، پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قیامت کے دن «لا إله إلا الله» کے سامنے تیری مدد کون کرے گا؟ “ میں نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے یہ بات تلوار کے ڈر سے کہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2643]
1۔
کافر جب بھی توحید ورسالت کا اقرار کرلے مقبول ہے۔
اور اس کی جان ومال کا محفوظ ہونا واجب ہے۔
2۔
احکام شریعت کا اعتبارونفاذ ظاہر پر ہوتاہے۔
دلوں کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔
3۔
حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ عمل ایک اجتہادی خطا تھی۔
اس لئے ان پرکوئی دیت لازم نہ کی گئی۔
4۔
کلمہ گو کا قتل کبیرہ گناہ ہے۔
5۔
شہادت توحید اللہ کے ہاں باعث نجات ہے۔