مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 4266
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي قَيْسٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ ، يَقُولُ : " لَقَدْ دُقَّ فِي يَدِي يَوْمَ مُؤْتَةَ تِسْعَةُ أَسْيَافٍ ، وَصَبَرَتْ فِي يَدِي صَفِيحَةٌ لِي يَمَانِيَةٌ " .
مولانا داود راز

´مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ‘ ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا ‘ ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ` غزوہ موتہ میں میرے ہاتھ سے نو تلواریں ٹوٹی تھیں ‘ صرف ایک یمنی تیغہ میرے ہاتھ میں باقی رہ گیا تھا ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4266
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
4266. حضرت خالد بن ولید ؓ ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: غزوہ موتہ میں میرے ہاتھ سے نو تلواریں ٹوٹی تھیں اور میرے ہاتھ میں صرف ایک یمنی چوڑی تلوار رہ گئی تھی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4266]
حدیث حاشیہ: یہ حضرت خالد ؓ کی کمال بہادری دلیری اور جرا ت کی دلیل ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4266 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
4266. حضرت خالد بن ولید ؓ ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: غزوہ موتہ میں میرے ہاتھ سے نو تلواریں ٹوٹی تھیں اور میرے ہاتھ میں صرف ایک یمنی چوڑی تلوار رہ گئی تھی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4266]
حدیث حاشیہ:

غزوہ موتہ کے معرکے نے مسلمانوں کی ساکھ اور شہرت میں بہت زیادہ اضافہ کیا کیونکہ مد مقابل رومی اس وقت روئے زمین پر سب سے زیادہ طاقتور تھے۔
عرب سمجھتے تھے کہ ان سے ٹکرلینا خود کشی کے مترادف ہے، اس لیے تین ہزار کی ذرا سی نفری کا دولاکھ کے بھاری بھرکم لشکر سے ٹکراجانا عجوبہ روزگار سے کم نہ تھا۔
اس جنگ میں صرف بارہ مسلمان شہید ہوئے اور رومیوں کے مقتولین کی تعداد کا علم نہیں ہوسکا، البتہ مذکورہ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بڑی تعداد میں جہنم واصل ہوئے۔
اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جب تنہا حضرت خالد بن ولید ؓ کے ہاتھ میں نوتلواریں ٹوٹ گئیں تومقتولین اور مجروحین کی تعداد کتنی رہی ہوگی۔

حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ اس جنگ میں مسلمانوں نے رومیوں کو بھاری نقصان پہنچایا اور بہت سے مشرک قتل کیے اور حضرت خالد بن ولید ؓ نے نہ صرف مسلمانوں کو نقصان سے محفوظ رکھا بلکہ خود جنگ میں شرکت کرکےبہت سے مشرک قتل کیے اور انھیں بھاری نقصان پہنچایا۔
(فتح الباري: 646/7۔
)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4266 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔