مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 4261
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ , حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : أَمَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ مُؤْتَةَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ قُتِلَ زَيْدٌ فَجَعْفَرٌ ، وَإِنْ قُتِلَ جَعْفَرٌ فَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : كُنْتُ فِيهِمْ فِي تِلْكَ الْغَزْوَةِ ، فَالْتَمَسْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَوَجَدْنَاهُ فِي الْقَتْلَى ، وَوَجَدْنَا مَا فِي جَسَدِهِ بِضْعًا وَتِسْعِينَ مِنْ طَعْنَةٍ وَرَمْيَةٍ .
مولانا داود راز

´ہمیں احمد بن ابی بکر نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا ہم سے مغیرہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ‘ ان سے عبداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ موتہ کے لشکر کا امیر زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو بنایا تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرما دیا تھا کہ اگر زید شہید ہو جائیں تو جعفر امیر ہوں اور اگر جعفر بھی شہید ہو جائیں تو عبداللہ بن رواحہ امیر ہوں ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اس غزوہ میں ‘ میں بھی شریک تھا ۔ بعد میں جب ہم نے جعفر رضی اللہ عنہ کو تلاش کیا تو ان کی لاش ہمیں شہداء میں ملی اور ان کے جسم پر کچھ اوپر نوے زخم نیزوں اور تیروں کے تھے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4261
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
4261. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے جنگ موتہ میں حضرت زید بن حارثہ ؓ کو امیر مقرر کیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اگر زید شہید ہو جائیں تو جعفر اور اگر جعفر شہید ہو جائیں تو عبداللہ بن رواحہ امیر ہوں گے۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں: میں اس جنگ میں مجاہدین کے ساتھ موجود تھا۔ جب ہم نے حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ کو تلاش کیا تو ان کی لاش دیگر لاشوں میں پڑی ہوئی تھی اور ہم نے ان کے جسم پر نیزوں اور تیروں کے نوے سے زیادہ زخم دیکھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4261]
حدیث حاشیہ: اس حدیث سے صاف ظاہر ہوا کہ رسول کریم ﷺ اگر غیب داں ہو تے تو ہر گز یہ نقصان نہ ہونے دیتے اور پہلے ہی شہداءکرام کو امیر بننے سے روک دیتے مگر غیب داں صرف اللہ ہی ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4261 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
4261. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے جنگ موتہ میں حضرت زید بن حارثہ ؓ کو امیر مقرر کیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اگر زید شہید ہو جائیں تو جعفر اور اگر جعفر شہید ہو جائیں تو عبداللہ بن رواحہ امیر ہوں گے۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں: میں اس جنگ میں مجاہدین کے ساتھ موجود تھا۔ جب ہم نے حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ کو تلاش کیا تو ان کی لاش دیگر لاشوں میں پڑی ہوئی تھی اور ہم نے ان کے جسم پر نیزوں اور تیروں کے نوے سے زیادہ زخم دیکھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4261]
حدیث حاشیہ:

رسول اللہ ﷺ غیب دان نہ تھے اگر ایسا ہوتا تو ہر گز یہ نقصان نہ ہوتے۔
بہر حال رسول اللہ ﷺ کی پیشین گوئی کے مطابق جب حضرت زید بن حارث ؓ جنگ میں شہید ہو گئے تو حضرت جعفر ؓ نے کمان سنبھال لی۔
رومیوں نے دوران جنگ میں حضرت جعفر ؓ کا دایاں ہاتھ کاٹ دیا تو انھوں نے اسلامی جھنڈا دوسرے ہاتھ میں پکڑا لیا جب وہ ہاتھ بھی کاٹ دیا گیا اور آپ شہید ہو گئے تو حضرت عبد اللہ رواحہ ؓ نے اسلامی جھنڈا تھام لیا۔
جب وہ بھی شہید ہو گئے تو حضرت خالد بن ولید ؓ بنے جھنڈا اپنے ہاتھ میں لے لیا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح و نصرت سے ہمکنار کیا2۔
حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ جب تینوں امراء شہید ہو گئےتو مسلمانوں نے ان حضرات کو ایک ہی قبر میں دفن کیا۔
رضي اللہ تعالیٰ عنه۔
۔
۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4261 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔