حدیث نمبر: 4246
وَقَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ ، حَدَّثَاهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَخَا بَنِي عَدِيٍّ مِنْ الْأَنْصَارِ إِلَى خَيْبَرَ ، فَأَمَّرَهُ عَلَيْهَا ،
مولانا داود راز

´اور عبدالعزیز بن محمد نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالمجید نے بیان کیا ‘ ان سے سعید نے بیان کیا اور ان سے ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے خاندان بنی عدی کے بھائی کو خیبر بھیجا اور انہیں وہاں کا عامل مقرر کیا اور عبدالمجید سے روایت ہے کہ ان سے ابوصالح سمان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اسی طرح نقل کیا ہے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4246
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
4246. حضرت ابو سعید اور حضرت ابو ہریرہ‬ ؓ ہ‬ی سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے انصار کے خاندان بنو عدی کے بھائی کو خیبر بھیجا اور اسے وہاں کا عامل مقرر فرمایا۔ عبدالمجید سے روایت ہے، انہوں نے ابو صالح سمان سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابو سعید خدری ؓ سے اسی طرح نقل کیا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4246]
حدیث حاشیہ: خیبر کے پہلے عامل حضرت سواد بن غزیہ نامی انصاری ؓ مقرر کئے گئے تھے۔
یہی وہاں کی کھجوریں بطور تحفہ لائے تھے جس پر آنحضرت ﷺ نے ان کو مذکورہ بالا ہدایت فرمائی۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4246 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
4246. حضرت ابو سعید اور حضرت ابو ہریرہ‬ ؓ ہ‬ی سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے انصار کے خاندان بنو عدی کے بھائی کو خیبر بھیجا اور اسے وہاں کا عامل مقرر فرمایا۔ عبدالمجید سے روایت ہے، انہوں نے ابو صالح سمان سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابو سعید خدری ؓ سے اسی طرح نقل کیا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4246]
حدیث حاشیہ:

رسول اللہ ﷺ نے بنوعدی کے جس انصاری شخص کو خیبر کا عامل مقرر کیا تھا اس کا نام سواد بن غزیہ ہےیہ وہاں کے پہلے تحصیل دار تھے۔
انھیں آپ نے خیبر کی زمین کا خراج اور وہاں کے باغات کا حصہ وصول کرنے کے لیے تعینات کیا تھا2۔
خطیب بغدادی نے ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خبیر کے لیے ابن صعصعہ ؓ کو عامل مقرر کیا تھا۔
شاید یہ کوئی اور واقعہ ہو گا کیونکہ ابو عوانہ اور دارقطنی میں صراحت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ عدی بن نجار سے حضرت سواد بن غزیہ کو خیبرکا تحصیل دار مقرر کیا تھا۔
(سنن الدارقطنی: 17/3، وفتح الباری: 621/7)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4246 سے ماخوذ ہے۔