حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي زَيْدٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : " أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا أَنْ أَتْرُكَ آخِرَ النَّاسِ بَبَّانًا لَيْسَ لَهُمْ شَيْءٌ مَا فُتِحَتْ عَلَيَّ قَرْيَةٌ إِلَّا قَسَمْتُهَا كَمَا قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ ، وَلَكِنِّي أَتْرُكُهَا خِزَانَةً لَهُمْ يَقْتَسِمُونَهَا " .´ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی ‘ کہا کہ مجھے زید نے خبر دی ‘ انہیں ان کے والد نے اور انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا` انہوں نے کہا ہاں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر اس کا خطرہ نہ ہوتا کہ بعد کی نسلیں بے جائیداد رہ جائیں گی اور ان کے پاس کچھ نہ ہو گا تو جو بھی بستی میرے زمانہ خلافت میں فتح ہوتی ‘ میں اسے اسی طرح تقسیم کر دیتا جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی تقسیم کی تھی ۔ میں ان مفتوحہ اراضی کو بعد میں آنے والے مسلمانوں کے لیے محفوظ چھوڑے جا رہا ہوں تاکہ وہ اسے تقسیم کرتے رہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
چنانچہ مفتوحہ اراضی کو انہوں نے قواعد شرعیہ کے تحت اسی طرح تقسیم کیا اور حضرت عمر ؓ کا فرمان صحیح ثابت ہوا۔
حدیث میں ببان۔
۔
۔
۔
کا لفظ آیا ہے دو بائے موحدہ سے دوسری باءمشدد ہے۔
ابو عبید ؓ کہتے ہیں میں سمجھتا ہوں یہ لفظ عربی کا نہیں ہے۔
زہری کہتے ہیں یہ یمن کی زبان کا ایک لفظ ہے جو عربوں میں مشہور نہیں ہوا۔
ببان کے معنی یکساں ایک طریق اور ایک روش پر اور بعضوں نے کہا نادار محتاج کے معنی میں ہے۔
(وحیدی)
اگر میں تمام مفتوحہ ممالک کو غازیوں میں تقسیم کرتا چلا جاؤں تو آئندہ محتاج مسلمان محروم رہ جائیں گے۔
یہ حضرت عمر ؓ نے اس وقت فرمایا جب سواد کا ملک فتح ہوا۔
(1)
حضرت عمر ؓ کے دور حکومت میں جب ایران اور عراق کے علاقے فتح ہوئے تو انہوں نے وہاں کی زمینیں مجاہدین میں تقسیم نہ کیں بلکہ وہاں کے اہل ذمہ کے پاس بطور مزارعت رہنے دیں، البتہ ان کی پیداوار سے مسلمان مستفید ہوتے تھے۔
ان زمینوں کی حکومت کی ملکیت رکھا کیونکہ اگر مفتوحہ علاقوں کی زمین بانٹ دی جاتی تو بعد میں آنے والے لوگ کہاں جاتے۔
(2)
رسول اللہ ﷺ نے خیبر کی فتح تک تمام مفتوحہ زمینیں مجاہدین میں تقسیم کیں تو حضرت عمر ؓ نے شام کی زمین کو بحق سرکار کیوں روکا؟ امام بخاری ؒ نے ترجمہ الباب میں حضرت عمر ؓ کی حدیث لا کر اس اعتراض کا جواب دیا ہے کہ خلیفہ کو حق ہے کہ مصلحت کے پیش نظر اس میں ردوبدل کرے جس طرح رسول اکرم ﷺ نے حضرت عمر ؓ کے صدقے کو مسلمانوں کی مصلحت کے لیے بحق سرکار وقف کیا اسی طرح حضرت عمر ؓ نے شام کی زمینیں مسلمانوں کی مصلحت کے پیش نظر مزارعت پر دے دیں۔
(3)
جب وقف زمینیں مزارعت پر دی جا سکتی ہیں تو مملوکہ زمینیں بھی دی جا سکتیں ہیں کیونکہ ان دونوں کا ایک ہی معاملہ ہے۔
اس لیے خزانہ میں ملک کی تحصیل جمع رکھتا ہوں کہ آئندہ ایسے مسلمانوں کے کام آئے۔
منقولہ اشیاء تومجاہدین میں تقسیم کی جاتی رہی ہیں لیکن غیر منقولہ اراضی کے متعلق امام کو اختیار ہے کہ وہ انھیں تقسیم کر سے یا مصالح عامہ کے لیے انھیں رکھ لے۔
حضرت عمر ؓ نے اپنے صوابدیدی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے مفتوحہ اراضی کو تقسیم نہیں کیا۔
اعتراض ہوسکتا ہے کہ حضرت عمر ؓ کو غانمین کے حق دبانے کا اختیار تھا؟ تواس کا جواب یہ ہے کہ آپ نے ہبہ وغیرہ دے کر غانمین کوراضی کیا، پھر ان مفتوحہ اراضی کو مسلمانوں کے لیے وقف فرمایا، کہیں ایسا نہ ہوکہ لوگوں پر بخل کا غلبہ ہوجائے اور آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے کچھ بھی نہ چھوڑیں۔
علامہ عینی ؓ نے اس امر پر امت کا اجماع لکھا ہے کہ اگر امام کسی وقت ان کی تقسیم مناسب خیال کرے اور وہ اپنی صوابدید کے مطابق اسے بانٹنا چاہے تو وہ اپنے مفتوحہ علاقے کو تقسیم کرسکتا ہے۔
(فتح الباري: 612/7۔
)
بہرحال حضرت عمر ؓ نے سرزمین عراق کو تقسیم نہیں کیا بلکہ اسے مصالح عامہ کے لیے وقف کردیاتھا۔
لیکن یہ خراج اسلامی قاعدے کے موافق مسلمانوں ہی پر خرچ کیا جائے‘ یعنی محتاجوں‘ یتیموں کی خبر گیری‘ جہاد کے سامان‘ اور اسباب کی تیاری میں غرض ملک کا محاصل بادشاہ کی ملک نہیں ہے۔
بلکہ عام مسلمانوں اور غازیوں کا مال ہے۔
بادشاہ بھی بطور ایک سپاہی کے اس میں سے اپنا خرچ لے سکتا ہے۔
یہ شرعی نظام ہے مگر صد افسوس کہ آج یہ بیشتر اسلامی ممالک سے مفقود ہے۔
فلیبك علی الإسلام إن کان باکیا۔
1۔
امام بخاری ؒ کا قائم کردہ عنوان دراصل حضرت عمر ؓ کا ایک قول ہے جسے مصنف عبدالرزاق میں صحیح سند سے نقل کیا گیا ہے کہ حضرت عمر ؓ نےحضرت عمار ؓ کو لکھا کہ غنیمت کا حقدار وہ مجاہد ہے جو میدان جنگ میں شریک ہو۔
(المصنف لعبدالرزاق: 302/5)
2۔
یہ حدیث بھی عنوان کے مطابق ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺنے خیبر کی فتح ہوئی زمین مجاہدین میں تقسیم کردی تھی، البتہ حضرت عمر ؓ نے ایک خارجی مصلحت کی بنا پر مفتوحہ زمینوں اور علاقوں کوتقسیم کرنے کی بجائے انھیں وقف کردیا اور ان سے حاصل ہونے والی پیداوار کو مسلمانوں کی ضروریات میں صرف کرتے تھے۔
(فتح الباري: 270/6)
شارح بخاری ابن منیر لکھتے ہیں: امام بخاری ؒ کے نزدیک فتح کی گئی زمینیں تقسیم کردینا ہی مناسب ہے کیونکہ بعد میں آنے والے مسلمان میدان جنگ میں شریک نہیں تھے کہ ان کےلیے اراضی وقف کردی جائے۔
ہمارا رجحان یہ ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی قول: غنیمت اس کا حق ہے جو لڑائی میں حاضر ہوا، اور عمل: انھوں نے مفتوحہ علاقے مجاہدین میں تقسیم نہیں کیے، میں تطبیق اس طرح دینا چاہتے ہیں کہ زمین وقف کردی جائے اور باقی مال غنیمت لڑائی میں شریک مجاہدین میں تقسیم کردیا جائے۔
(فتح الباري: 271/6)
دراصل حضرت عمر ؓ کے عملی موقف کی بنیاد سورہ حشر کی وہ آیات ہیں جن میں اموال فے کے حقداروں کا بیان ہے۔
ان میں سے پہلے محتاج مہاجرین کاذکر کیا، پھر ایثار کرنے والے انصار کا، تیسرے نمبر پر بعدمیں آنے والے اہل اسلام کا۔
(الحشر: 10،8)
اگروہ مفتوحہ بستی کی زمینیں فاتحین میں تقسیم کردی جاتیں تو بعد میں آنے والے مسلمانوں کے لیے کچھ باقی نہ رہتا جبکہ قرآن کریم نے انھیں بھی حقدار ٹھہرایا ہے، اس لیے حضرت عمر ؓنے مفتوحہ اراضی تقسیم کرنے کی بجائے انھیں وقف کردی۔
واللہ أعلم۔
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اگر مجھے بعد میں آنے والے مسلمانوں کا (یعنی ان کی محتاجی کا) خیال نہ ہوتا تو جو بھی گاؤں و شہر فتح کیا جاتا اسے میں اسی طرح تقسیم کر دیتا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو تقسیم کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3020]
خیبر کا تقریبا ً نصف حصہ جو بطور غنیمت حاصل ہوا تھا۔
خمس نکالنے کے بعد تقسیم کردیا گیا۔
یہ بہت بڑا حصہ تھا۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اشارہ اسی طرف ہے۔
علاوہ ازیں مملکت اسلامیہ میں حسب احوال ایک ایسا فنڈ اور وقف محفوظ رہنا چاہیے۔
جو مسلمانوں کی اتفاقی ضروریات میں کام آسکے۔