حدیث نمبر: 4206
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ : " رَأَيْتُ أَثَرَ ضَرْبَةٍ فِي سَاقِ سَلَمَةَ , فَقُلْتُ : يَا أَبَا مُسْلِمٍ ، مَا هَذِهِ الضَّرْبَةُ ؟ فَقَالَ : هَذِهِ ضَرْبَةٌ أَصَابَتْنِي يَوْمَ خَيْبَرَ ، فَقَالَ النَّاسُ : أُصِيبَ سَلَمَةُ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَفَثَ فِيهِ ثَلَاثَ نَفَثَاتٍ ، فَمَا اشْتَكَيْتُهَا حَتَّى السَّاعَةِ " .
مولانا داود راز

´ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا ‘ کہا کہ` میں نے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی پنڈلی میں ایک زخم کا نشان دیکھ کر ان سے پوچھا : اے ابومسلم ! یہ زخم کا نشان کیسا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ غزوہ خیبر میں مجھے یہ زخم لگا تھا ‘ لوگ کہنے لگے کہ سلمہ زخمی ہو گیا ۔ چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ اس پر دم کیا ‘ اس کی برکت سے آج تک مجھے اس زخم سے کوئی تکلیف نہیں ہوئی ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4206
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 3894

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
4206. حضرت یزید بن ابو عبید سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت سلمہ بن اکوع ؓ کی پنڈلی پر ایک زخم کا نشان دیکھا تو ان سے پوچھا: ابومسلم! یہ زخم کیسا ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ تلوار کا زخم ہے جو مجھے خیبر کے دن لگا تھا۔ لوگوں نے کہا کہ سلمہ مارے گئے۔ تب میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے اس پر تین مرتبہ دم کیا۔ میں نے اس وقت سے اب تک اس زخم کی کوئی تکلیف محسوس نہیں کی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4206]
حدیث حاشیہ:

صحیح بخاری کی یہ چودھویں حدیث ہے۔
امام بخاری ؒ اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان صرف تین واسطے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ سلمہ بن اکوع ؓ نے بہت طویل عمر پائی تھی۔

اس حدیث میں امام بخاری ؒ کے استاذ مکی بن ابراہیم تبع تابعی ہیں اورمکی ان کا نام ہے، مکہ کی طرف نسبت نہیں۔

(نَفَث)
، (نَفَخ)
اور (تَفَل)
میں فرق یہ ہے کہ (نَفَخ)
کے معنی پھونک ہیں جس میں تھوک نہ ہو جبکہ (تَفَل)
میں تھوک ہوتا ہے اور(نَفَث)
، (نَفَخ)
اور (تَفَل)
کے درمیان ہوتا ہے یعنی اس میں پھونک کے ساتھ معمولی سا تھوک پایا جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4206 سے ماخوذ ہے۔