حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ النُّعْمَانِ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ : " خَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالصَّهْبَاءِ وَهِيَ مِنْ أَدْنَى خَيْبَرَ صَلَّى الْعَصْرَ ، ثُمَّ دَعَا بِالْأَزْوَادِ فَلَمْ يُؤْتَ إِلَّا بِالسَّوِيقِ ، فَأَمَرَ بِهِ ، فَثُرِّيَ فَأَكَلَ وَأَكَلْنَا ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْمَغْرِبِ ، فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " .´ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ‘ ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے ‘ ان سے یحییٰ بن سعید نے ‘ ان سے بشیر بن یسار نے اور انہیں سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ` غزوہ خیبر کے لیے وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تھے ۔ ( بیان کیا ) جب ہم مقام صہبا میں پہنچے جو خیبر کے نشیب میں واقع ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی پھر آپ نے توشہ سفر منگوایا ۔ ستو کے سوا اور کوئی چیز آپ کی خدمت میں نہیں لائی گئی ۔ وہ ستو آپ کے حکم سے بھگویا گیا اور وہی آپ نے بھی کھایا اور ہم نے بھی کھایا ۔ اس کے بعد مغرب کی نماز کے لیے آپ کھڑے ہوئے ( چونکہ وضو پہلے سے موجود تھا ) اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صرف کلی کی اور ہم نے بھی ‘ پھر نماز پڑھی اور اس نماز کے لیے نئے سرے سے وضو نہیں کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
رسول اللہ ﷺ جب صلح حدیبیہ سے واپس ہوئے تو راستے میں سورہ فتح نازل ہوئی جس میں خیبر فتح ہونے کی بشارت تھی ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اللہ تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کیا ہے جنھیں تم حاصل کرو گے، پھر اس نے یہ (فتح خیبر)
تمھیں جلد ہی دے دی۔
‘‘ (الفتح: 48۔
20)
2۔
رسول اللہ ﷺ نے مدینہ پہنچنے کےبعد جلد ہی خیبر پر چڑھائی کی، آپ نے غزوہ خیبر کے لیے صرف انھی صحابہ کرام ؓ کو ساتھ رکھا جو بیعت رضوان میں شامل تھے۔
3۔
امام بخاری ؒ نے مذکورہ حدیث یہ ثابت کرنے کے لیے پیش کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر جانے کے لیے جو راستہ منتخب کیا تھا وہ مقام صہباء سے ہو کر جاتا تھا راستےمیں نمازوں کی پابندی اور خورد نوش کا بھی اہتمام تھا جیسا کہ اس حدیث سے واضح ہے۔
واللہ اعلم۔
ستو استعمال کرنے کے بعد تازہ وضو کی ضرورت نہیں، البتہ لغوی وضو، یعنی کلی کر لی جائے تاکہ منہ سے ذرات ختم ہو جائیں۔
اسی طرح ہر کھانے کے بعد کلی کرنا کھانے کے آداب میں سے ہے تا کہ منہ کے اندر اگر کوئی چکناہٹ وغیرہ ہے تو کلی کرنے سے دور ہو جائے اور دوران نماز خشوع میں خلل واقع نہ ہو۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ستو کھانے سے پہلے اور ستو کھانے کے بعد وضو کا اہتمام نہیں کیا۔
(صحیح البخاري، الأطعمة، حدیث: 5384)
بہرحال کھانے کے بعد وضو تازہ کرنے کے بجائے کلی کرنے کا اہتمام ضرور ہونا چاہیے تاکہ منہ صاف ہو جائے۔
واللہ أعلم
(1)
"لاك" کا لفظ لوک سے مشتق ہے۔
اس کے معنی ہیں: کسی چیز کو نگلنے کے لیے اسے منہ میں پھیرنا۔
(2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ستو کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا، حالانکہ وہ آگ سے بھنے ہوئے ہیں۔
آگ سے پکی ہوئی چیز سے وضو کا ٹوٹ جانا منسوخ ہو چکا ہے۔
(عمدة القاري: 400/14)
«. . . سُوَيْدُ بْنُ النُّعْمَانِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالصَّهْبَاءِ صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ، فَلَمَّا صَلَّى دَعَا بِالْأَطْعِمَةِ فَلَمْ يُؤْتَ إِلَّا بِالسَّوِيقِ، فَأَكَلْنَا وَشَرِبْنَا، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَغْرِبِ فَمَضْمَضَ، ثُمَّ صَلَّى لَنَا الْمَغْرِبَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ . . .»
". . . سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ نے بتلایا انہوں نے کہا کہ ہم خیبر والے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جب صہباء میں پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی۔ جب نماز پڑھ چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے منگوائے۔ مگر (کھانے میں) صرف ستو ہی لایا گیا۔ سو ہم نے (اسی کو) کھایا اور پیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کی، پھر ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی اور (نیا) وضو نہیں کیا . . ." [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ: 215]
دونوں احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ ہر نماز کے لیے نیا وضو مستحب ہے۔ مگر ایک ہی وضو سے آدمی کئی نمازیں بھی پڑھ سکتا ہے۔
«. . . سُوَيْدُ بْنُ النُّعْمَانِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالصَّهْبَاءِ صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ، فَلَمَّا صَلَّى دَعَا بِالْأَطْعِمَةِ فَلَمْ يُؤْتَ إِلَّا بِالسَّوِيقِ، فَأَكَلْنَا وَشَرِبْنَا، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَغْرِبِ فَمَضْمَضَ، ثُمَّ صَلَّى لَنَا الْمَغْرِبَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ . . .»
". . . سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ نے بتلایا انہوں نے کہا کہ ہم خیبر والے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جب صہباء میں پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی۔ جب نماز پڑھ چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے منگوائے۔ مگر (کھانے میں) صرف ستو ہی لایا گیا۔ سو ہم نے (اسی کو) کھایا اور پیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کی، پھر ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی اور (نیا) وضو نہیں کیا . . ." [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ: 215]
باب اور حدیث میں مناسبت:
کئی علماء نے اختلاف فرمایا کہ ہر نماز کے لئے تجدید وضو لازم ہے کہ نہیں بعض اہل علم نے اس کو واجب قرار دیا ہے اور بعضوں نے اس کی نسخ کی طرف دلیل پیش کی ہے۔ امام الدارمی رحمہ اللہ نے اپنی سنن میں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: «لا وضؤ الا من حدث»
"حدث کے بغیر وضو نہیں ہے۔"
یہی بات راجح معلوم ہوتی ہے۔
◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: «وجذم بان الاجماع استقر على عدم الوجوب» [فتح الباري ج1 ص419]
"یعنی بغیر حدث کے وضو برقرار رہتا ہے اسی مسئلے پر اجماع ہے۔"
◈ شاہ ولی اللہ محدث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: "(ہر نماز کے لئے بغیر حدث کے نیا وضو کرنا) ثابت ہے استجاب کے طور پر نہ کہ واجب ہے۔" [شرح تراجم ابواب البخاري ص91]
◈ امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نمازی کے لیے ایک وضو سے کئی نمازیں ادا کرنا پر اکتفا کیا گیا ہے جب تک کہ اس کا وضو نہ ٹوٹے، اور یہ وہ حکم ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرض قرار نہیں دیا بلکہ (ہر نماز کے لئے بغیر حدث کے وضو کرنا) فضیلت کو حاصل کرنا ہے۔" [عمدة القاري ج2 ص170]
ان اقتباسات پر غور کرنے کے بعد یہ واضح ہوتا ہے کہ ہر نماز کے لئے وضو بغیر حدث کے واجب نہیں مگر افضلیت کو پانا ہے۔ لہٰذا حدیث اور باب میں مناسبت یہ ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے باب میں اس طرف اشارہ فرمایا کہ بغیر حدث کے وضو پر وضو کرنا افضلیت تو ہے پر واجب نہیں اس موقع پر دو احادیث کا ذکر فرمایا ایک سے اس بات کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ ہر نماز کے لیے تازہ وضو کرنا مستحب عمل ہے اگرچہ اگلا وضو نہ ٹوٹا ہو دوسری حدیث سے یہ نکلتا ہے کہ تازہ وضو کرنا کچھ واجب نہیں جب کہ اگلا وضو قائم ہو کیوں کہ دوسری حدیث اس مسئلے پر واضح دلیل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک وضو سے دو نمازیں پڑھیں یہیں سے ترجمۃ الباب اور حدیث کی مناسبت معلوم ہوتی ہے۔
1۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا قائم کردہ عنوان دو اجزاء پر مشتمل ہے: (الف)
۔
حدث کے بغیر وضو ضروری نہیں۔
(ب)
ایسی صورت میں وضو کر لینا مستحب ہے۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ ہر جز کے ثبوت کے لیے احادیث لائے ہیں، مذکورہ حدیث سے یہ ثابت کیا کہ حدث کے بغیر وضو ضروری نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے وضو فرمایا اور عصر کی نماز پڑھائی اور پھر مغرب کی نماز بھی اسی وضو سے پڑھائی، نیا وضو نہیں کیا۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت سے یہ ثابت کیا کہ وضو کرنا مستحب ہے۔
چنانچہ آپ پر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، خواہ آپ کو وضو کی ضرورت ہو یا نہ ہو۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت سے بھی دو اجزاء ثابت ہوتے ہیں، کیونکہ اس میں ایک رسول اللہ ﷺ کا عمل ہے کہ آپ ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے یہ تو استحباب کے ثبوت کے لیے ہے، دوسرا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا عمل ہے کہ جب تک حدث لاحق نہ ہوتا، ایک ہی وضو سے کئی کئی نمازیں پڑھ لیتےتھے۔
اس سے معلوم ہوا کہ جب تک حدث لاحق نہ ہو، اس وقت تک وضو ضروری نہیں۔
2۔
حضرت اصلاحی نے اس حدیث پر بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا ہے فرماتے ہیں: ’’معلوم ہوتا ہے کہ امام صاحب اپنا مذہب بیان کرنے کے لیے یہ روایت لائے ہیں۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ والی روایت انھوں نے غالباً صرف یہ دکھانے کے لیےدی ہے کہ راوی حضرات اس طرح کی غلط فہمیوں میں مبتلا ہو جایا کرتے ہیں تاکہ لوگ متنبہ رہیں اور غور کرتے رہاکریں۔
‘‘ (تدبر حدیث: 307/1)
1۔
اصحاب شجرہ کی مناسبت سے اس حدیث کو بیان کیا گیا ہے۔
2۔
اس حدیث کا نتیجہ یہ ہے کہ مقام صہباء میں رسول اللہ ﷺ نے نماز عصر کے بعد ستونوش کیے، پھرآپ نے کلی کی اور نماز مغرب پڑھائی اور نیا وضو نہیں کیا۔
(صحیح البخاري، الوضوء، حدیث: 209)
3۔
بہرحال اس مقام پر کسی فقہی مسئلے کا بیان مقصود نہیں بلکہ صرف حضرت سوید بن نعمان ؓ کے متعلق یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ بیعت رضوان میں شریک تھے۔
واللہ اعلم۔
1۔
سفر میں راشن اور توشہ رکھنا اس لیے مستحسن ہے کہ یہ انسانی ضرورت ہے۔
اس قسم کی حاجات انسانی کا شریعت نے پورا پورا خیال رکھا ہے۔
2۔
رسول اللہ ﷺ کا کوئی سفر ایسا نہیں ہے جس میں آپ نے توشہ یا زاد سفر کا اہتمام نہ کیا ہو۔
چنانچہ اس حدیث میں ہے دوران سفر میں جب آپ کو کھانے کی ضرورت پڑی تو آپ کو ستو پیش کیے گئے۔
ستو کھانے اور پینے دونوں طرح کام آتے ہیں۔
جیسا کہ اس حدیث میں اس کی صراحت ہے نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ ستو استعمال کرنے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
«. . . حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ النُّعْمَانِ، قَالَ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ، فَلَمَّا كُنَّا بِالصَّهْبَاءِ، قَالَ يَحْيَى: وَهِيَ مِنْ خَيْبَرَ عَلَى رَوْحَةٍ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ فَمَا أُتِيَ إِلَّا بِسَوِيقٍ فَلُكْنَاهُ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا، فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ"، قَالَ سُفْيَانُ: سَمِعْتُهُ مِنْهُ عَوْدًا وَبَدْءًا . . .»
". . . سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف (سنہ 7 ھ میں) نکلے جب ہم مقام صہباء پر پہنچے۔ یحییٰ نے بیان کیا کہ صہباء خیبر سے دوپہر کی راہ پر ہے تو اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا طلب فرمایا لیکن ستو کے سوا اور کوئی چیز نہیں لائی گئی، پھر ہم نے اسی کو سوکھا پھانک لیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب فرمایا اور کلی کی، ہم نے بھی کلی کی۔ اس کے بعد آپ نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی اور وضو نہیں کیا (مغرب کے لیے کیونکہ پہلے سے باوضو تھے)۔ سفیان نے بیان کیا کہ میں نے یحییٰ سے اس حدیث میں یوں سنا کہ آپ نے نہ ستو کھاتے وقت وضو کیا نہ کھانے سے فارغ ہو کر۔" [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ: 5384]
باب اور حدیث میں مناسبت:
امام بخاری رحمہ اللہ کا ترجمۃ الباب کے ذریعے یہ مقصد ہے کہ اکھٹے ہو کر کھانا پینا کیا جائے یا الگ الگ ہو کر۔ شرعی دلائل کے حوالے سے دونوں طریقے جائز ہیں، امام بخاری رحمہ اللہ نے ترجمۃ الباب کے ذریعے اسی چیز کو ثابت فرمایا ہے اور جو آیت نقل فرمائی ہے، اس میں یہ تصریح موجود ہے کہ: «ليس عليكم جناح ان تأكلوا جميعا او اشتاتا»
"آپ پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ سب اکٹھے ہو کر کھاؤ یا الگ الگ۔"
لہٰذا ترجمۃ الباب کی حدیث سے مناسبت واضح ہے، کیوں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مل کر ستو پھانکا تھا، لہٰذا اس جزء کا بآسانی ترجمۃ الباب سے ربط موجود ہے، مگر آیت مبارکہ کا وہ حصہ جس میں نابینا، لنگڑے اور مریض کا ذکر ہے تو وہ اس حدیث میں کس طرح سے شامل ہوں گیں؟ کیونکہ بظاہر آیت مبارکہ کا یہ حصہ باب سے مناسبت نہیں رکھتا، لہٰذا اس کا جواب دیتے ہوئے ابن بطال رحمہ اللہ نے مھلب رضی اللہ عنہ سے نقل فرمایا کہ: «مناسبة الاية لحديث سويد ما ذكره اهل التفسير انهم كانوا اذا اجتمعوا للأكل عذل الأعمى على حدة والاعرج على حدة والمريض على حدة لتقصيرهم عن أكل الأصحاء فكانوا يتحرجون أن يتفضلوا عليهم .» [فتح الباري لابن حجر: 452/10]
"حدیث سوید کے ساتھ آیت کی مناسبت جو اہل تفسیر نے بیان کی کہ جب کھانے کے لیے جمع ہوتے تھے تو اندھوں کو الگ بٹھا لیتے، لنگڑوں کو الگ اور مریضوں کو الگ بٹھا لیتے تھے، تاکہ جو لوگ ایسے نہیں وہ ان سے زیادہ نہ کھا جائیں اور ان کی حق تلفی نہ ہو۔"
یعنی ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو مجتمع ہو کر کھایا کرتے تھے تو ممکن ہے ان کے ساتھ نابینا حضرات، لنگڑے اور مریض وغیرہ بھی ہوں گے تو پس باب کی مناسبت ثابت ہوئی۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ستو کھانے کے لیے جمع ہوئے، ان میں تندرست، بیمار، بینا اور نابینا وغیرہ کی کوئی تخصیص نہ تھی۔
یہ بھی ممکن ہے کہ آگے آیت کریمہ میں ہے: ’’اس بات میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم سب مل کر کھاؤ یا علیحدہ علیحدہ۔
‘‘ (النور: 61)
نابینا، لنگڑے اور بیماروں نے تندرستوں کے ساتھ ایک برتن میں کھانے سے حرج محسوس کیا ہو کیونکہ اس طرح کمی بیشی کا امکان تھا۔
اس آیت کریمہ کے نزول کے بعد یہ اندیشہ ختم ہو گیا اور حدیث سے اکٹھے مل کر کھانے کو ثابت کیا۔
بہرحال امام بخاری رحمہ اللہ نے ثابت کیا ہے کہ کھانا کھاتے وقت اس قسم کے اندیشوں کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔
1۔
اس حدیث سے مندرجہ ذیل باتوں کا پتہ چلتا ہے۔
(1)
۔
آگ کی تیار کردہ اشیاء کے استعمال سے نہ تو نقض وضو ہوتا ہے اور نہ تجدید وضو ہی کی ضرورت ہے۔
(2)
۔
کھانے کے بعد کلی کے ذریعے سے منہ صاف کرنا ایک پسندیدہ عمل ہے تاکہ منہ سے چکناہٹ کے اثرات ختم یا ستو وغیرہ کے اجزاء صاف ہو جائیں۔
(3)
۔
دوران سفر میں اشیائے خور و نوش کا سامان ساتھ لے کر جانا چاہیے، ایسا کرنا توکل کے منافی نہیں۔
(4)
۔
سفر میں بوقت ضرورت تمام شرکاء اپنے اپنے زاد سفر ایک جگہ جمع کر لیں، کیونکہ جماعت پر اللہ کی رحمت ہوتی ہے اور برکت بھی نازل ہوتی ہے۔
(5)
۔
امام وقت کو چاہیے کہ غذا کی کمی کے موقع پر ذخیرہ اندوزوں سے جبراً اشیائے خوردنی بر آمد کر کے انھیں بازار میں لائے تاکہ ضرورت مند حضرات بازار سے بسہولت حاصل کر سکیں۔
(6)
۔
سر براہ مملکت کو چاہیے کہ وہ فوجیوں کی ضرورت کا خیال رکھے اور لوگوں سے حاصل کر کے انھیں مہیا کرے تاکہ جس کے پاس خور ونوش کا سامان نہ ہو وہ بھی اپنی ضرورت پوری کر سکے۔
(فتح الباري: 408/1)
2۔
اس حدیث سے علامہ خطابی نے آگ سے تیار کردہ اشیاء کے استعمال پر وضو کے منسوخ ہونے کی دلیل لی ہے، کیونکہ یہ حکم پہلے کا ہے اور فتح خیبر اس سے متاخر ہے جو ہجرت کے ساتویں سال ہوا۔
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں: یہ استدلال صحیح نہیں، کیونکہ حضرت ابو ہریرہ ؓ فتح خیبر کے بعد مسلمان ہوئے ہیں اور وہ آگ سے تیار شدہ چیز کے استعمال پر وضو کرنے والی حدیث کے راوی ہیں۔
(صحیح مسلم، حدیث: 788 (352)
اور حضرت ابو ہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد بھی اس کے متعلق فتوی دیتے تھے۔
(فتح الباري: 408/1)
اس پر علامہ عینی ؒ نے لکھا ہے کہ علامہ خطابی کا استدلال صحیح ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ حضرت ابو ہریرہ ؓ نے وضو کا حکم کسی دوسرے صحابی کے واسطے سے معلوم کیا ہو، پھر اس حکم کو اس واسطے کے بغیر بیان کردیا ہو۔
(عمدة القاري: 581/2)
علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ کے اعتراض اور علامہ خطابی کے دفاع پر دل مطمئن نہیں، اگرچہ یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ آگ سے تیارشدہ اشیاء کے استعمال پر وضو کرنے کا حکم منسوخ ہے یا اس سے لغوی وضو مراد ہے یا اس وضو کو استحباب پر بھی محمول کیا جا سکتا ہے۔
واللہ أعلم۔
سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ خیبر کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، یہاں تک کہ جب لوگ مقام صہبا (جو خیبر سے قریب ہے) میں پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر ادا کی، پھر توشوں کو طلب کیا، تو صرف ستو لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، تو اسے گھولا گیا، آپ نے کھایا اور ہم نے بھی کھایا، پھر آپ مغرب کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے، آپ نے کلی کی اور ہم نے (بھی) کلی کی، پھر آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 186]
➋ اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو کرنا ضروری نہیں۔
➌ سفر میں زاد راہ لینا تو کل کے منافی نہیں۔
➍ ایک وضو سے ایک سے زیادہ نمازیں پڑھنا درست ہے۔
سوید بن نعمان انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی جانب نکلے، جب مقام صہباء ۱؎ میں پہنچے تو عصر کی نماز پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا منگایا تو صرف ستو لایا گیا لوگوں نے اسے کھایا، پیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگایا، اور کلی کی، پھر اٹھے اور ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 492]
ستو، بھنے ہوئے جَو پیس کر بنائے جاتے ہیں اس لیے اس سے بھی ثابت ہوا کہ آگ سے تیار کردہ چیز کھا پی کر وضو کرنا ضروری نہیں۔
... سَتُو بھی در اصل آگ پر بھونے ہوئے دانوں کو پیس کر بنائے جاتے ہیں.....
یہ مختلف دلائل اس لیے پیش کیے جا رہے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعین رحمہ اللہ کے دور میں اس مسئلے پر کافی اختلاف رہا تھا اور بالآخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ دلائل سامنے آنے سے سب کو یقین و اطمینان ہو گیا کہ بعد میں آقا علیہ السلام نے آگ کی پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو کرنا ترک کر دیا تھا۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اگر چکنائی والی چیز کھانے کے بعد نماز پڑھنی ہو تو پہلے کلی کر لینی چاہیے تا کہ نماز مکمل یکسوئی کے ساتھ ادا کی جائے۔