صحيح البخاري
كتاب المغازي— کتاب: غزوات کے بیان میں
بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ: باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 4183
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ نَافِعٍ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , خَرَجَ مُعْتَمِرًا فِي الْفِتْنَةِ , فَقَالَ : " إِنْ صُدِدْتُ عَنْ الْبَيْتِ صَنَعْنَا كَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مِنْ أَجْلِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ " .مولانا داود راز
´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا ‘ ان سے نافع نے کہ` عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فتنہ کے زمانہ میں عمرہ کے ارادہ سے نکلے ۔ پھر انہوں نے کہا کہ اگر بیت اللہ جانے سے مجھے روک دیا گیا تو میں وہی کام کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا ۔ چنانچہ آپ نے صرف عمرہ کا احرام باندھا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صلح حدیبیہ کے موقع پر صرف عمرہ ہی کا احرام باندھا تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1806 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
1806. حضرت نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ فتنہ ابن زبیر کے زمانے میں عمرہ کرنے کی نیت سے مکہ روانہ ہوئے تو کہا: اگر مجھے بیت اللہ کا طواف کرنے سے روکا گیا تو میں وہی کچھ کروں گا جو ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ کیا تھا، چنانچہ انھوں نے اس بناپر احرام باندھ لیا جیسا رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے سال احرام باندھا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1806]
حدیث حاشیہ:
(1)
رسول اللہ ﷺ نے چھ ہجری میں عمرے کا ارادہ کیا تو مشرکین نے آپ کو بیت اللہ پہنچنے سے روک دیا۔
اس موقع پر سورۂ فتح نازل ہوئی۔
صحابۂ کرام ؓ کو اجازت دی گئی کہ وہ اپنے قربانی کے جانور ذبح کر دیں، سر منڈوا کر احرام کھول دیں۔
حضرت ابن عمر ؓ نے اسی واقعۂ حدیبیہ کی طرف اشارہ کیا ہے۔
(2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رکاوٹ کے وقت عمرے کا احرام بھی کھولا جا سکتا ہے جبکہ بعض حضرات احصار کو صرف حج کے ساتھ خاص کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ حج کا وقت مقرر ہے جبکہ عمرہ تو کسی وقت بھی کیا جا سکتا ہے لیکن ان کا موقف متعدد احادیث کے خلاف ہے۔
امام بخاری ؒ نے انہی حضرات کی تردید کے لیے یہ احادیث پیش کی ہیں۔
پھر احصار کسی معین امر سے نہیں ہوتا بلکہ جو بیمار ہو جائے یا دشمن کا خطرہ ہو یا خرچہ ختم ہو جائے، بہرحال جس صورت میں بھی بیت اللہ تک نہ پہنچ سکتا ہو وہ محصر ہو گا اور اس پر احصار کے احکام لاگو ہوں گے۔
(3)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا مقصد یہ تھا کہ اگر مجھے عمرہ کرنے سے روک دیا گیا تو میں وہی کروں گا جو ایسے حالات میں رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا، یعنی عمرے کا احرام کھول دوں گا جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے احرام کھول دیا تھا۔
(4)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس طرح حج میں احصار ممکن ہے عمرے میں بھی ہو سکتا ہے۔
امام بخاری ؒ بھی اسی موقف کو ثابت کرنا چاہتے ہیں، چنانچہ اس کی تفصیل درج ذیل حدیث میں ہے۔
(1)
رسول اللہ ﷺ نے چھ ہجری میں عمرے کا ارادہ کیا تو مشرکین نے آپ کو بیت اللہ پہنچنے سے روک دیا۔
اس موقع پر سورۂ فتح نازل ہوئی۔
صحابۂ کرام ؓ کو اجازت دی گئی کہ وہ اپنے قربانی کے جانور ذبح کر دیں، سر منڈوا کر احرام کھول دیں۔
حضرت ابن عمر ؓ نے اسی واقعۂ حدیبیہ کی طرف اشارہ کیا ہے۔
(2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رکاوٹ کے وقت عمرے کا احرام بھی کھولا جا سکتا ہے جبکہ بعض حضرات احصار کو صرف حج کے ساتھ خاص کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ حج کا وقت مقرر ہے جبکہ عمرہ تو کسی وقت بھی کیا جا سکتا ہے لیکن ان کا موقف متعدد احادیث کے خلاف ہے۔
امام بخاری ؒ نے انہی حضرات کی تردید کے لیے یہ احادیث پیش کی ہیں۔
پھر احصار کسی معین امر سے نہیں ہوتا بلکہ جو بیمار ہو جائے یا دشمن کا خطرہ ہو یا خرچہ ختم ہو جائے، بہرحال جس صورت میں بھی بیت اللہ تک نہ پہنچ سکتا ہو وہ محصر ہو گا اور اس پر احصار کے احکام لاگو ہوں گے۔
(3)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا مقصد یہ تھا کہ اگر مجھے عمرہ کرنے سے روک دیا گیا تو میں وہی کروں گا جو ایسے حالات میں رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا، یعنی عمرے کا احرام کھول دوں گا جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے احرام کھول دیا تھا۔
(4)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس طرح حج میں احصار ممکن ہے عمرے میں بھی ہو سکتا ہے۔
امام بخاری ؒ بھی اسی موقف کو ثابت کرنا چاہتے ہیں، چنانچہ اس کی تفصیل درج ذیل حدیث میں ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1806 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 303 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´عمرہ کی نیت کے ساتھ بعد میں حج کی نیت کرنا`
«. . . 223- وبه: أن ابن عمر خرج إلى مكة معتمرا فى الفتنة، فقال: إن صددت عن البيت صنعنا كما صنعنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأهل بعمرة من أجل أن النبى صلى الله عليه وسلم كان أهل بعمرة عام الحديبية، ثم إن عبد الله بن عمر نظر فى أمره، فقال: ما أمرهما إلا واحد، فالتفت إلى أصحابه، فقال: ما أمرهما إلا واحد، أشهدكم أني قد أوجبت الحج مع العمرة، قال: ثم طاف طوافا واحدا، ورأى أن ذلك مجزئ عنه وأهدى. . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فتنے (جنگ) کے زمانے میں عمرہ کرنے کے لئے مکہ کی طرف چلے تو فرمایا: اگر مجھے بیت اللہ سے روک دیا گیا تو ہم اس طرح کریں گے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا، پھر انہوں نے اس وجہ سے عمرے کی لبیک کہی کہ حدبیبہ والے سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرے کی لبیک کہی تھی، پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے مسئلے میں غور کیا تو فرمایا: دونوں (عمر ے اور حج) کا تو ایک ہی حکم ہے، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرے کے ساتھ اپنے آپ پر حج لازم کر لیا ہے، پھر انہوں نے ایک طواف کیا اور یہ سمجھے کہ یہ کافی ہے اور قربانی کی . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 303]
«. . . 223- وبه: أن ابن عمر خرج إلى مكة معتمرا فى الفتنة، فقال: إن صددت عن البيت صنعنا كما صنعنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأهل بعمرة من أجل أن النبى صلى الله عليه وسلم كان أهل بعمرة عام الحديبية، ثم إن عبد الله بن عمر نظر فى أمره، فقال: ما أمرهما إلا واحد، فالتفت إلى أصحابه، فقال: ما أمرهما إلا واحد، أشهدكم أني قد أوجبت الحج مع العمرة، قال: ثم طاف طوافا واحدا، ورأى أن ذلك مجزئ عنه وأهدى. . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فتنے (جنگ) کے زمانے میں عمرہ کرنے کے لئے مکہ کی طرف چلے تو فرمایا: اگر مجھے بیت اللہ سے روک دیا گیا تو ہم اس طرح کریں گے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا، پھر انہوں نے اس وجہ سے عمرے کی لبیک کہی کہ حدبیبہ والے سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرے کی لبیک کہی تھی، پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے مسئلے میں غور کیا تو فرمایا: دونوں (عمر ے اور حج) کا تو ایک ہی حکم ہے، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرے کے ساتھ اپنے آپ پر حج لازم کر لیا ہے، پھر انہوں نے ایک طواف کیا اور یہ سمجھے کہ یہ کافی ہے اور قربانی کی . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 303]
تخریج الحدیث: [وأخرجه البخاري 1806، ومسلم 1230، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ عمرے کی نیت کرنے والا بعد میں عمرے اور حج دونوں یعنی حجِ قِران کی نیت کرلے تو جائز ہے۔
➋ اگر راستہ خطرناک ہو تو بھی حج اور عمرے کے لئے بیت اللہ کا سفر کرنا جائز ہے۔
➌ اگر کوئی شخص حالتِ احرام میں عمرہ یا حج کرنے کی نیت سے مکہ آئے اور کسی عذر کی وجہ سے حرم سے روک دیا جائے تو وہ احرام کھولے اور ایک بکری ذبح کرکے فدیہ دے۔ بعد میں اسے اس عمرے یا حج کی قضا ادا کرنا ہوگی۔ واللہ اعلم
➍ تمام امور میں طریقۂ نبوی کو مد نظر رکھنا چاہئے۔
➎ مسائل میں خوب غور وخوض کے بعد فتویٰ دینا چاہئے۔
➏ اگر کسی مسئلے میں تحقیق بدل جائے تو سابقہ بات سے رجوع کرکے نئی تحقیق پر عمل کرنا چاہئے۔
تفقه:
➊ عمرے کی نیت کرنے والا بعد میں عمرے اور حج دونوں یعنی حجِ قِران کی نیت کرلے تو جائز ہے۔
➋ اگر راستہ خطرناک ہو تو بھی حج اور عمرے کے لئے بیت اللہ کا سفر کرنا جائز ہے۔
➌ اگر کوئی شخص حالتِ احرام میں عمرہ یا حج کرنے کی نیت سے مکہ آئے اور کسی عذر کی وجہ سے حرم سے روک دیا جائے تو وہ احرام کھولے اور ایک بکری ذبح کرکے فدیہ دے۔ بعد میں اسے اس عمرے یا حج کی قضا ادا کرنا ہوگی۔ واللہ اعلم
➍ تمام امور میں طریقۂ نبوی کو مد نظر رکھنا چاہئے۔
➎ مسائل میں خوب غور وخوض کے بعد فتویٰ دینا چاہئے۔
➏ اگر کسی مسئلے میں تحقیق بدل جائے تو سابقہ بات سے رجوع کرکے نئی تحقیق پر عمل کرنا چاہئے۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 223 سے ماخوذ ہے۔