صحيح البخاري
كتاب المغازي— کتاب: غزوات کے بیان میں
بَابُ غَزْوَةُ ذَاتِ الرِّقَاعِ: باب: غزوہ ذات الرقاع کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ , حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ , عَنْ أَبِي بُرْدَةَ , عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : " خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ وَنَحْنُ سِتَّةُ نَفَرٍ بَيْنَنَا بَعِيرٌ نَعْتَقِبُهُ , فَنَقِبَتْ أَقْدَامُنَا وَنَقِبَتْ قَدَمَايَ وَسَقَطَتْ أَظْفَارِي , وَكُنَّا نَلُفُّ عَلَى أَرْجُلِنَا الْخِرَقَ , فَسُمِّيَتْ غَزْوَةَ ذَاتِ الرِّقَاعِ لِمَا كُنَّا نَعْصِبُ مِنَ الْخِرَقِ عَلَى أَرْجُلِنَا , وَحَدَّثَ أَبُو مُوسَى بِهَذَا , ثُمَّ كَرِهَ ذَاكَ , قَالَ : مَا كُنْتُ أَصْنَعُ بِأَنْ أَذْكُرَهُ , كَأَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَكُونَ شَيْءٌ مِنْ عَمَلِهِ أَفْشَاهُ " .´ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوامامہ نے بیان کیا ‘ ان سے برید بن عبداللہ بن ابی بردہ نے ‘ ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ کے لیے نکلے ۔ ہم چھ ساتھی تھے اور ہم سب کے لیے صرف ایک اونٹ تھا ‘ جس پر باری باری ہم سوار ہوتے تھے ۔ ( پیدل طویل اور پر مشقت سفر کی وجہ سے ) ہمارے پاؤں پھٹ گئے اور میرے بھی پاؤں پھٹ گئے تھے ۔ ناخن بھی جھڑ گئے تھے ۔ چنانچہ ہم قدموں پر کپڑے کی پٹی باندھ باندھ کر چل رہے تھے ۔ اسی لیے اس کا نام غزوہ ذات الرقاع پڑا ‘ کیونکہ ہم نے قدموں کو پٹیوں سے باندھ رکھا تھا ۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث تو بیان کر دی ‘ لیکن پھر ان کو اس کا اظہار اچھا نہیں معلوم ہوا ۔ فرمانے لگے کہ مجھے یہ حدیث بیان نہ کرنی چاہیے تھی ۔ ان کو اپنا نیک عمل ظاہر کرنا برا معلوم ہوا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اسی لیے اسے غزوہ ذات الرقاع کے نام سے موسوم کیا گیا۔
1۔
اس غزوے میں حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ کی شرکت کا ذکر ہے اور وہ غزوہ خیبر کے بعد رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔
اس کامطلب یہ ہے کہ غزوہ ذات الرقاع خیبر کے بعد ہوا ہے۔
2۔
حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ نے اس حدیث کو بیان کرنا اچھاخیال نہ کیا کیونکہ انھوں نے انتہائی مشقت میں یہ کام کیا تھا اوراسے بیان کرنے میں تذکیہ نفس پایا جاتا ہے جبکہ نیک عمل کوچھپانا اس کے ظاہر کرنے سے افضل ہے اور یہی نیک عمل اور اچھائی کاحسن ہوتا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اگر تم صدقات کو چھپا کر دواور فقراء کی ضروریات کو پورا کروتو یہ عمل تمہارے لیے بہتر ہے۔
‘‘ (البقرة: 271/2)
(1)
نَعْتَقِبُهُ: ہم اس پر یکے بعد دیگرے سوار ہوتے، کیونکہ سب کا بیک بار بیٹھنا ممکن نہ تھا۔
(2)
نَقِبَتْ: زخمی ہو گئے۔
(3)
خِرَقَ: خرقه کی جمع ہے، چیتھڑے، کپڑوں کے ٹکڑے۔
(4)
نُعَصِّبُ یانعصِبُ: ہم باندھتے تھے۔
فوائد ومسائل: غزوہ ذات الرقاع کہ وجہ تسمیہ یہی صحیح ہے، جو خود راوی نے بیان کی ہے، کیونکہ رقاع، رقعة کی جمع ہے، جس کا معنی ٹکڑا یا پیوند ہے، بقول بعض اس کا سبب وہاں ایک رنگ برنگ پہاڑ تھا، یا اس نام کا درخت تھا، یا جھنڈوں کو پیوند لگے ہوئے تھے۔