صحيح البخاري
كتاب المغازي— کتاب: غزوات کے بیان میں
بَابُ غَزْوَةُ الْخَنْدَقِ وَهْيَ الأَحْزَابُ: باب: غزوہ خندق کا بیان جس کا دوسرا نام غزوہ احزاب ہے۔
حدیث نمبر: 4114
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ يَقُولُ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ , أَعَزَّ جُنْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ , وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ , فَلَا شَيْءَ بَعْدَهُ " .مولانا داود راز
´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے سعید بن ابی سعید نے ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے ” اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے جس نے اپنے لشکر کو فتح دی۔ اپنے بندے کی مدد کی (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی) اور احزاب (یعنی افواج کفار) کو تنہا بھگا دیا پس اس کے بعد کوئی چیز اس کے مدمقابل نہیں ہو سکتی۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
4114. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے: اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ وہ تنہا ہے۔ اس نے اپنے لشکر کو غالب کیا اور اپنے بندے کی مدد فرمائی۔ اس اکیلے نے کافروں کے لشکر کو مغلوب کیا۔ (وہ باقی ہے اور) اس کے بعد کچھ بھی نہیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4114]
حدیث حاشیہ: یہ وہ مبارک الفاظ ہیں جو جنگ احزاب کے خاتمہ پر بطور شکر زبان رسالت مآب ﷺ سے ادا ہوئے۔
اس دفعہ کفار عرب متحدہ محاذ بنا کر مدینہ پر حملہ آور ہوئے تھے مگر اللہ تعالی نے ان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملادیا اور مسلمانوں کو ان سے بال بال بچا لیا۔
اب بطور یاد گار ان الفاظ کو پڑھنا اور یاد کرنا موجب صد خیر وبرکت ہے۔
خاص طور پر حج کے مقامات پر ان کو زبان سے ادا کرنا ہر حاجی کو بہت اجر وثواب ہے۔
اللہ تعالی ہر مسلمان کو دنیا میں شر سے محفوظ رکھے۔
آمین۔
اس دفعہ کفار عرب متحدہ محاذ بنا کر مدینہ پر حملہ آور ہوئے تھے مگر اللہ تعالی نے ان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملادیا اور مسلمانوں کو ان سے بال بال بچا لیا۔
اب بطور یاد گار ان الفاظ کو پڑھنا اور یاد کرنا موجب صد خیر وبرکت ہے۔
خاص طور پر حج کے مقامات پر ان کو زبان سے ادا کرنا ہر حاجی کو بہت اجر وثواب ہے۔
اللہ تعالی ہر مسلمان کو دنیا میں شر سے محفوظ رکھے۔
آمین۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4114 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
4114. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے: اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ وہ تنہا ہے۔ اس نے اپنے لشکر کو غالب کیا اور اپنے بندے کی مدد فرمائی۔ اس اکیلے نے کافروں کے لشکر کو مغلوب کیا۔ (وہ باقی ہے اور) اس کے بعد کچھ بھی نہیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4114]
حدیث حاشیہ:
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو غلبہ دیا اور انھیں فتح وکامرانی عطا فرمائی۔
مسلمانوں کے مقابلے میں کفار کے لشکر کو مغلوب کیا، جنھوں نے مدینہ طیبہ پرچڑھائی کی تھی۔
صرف اللہ تعالیٰ ہی باقی رہنے والا ہے باقی ہر چیز نے فنا سے دوچار ہوتا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اس کی ذات کے سوا ہرچیز ہلاک ہونے والی ہے۔
‘‘ (القصص: 88: 28 وفتح الباري: 508/7)
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو غلبہ دیا اور انھیں فتح وکامرانی عطا فرمائی۔
مسلمانوں کے مقابلے میں کفار کے لشکر کو مغلوب کیا، جنھوں نے مدینہ طیبہ پرچڑھائی کی تھی۔
صرف اللہ تعالیٰ ہی باقی رہنے والا ہے باقی ہر چیز نے فنا سے دوچار ہوتا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اس کی ذات کے سوا ہرچیز ہلاک ہونے والی ہے۔
‘‘ (القصص: 88: 28 وفتح الباري: 508/7)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4114 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2724 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے۔" اللہ کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں، وہ یکتا ہے، اس نے اپنے لشکر کو قوت بخشی اور اکیلا ہی تمام گروہوں پر غالب آگیا اور اپنے بندہ کی نصرت فرمائی۔ اس کے سوا کچھ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6910]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس دعا میں جنگ احزاب کی طرف اشارہ ہے اور لا شيئی بعده کا معنی ہے، اس کے سوا ہر چیز قابل فنا ہے، کسی کا وجودو بقا ذاتی نہیں ہے، صرف اللہ کا وجود اپنا ہے، جو فنا پذیر نہیں ہے، باقی سب مخلوق کو وجود اس کی طرف سے ملا ہے اور اس کے باقی رکھنے سے ہی وہ باقی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6910 سے ماخوذ ہے۔