حدیث نمبر: 4109
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ , قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ : " نَغْزُوهُمْ وَلَا يَغْزُونَنَا " .
مولانا داود راز

´ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق سبیعی نے ‘ ان سے سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احزاب کے موقع پر (جب کفار کا لشکر ناکام واپس ہو گیا) فرمایا کہ اب ہم ان سے لڑیں گے۔ آئندہ وہ ہم پر چڑھ کر کبھی نہ آ سکیں گے۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4109
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 4110

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
4109. حضرت سلیمان بن صرد ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے غزوہ احزاب کے دن فرمایا: ’’اب ہم ان پر چڑھائی کریں گے وہ ہم پر چڑھ کر نہیں آئیں گے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:4109]
حدیث حاشیہ: بخاری میں سلیمان بن صرد ؓ سے صرف یہی ایک حدیث مروی ہے۔
یہ ان لوگوں میں سب سے زیادہ بوڑھے تھے جو حضرت حسین ؓ کے خون کا بدلہ لینے کوفہ سے نکلے تھے۔
مگر عین الوردہ کے مقام پر یہ اپنے ساتھیوں سمیت مارے گئے۔
یہ 65 ھ کا واقعہ ہے۔
(فتح)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4109 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4110 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
4110. حضرت سلیمان بن صرد ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب نبی ﷺ سے لشکر دور کر دیے گئے تو میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’اب ہم ان پر حملہ آور ہوں گے۔ انہیں ہم سے لڑنے کی طاقت نہیں ہو گی۔ ہم ان پر چڑھائی کریں گے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:4110]
حدیث حاشیہ: جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا ویسا ہی ہوا۔
اس کے دوسرے سا ل صلح حدیبیہ ہوئی جس میں قریش نے آپ سے معاہدہ کیا پھر خود ہی اسے توڑ ڈالا جس کے نتیجہ میں فتح مکہ کا واقعہ وجود میں آیا۔
(فتح)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4110 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4110 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4110. حضرت سلیمان بن صرد ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب نبی ﷺ سے لشکر دور کر دیے گئے تو میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’اب ہم ان پر حملہ آور ہوں گے۔ انہیں ہم سے لڑنے کی طاقت نہیں ہو گی۔ ہم ان پر چڑھائی کریں گے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:4110]
حدیث حاشیہ:
جنگ احزاب ایک اعصابی جنگ تھی۔
اس میں کوئی خونریز معرکہ پیش نہیں آیا۔
اس کے باوجود ایک فیصلہ کن مرحلہ ثابت ہوئی، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے احزاب کے دن اللہ سے دعا کی: ’’اے اللہ! کتاب اتارنے والے، جلد حساب لینے والے ان لشکروں کو شکست دے۔
اے اللہ!انھیں شکست سے دوچار کر اور انھیں جھنجھوڑ کررکھ دے۔
‘‘ (صحیح البخاري، الجھاد والسیر، حدیث: 2933)
بالآخر رسول اللہ ﷺ کی دعاؤں اور بروقت حکمت عملی کے نتیجے میں مشرکین کے حوصلے پست ہوگئے، ان کی صفوں میں پھوٹ پڑگئی اور وہ بدحالی کا شکار ہوگئے، نیز یہ واضح ہوگیا کہ عرب کی کوئی بھی طاقت مسلمانوں کی اس چھوٹی سی حکومت کو ختم نہیں کرسکتی کیونکہ جنگ احزاب میں جتنی طاقت فراہم ہوگئی تھی اس سے زیادہ طاقت فراہم کرنا عربوں کے بس کی بات نہ تھی۔
اس بنا پر رسول اللہ ﷺ نے پیش گوئی کےطور پر فرمایا: ’’اب ہم ان پر چڑھائی کریں گے وہ ہم پر چڑھائی نہیں کریں گے بلکہ ہمارا لشکر ان کی طرف جائے گا۔
‘‘ آپ کی پیش گوئی حرب بحرف پوری ہوئی۔
اگلے سال 6ہجری میں آپ عمرے کے لیے تشریف لے گئے۔
صلح حدیبیہ ہوئی جو فتح مکہ کا سبب بنی۔
حافظ ابن حجر ؒ نے مسند البزار کے حوالے سے لکھا ہے کہ جب قریش نے احزاب کے دن بہت سی جماعتوں کو جمع کرلیا تو آپ نے فرمایا: ’’آئندہ کے لیے یہ لوگ تم پر چڑھائی نہیں کریں گے بلکہ آج کے بعد تم لوگ ہی ان پر چڑھائی کرو گے۔
‘‘ (کشف الأستار علی زوائد مسند البزار: 221/2 وفتح الباري: 506/7)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4110 سے ماخوذ ہے۔