صحيح البخاري
كتاب المغازي— کتاب: غزوات کے بیان میں
بَابُ غَزْوَةُ الْخَنْدَقِ وَهْيَ الأَحْزَابُ: باب: غزوہ خندق کا بیان جس کا دوسرا نام غزوہ احزاب ہے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , قَالَ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَضَهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً فَلَمْ يُجِزْهُ , وَعَرَضَهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً فَأَجَازَهُ " .´ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ عمری نے ، کہا کہ مجھے نافع نے خبر دی اور انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے آپ کو انہوں نے غزوہ احد کے موقع پر پیش کیا ( تاکہ لڑنے والوں میں انہیں بھی بھرتی کر لیا جائے ) اس وقت وہ چودہ سال کے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت نہیں دی ۔ لیکن غزوہ خندق کے موقع پر جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے کو پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منظور فرما لیا ۔ اس وقت وہ پندرہ سال کی عمر کے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ غزوہ احد اور غزوہ خندق کے درمیان ایک سال کا وقفہ تھا کیونکہ غزوہ احد کے وقت حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کی عمر چودہ برس تھی اور غزوہ خندق میں وہ پندرہ سال کے ہو گئےتھے۔
2۔
دراصل امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو موسیٰ بن عقبہ کی تائید میں پیش کیا ہے کہ غزوہ خندق چار ہجری میں ہوا کیونکہ غزوہ احد کا تین ہجری میں ہونا یقینی ہے اور ایک سال بعد غزوہ خندق ہوا تو اس کا واضح مطلب ہے کہ وہ چار ہجری میں ہوا لیکن دوسرے سیرت نگاروں کا کہنا ہے کہ غزوہ خندق پانچ ہجری میں ہوا کیونکہ غزوہ احد کے موقع پر ابو سفیان نے کہا تھا کہ آئندہ سال پھر بدر کے مقام پر لڑائی ہوگی مگر مکے میں قحط پڑ جانے کی وجہ سے ان کی تیاری نہ ہوسکی تو وہ اس سال یعنی چار ہجری میں نہ آئے جبکہ نبی ﷺ چار ہجری میں بدر کی طرف تشریف لے گئے تھے تاہم ابو سفیان اور دیگر مشرکین مکہ وگیرہ کے وہاں نہ آنے کی وجہ سے آپ ﷺ مدینہ طیبہ واپس تشریف لے آئے پھر اس کے بعد آئندہ سال پانچ ہجری میں ابو سفیان نے مختلف قبائل اور یہود مدینہ کو ساتھ ملا کر مدینے پر چڑھائی کی۔
3۔
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کی پیش کردہ حدیث کا جواب یہ ہے کہ غزوہ احد کے وقت ان کی عمرکا چودھواں سال شروع ہو چکا تھا اور غزوہ خندق میں ان کی عمر کے پندرھویں سال کا اختتام تھا اس طرح غزوہ خندق کے درمیان دو سال کی مدت کا ہونا ناممکن نہیں ہے۔
اس لیے غزوہ خندق عام مشہور اور قابل اعتماد قول کے مطابق پانچ ہجری میں ہوا۔
(فتح الباری: 7/491)
واللہ اعلم۔
(1)
اس حدیث کے مطابق جب بچے کی عمر پندرہ برس ہو جائے تو اس پر بالغوں کے احکام جاری ہو جاتے ہیں۔
اس پر عبادات، حدود اور دیگر احکام شریعت بھی اسی عمر میں لازم ہوں گے۔
اس عمر میں وہ جنگ میں شریک ہو سکے گا اور مال غنیمت کا حق دار ہو گا۔
اگر وہ حربی کافر ہے تو اسے قتل کیا جائے گا۔
اس عمر میں اس کی گواہی بھی قبول کی جائے گی۔
اگر اس عمر سے پہلے احتلام شروع ہو جائے تو بھی بلوغ کے احکام نافذ ہوں گے۔
(2)
احتلام سے مراد اچھلنے والے پانی کا اترنا ہے، خواہ جماع سے ہو یا حالت نیند میں۔
عورتوں کے لیے حیض کی آمد ان کے بالغ ہونے کی علامت ہے۔
اس میں عمر کی کوئی حد نہیں ہوتی۔
صحت اور علاقائی اثرات کے اعتبار سے عمر مختلف ہو سکتی ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک لشکر میں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، میں چودہ سال کا تھا، تو آپ نے مجھے (جہاد میں لڑنے کے لیے) قبول نہیں کیا، پھر مجھے آپ کے سامنے آئندہ سال ایک لشکر میں پیش کیا گیا اور میں پندرہ سال کا تھا، تو آپ نے مجھے (لشکر میں) قبول کر لیا، نافع کہتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کو عمر بن عبدالعزیز سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: چھوٹے اور بڑے کے درمیان یہی حد ہے، پھر انہوں نے فرمان جاری کیا کہ جو پندرہ سال کا ہو جائے اسے مال غنیمت سے حصہ دیا جائے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد/حدیث: 1711]
وضاحت:
1؎:
لڑکا یا لڑکی کی عمر سن ہجری سے جب پندرہ سال کی ہوجائے تو وہ بلوغت کی حدکو پہنچ جاتا ہے، اسی طرح سے زیرناف بال نکل آنا اوراحتلام کا ہونا بھی بلوغت کی علامات میں سے ہے، اور لڑکی کو حیض آجائے تو یہ بھی بلوغت کی نشانی ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ وہ غزوہ احد کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کئے گئے اس وقت ان کی عمر (۱۴) سال تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غزوہ میں شرکت کی اجازت نہیں دی، پھر وہ غزوہ خندق کے موقع پر پیش کئے گئے اس وقت وہ پندرہ سال کے ہو گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غزوہ میں شرکت کی اجازت دے دی۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2957]
1۔
بچہ پندرہ سال کی عمر میں بالغ شمار ہوتا ہے۔
اور شرعی امور کا مکلف ہوجاتا ہے۔
لہذا اسے جنگ وقتال میں بھی شریک کیا جا سکتا ہے۔
اس سے پہلے اسے جنگ میں لے جانا درست نہیں۔
2۔
اور جب جنگ میں شریک ہوگا۔
تو غنیمت میں سے باقاعدہ حصہ پائے گا۔
3۔
پندرہ سال یا علامات بلوغت سے پہلے اگر کسی جرم کا ارتکاب کرے تو اس پر شرعی حد لاگو نہیں ہوگی۔
تعزیر وتادیب ہوگی۔
اسی طرح اس کی دی ہوئی طلاق بھی نافذ العمل نہیں ہوگی۔
فیصلے میں اس کے ولی کی شمولیت ضروری ہوگی اور اسے اپنے مال سے باقاعدہ اور آزادانہ تصرف کا اختیار بھی اس کے بعد حاصل ہوگا۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے غزوہ احد کے دن پیش کئے گئے تو ان کی عمر چودہ سال کی تھی آپ نے انہیں جنگ میں شمولیت کی اجازت نہیں دی، اور غزوہ خندق میں پیش ہوئے تو پندرہ سال کے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4406]
شرعی طور پر بالغ سمجھے جانےکے لئے پندرہ سال کی عمر کا اعتبار ہے، خواہ زیر ناف بال اگیں یا نہ احتلام ہو یا نہ اور نابالغ کو قتال میں شریک کرنا روا نہیں۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو جنگ احد کے موقع پر (جنگ میں شریک ہونے کے لیے) ۱۴ سال کی عمر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا تو آپ نے انہیں (جنگ میں شرکت کی) اجازت نہ دی۔ اور غزوہ خندق کے موقع پر جب کہ وہ پندرہ سال کے ہو چکے تھے اپنے آپ کو پیش کیا تو آپ نے اجازت دے دی (اور مجاہدین میں شامل کر لیا)۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3461]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے غزوہ احد کے دن پیش کیا گیا، اس وقت میری عمر چودہ سال کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (غزوہ میں شریک ہونے کی) اجازت نہیں دی، لیکن جب مجھے آپ کے سامنے غزوہ خندق کے دن پیش کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی، اس وقت میری عمر پندرہ سال تھی۔ نافع کہتے ہیں کہ یہ حدیث میں نے عمر بن عبدالعزیز سے ان کے عہد خلافت میں بیان کی تو انہوں نے کہا: یہی نابالغ اور بالغ کی حد ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2543]
فوائد و مسائل: (1)
اس حدیث سے علماء نے استدلال کیا ہے کہ پندرہ سال کی عمر بلوغت کی عمر ہے لہٰذااس عمر کےبچے کو بالغ شمار کرنا چاہیے۔
(2)
عام حالات میں بلوغت کی دوسری علامت پراعتماد کیا جاتا ہے مثلا: زیر ناف بال آ جانا یا احتلام ہونا، لڑکیوں کا مہانہ نظام شروع ہونا۔
لیکن اگر کسی بچے یابچی میں مناسب عمرمیں یہ علامتیں ظاہرنہ ہوتوپندرہ سال عمر مکمل ہونے پرانھیں بالغ قرار دیا جا سکتا ہے۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مجھے احد کے روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو پیش کیا گیا۔ اس وقت میری عمر چودہ برس تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جنگ میں شرکت کی اجازت نہ دی۔ پھر خندق کے روز مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا اس وقت میری عمر پندرہ برس تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے شرکت کی اجازت دے دی۔ (بخاری و مسلم) اور بیہقی کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت نہ دی اور مجھے بالغ نہیں سمجھا۔ ابن خزیمہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 731»
«أخرجه البخاري، الشهادات، باب بلوغ الصبيان وشهادتهم، حديث:2664، ومسلم، الإمارة، باب بيان سن البلوغ، حديث:1868، والبيهقي:3 /83.»
تشریح: 1. اس حدیث کی رو سے تصرفات کی عمر پندرہ سال میں شروع ہو جاتی ہے جسے قابل قبول اور قابل تسلیم سمجھا گیا ہے۔
2. مصنف بھی اس حدیث کو اس باب میں یہی بتانے کے لیے لائے ہیں کہ خرید و فروخت کس عمر کی قابل اعتبار ہے۔
گویا پندرہ سال سے کم عمر‘ بچہ اور پندرہ سال کا نوجوان‘ مردوں کے حکم میں آجاتا ہے۔
3.اس حدیث سے نوجوان کا شوق جہاد ملاحظہ کیجیے کہ آگے بڑھ کر خود اپنے آپ کو خدمت جہاد کے لیے پیش کرتا ہے۔
پہلی بار ناکامی کے بعد اگلے سال پھر قسمت آزمائی کرتا ہے اور اپنے عزم و ارادے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
4.معلوم ہوا کہ فوج میں بھرتی کے لیے اس سے کم عمر والوں کو نہیں لینا چاہیے۔
5.اس سے یہ اصول بھی نکلا کہ فوج کی بھرتی کے لیے پہلے جسمانی ٹیسٹ لینا چاہیے‘ اگر مناسب نہ ہو تو واپس بھیج دیا جائے۔