مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 4092
حَدَّثَنِي حِبَّانُ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ , أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , قَالَ : حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّهُ , سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , يَقُولُ : " لَمَّا طُعِنَ حَرَامُ بْنُ مِلْحَانَ وَكَانَ خَالَهُ يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ , قَالَ بِالدَّمِ هَكَذَا فَنَضَحَهُ عَلَى وَجْهِهِ وَرَأْسِهِ , ثُمَّ قَالَ : فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ " .
مولانا داود راز

´مجھ سے حبان نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی ، ان کو معمر نے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ثمامہ بن عبداللہ بن انس نے بیان کیا اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ` جب حرام بن ملحان کو جو ان کے ماموں تھے بئرمعونہ کے موقع پر زخمی کیا گیا تو زخم پر سے خون کو ہاتھ میں لے کر انہوں نے اپنے چہرہ اور سر پر لگا لیا اور کہا کعبہ کے رب کی قسم ! میری مراد حاصل ہو گئی ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4092
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
4092. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: جب ان کے ماموں حضرت حرام بن ملحان ؓ کو بئر معونہ کے دن نیزا مارا گیا تو انہوں نے اس طرح اپنا خون اپنے ہاتھ میں لیا اور اسے اپنے چہرے اور سر پر چھڑک لیا، پھر کہا: رب کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا ہوں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4092]
حدیث حاشیہ: ایک حقیقی مومن باللہ کی دلی مراد یہی ہوتی ہے کہ وہ اللہ کے راستے میں اپنی جان قربان کرسکے۔
یہ جذبہ نہیں تو ایمان کی خیر منانی چاہیے۔
حضرت حرام بن ملحان ؓ نے شہادت کے وقت اس حقیقت کا اظہار فرمایا۔
ارشاد باری ہے ﴿إنَّ اللّہَ اشتَری مِنَ المُومِنِینَ أنفُسَھُم وَأموَالَھُم بِأنَّ لَھُمُ الجَنَّة﴾ (التوبة: 111)
بے شک اللہ تعالی ایمان والوں سے ان کی جانوں اور مالوں کے بدلے جنت کا سودا کرچکا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4092 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
4092. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: جب ان کے ماموں حضرت حرام بن ملحان ؓ کو بئر معونہ کے دن نیزا مارا گیا تو انہوں نے اس طرح اپنا خون اپنے ہاتھ میں لیا اور اسے اپنے چہرے اور سر پر چھڑک لیا، پھر کہا: رب کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا ہوں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4092]
حدیث حاشیہ:

حضرت حرام بن ملحان ؓ کا آخری اقدام ان کی کمال شجاعت اور دربار الٰہی میں حاضری کی فرحت و خوشی پر دلالت کرتا ہے، انھیں اس بات کا علم تھا کہ شہید کا خون نہیں ہےبلکہ قیامت کے دن اس سے کستوری اور عنبر کی مہک اٹھے گی۔
یہی وجہ ہے کہ شہداء کو غسل نہیں دیا جاتا بلکہ انھیں خون آلود جسم ہی سے دفن کردیا جاتا ہے۔

اس حدیث میں شہید کو غسل نہ دینے کی حکمت کی طرف اشارہ ہے۔
واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4092 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔