صحيح البخاري
كتاب المغازي— کتاب: غزوات کے بیان میں
بَابُ ذِكْرِ أُمِّ سَلِيطٍ: باب: ام سلیط رضی اللہ عنہا کا تذکرہ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ وَقَالَ ثَعْلَبَةُ بْنُ أَبِي مَالِكٍ إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَسَمَ مُرُوطًا بَيْنَ نِسَاءٍ مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، فَبَقِيَ مِنْهَا مِرْطٌ جَيِّدٌ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُ مَنْ عِنْدَهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَعْطِ هَذَا بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي عِنْدَكَ. يُرِيدُونَ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ عَلِيٍّ. فَقَالَ عُمَرُ أُمُّ سَلِيطٍ أَحَقُّ بِهِ. وَأُمُّ سَلِيطٍ مِنْ نِسَاءِ الأَنْصَارِ مِمَّنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عُمَرُ فَإِنَّهَا كَانَتْ تُزْفِرُ لَنَا الْقِرَبَ يَوْمَ أُحُدٍ.´ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے یونس نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ ثعلبہ بن ابی مالک نے بیان کیا کہ` عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مدینہ کی خواتین میں چادریں تقسیم کروائیں ۔ ایک عمدہ قسم کی چادر باقی بچ گئی تو ایک صاحب نے جو وہیں موجود تھے ، عرض کیا : یا امیرالمؤمنین ! یہ چادر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی کو دے دیجئیے جو آپ کے نکاح میں ہیں ۔ ان کا اشارہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہا کی طرف تھا ۔ لیکن عمر رضی اللہ عنہ بولے کہ ام سلیط رضی اللہ عنہا ان سے زیادہ مستحق ہیں ۔ ام سلیط رضی اللہ عنہا کا تعلق قبیلہ انصار سے تھا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ غزوہ احد میں وہ ہمارے لیے پانی کی مشک بھربھر کر لاتی تھیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
حضرت عمر ؓ نے جس نظر بصیرت کا یہاں ثبوت دیا اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔
رضي اللہ عنه وأرضاہ۔
1۔
حضرت عمر ؓ نے جس حسن بصیرت کا ثبوت دیا ہے اس کی جتنی تعریف بھی تعریف کی جائے کم ہے۔
غزوہ اُحد میں ام سلیط ؓ کی شرکت کو وجہ فضیلت قراردیا گیا اور اسی بنیاد پر اس خاتونِ اسلام کو چادر دی گئی۔
اس جنگ میں حضرت عائشہ ؓ اور حضرت ام سلیم ؓ نے بھی وہی خدمات سرانجام دی تھیں جو ام سلیط کی فضیلت کا باعث تھا۔
(صحیح البخاری، الجھاد والسیر، حدیث: 2881)
2۔
واضح رہے کہ حضرت علی ؓ نے خود حضرت ام کلثوم ؓ کا نکاح حضرت عمر ؓ سے کیا تھا تاکہ اس جانب سے بھی حضرت عمر ؓ کا تعلق رسول اللہ ﷺ سے قائم ہوجائے۔
قسطلانی نے کہا امام بخاریؒ نے یہ معنی ابو صالح کاتب لیث کی تقلید سے نقل کردیا۔
حضرت عمرؓ کا عدل و انصاف یہاں سے معلوم کرنا چاہئے۔
یہ چادر آپ اپنی بیوی ام کلثوم ؓ کو دے دیتے مگر صرف اس خیال سے نہ دی کہ وہ ان کی بیوی تھیں اور غیر کو جس کا حق زیادہ تھا مقدم کیا۔
انصاف کا تقاضا بھی یہی ہے۔
1۔
اُم کلثوم سیدہ فاطمہ ؓ کی بیٹی تھیں رسول اللہ ؓ کی حیات طیبہ میں پیدا ہوئیں۔
حضرت علی ؓنے حضرت عمر فاروق ؓ کی درخواست پر ان سے نکاح کردیا تھا لیکن شیعہ حضرات اسے تسلیم نہیں کرتے۔
بلکہ اسے غصب سے تعبیر کرتے ہیں۔
2۔
اس حدیث سے حضرت عمر ؓ کی مردم شناسی اور انصاف پسندی کا پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے ایک بہترین نئی چادر اپنی بیوی اُم کلثوم ؓ کو دینے کی بجائے۔
حضرت اُم سلیط ؓ کو ان کی خدمات کے صلے میں عطا کی۔
3۔
حافظ ابن حجر ؒنے لکھا ہے عربی لغت میں (تَزفِرُ)
کا لفظ سینے کے معنی میں استعمال نہیں ہوتا بلکہ اس کے معنی اٹھانا ہے۔
(فتح الباري: 98/6)
ہمارے رجحان کے مطابق اس کے صحیح معنی یہ ہیں کہ وہ مشکیزے اٹھا کر لاتی تھیں۔