صحيح البخاري
كتاب المغازي— کتاب: غزوات کے بیان میں
بَابُ: {إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلاَ وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ} : باب: جب تم میں سے دو جماعتیں ایسا ارادہ کر بیٹھتی تھیں کہ ہمت ہار دیں حالانکہ اللہ دونوں کا مددگار تھا اور ایمانداروں کو تو اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ وَمَعَهُ رَجُلَانِ يُقَاتِلَانِ عَنْهُ عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بِيضٌ كَأَشَدِّ الْقِتَالِ , مَا رَأَيْتُهُمَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ .´ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، ان سے ان کے باپ نے ، ان کے دادا سے کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ،` غزوہ احد کے موقع پر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ کے ساتھ دو اور اصحاب ( یعنی جبرائیل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام انسانی صورت میں ) آئے ہوئے تھے ۔ وہ آپ کو اپنی حفاظت میں لے کر کفار سے بڑی سختی سے لڑ رہے تھے ۔ ان کے جسم پر سفید کپڑے تھے ۔ میں نے انہیں نہ اس سے پہلے کبھی دیکھا تھا اور نہ اس کے بعد کبھی دیکھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
صحیح مسلم کی روایت میں صراحت ہے کہ حضرت جبرئیل ؑ اور حضرت میکائیل ؑ تھے۔
(صحیح مسلم، الفضائل، حدیث: 6004۔
(2306)
2۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غزوہ احد میں فرشتوں کا نزول ہوا تھا اور انھوں نے باقاعدہ جنگ میں حصہ لیا تھا۔
3۔
اس حدیث میں حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کی فضیلت ہے۔
انھوں نے فرشتوں کو دیکھا اور انھیں شناخت بھی کیا۔
4۔
بہر حال نزول ملائکہ غزوہ بدر کے ساتھ مختص کرنا محل ہے، جیسا کہ بعض شارحین نے کہا ہے۔
واللہ اعلم۔
(1)
وہ دو آدمی حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل تھے جیسا کہ ایک حدیث میں صراحت ہے۔
(صحیح مسلم، الفضائل، حدیث: 6004 (2306) (2)
فرشتوں کا سفید لباس میں نظر آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ سفید لباس اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفید لباس کی ترغیب دیتے تھے، چنانچہ حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سفید لباس پہنا کرو، بلاشبہ یہ سب سے بہتر لباس ہے، اور اسی میں اپنی میتوں کو کفن دیا کرو۔
‘‘ (سنن أبي داود، اللباس، حدیث: 4061)
اس سے معلوم ہوا سفید لباس پہننا اور میت کو سفید کفن دینا مستحب ہے۔
نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا، اللہ تعالیٰ انبیاء کے علاوہ بھی دوسرے نیک اور متقی انسانوں کو ان کی عزت و کرامت کے لیے فرشتوں کا دیدار کروا دیتا ہے اور ان کے ناموں کی تعیین، آپ کے بتانے پر ہوئی، کیونکہ آپ کی اطلاع کے بغیر حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے لیے ان کو جبریل اور میکائیل کا نام دینا ممکن نہ تھا۔