حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ , أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ , أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ , عَنْ حَيْوَةَ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ أَبِي الْخَيْرِ , عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ , قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ بَعْدَ ثَمَانِي سِنِينَ كَالْمُوَدِّعِ لِلْأَحْيَاءِ وَالْأَمْوَاتِ , ثُمَّ طَلَعَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ : " إِنِّي بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فَرَطٌ , وَأَنَا عَلَيْكُمْ شَهِيدٌ , وَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْحَوْضُ وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَيْهِ مِنْ مَقَامِي هَذَا , وَإِنِّي لَسْتُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا أَنْ تَنَافَسُوهَا " , قَالَ : فَكَانَتْ آخِرَ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .´ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا ، کہا ہم کو زکریا بن عدی نے خبر دی ، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، انہیں حیوہ نے ، انہیں یزید بن ابی حبیب نے ، انہیں ابوالخیر نے اور ان سے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ سال بعد یعنی آٹھویں برس میں غزوہ احد کے شہداء پر نماز جنازہ ادا کی ۔ جیسے آپ زندوں اور مردوں سب سے رخصت ہو رہے ہوں ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا ” میں تم سے آگے آگے ہوں ، میں تم پر گواہ رہوں گا اور مجھ سے ( قیامت کے دن ) تمہاری ملاقات حوض ( کوثر ) پر ہو گی ۔ اس وقت بھی میں اپنی اس جگہ سے حوض ( کوثر ) کو دیکھ رہا ہوں ۔ تمہارے بارے میں مجھے اس کا کوئی خطرہ نہیں ہے کہ تم شرک کرو گے ، ہاں میں تمہارے بارے میں دنیا سے ڈرتا ہوں کہ تم کہیں دنیا کے لیے آپس میں مقابلہ نہ کرنے لگو ۔ “ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ آخری دیدار تھا جو مجھ کو نصیب ہوا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس لیے راوی کا یہ کہنا کہ آٹھ برس بعد صحیح نہیں ہو سکتا۔
مطلب یہ ہے کہ آٹھویں برس جیسا کہ ہم نے ترجمہ میں ظاہر کردیا ہے۔
زندوں کا رخصت کرنا تو ظاہر ہ کیونکہ یہ واقعہ آپ کے حیات طیبہ کی آخری سال کا ہے اور مردوں کا وداع اس کا معنی یوں کر رہے ہیں کہ اب بدن کے ساتھ ان کی زیارت نہ ہو سکے گی۔
جیسے دنیا میں ہوا کرتی تھی۔
حافظ صاحب نے کہا گو آنحضرت ﷺ وفات کے بعد بھی زندہ ہیں لیکن وہ اخروی زندگی ہے جو دنیاوی زندگی سے مشابہت نہیں رکھتی۔
روایت میں حوض کوثر پر شرف دیدار نبوی ﷺ کا ذکر ہے۔
وہاں ہم سب مسلمان آپ سے شرف ملاقات حاصل کریں گے۔
مسلمانو! کوشش کرو کہ قیامت کے دن ہم ا پنے پیغمبر ﷺ کے سامنے شرمندہ نہ ہوں۔
جہاں تک ہو سکے آپ کے دین کی مدد کرو۔
قرآن وحدیث پھیلاؤ۔
جو لوگ حدیث شریف اور حدیث والوں سے دشمنی رکھتے ہیں نہ معلوم وہ حوض کوثر پر رسول کریم ﷺ کو کیا منہ دکھائیں گے۔
اللہ تعالی ہم سب کو حوض کوثر پر ہمارے رسول ﷺ کی ملا قات نصیب فرمائے۔
آمین۔
1۔
10 ہجری میں حجۃ الوداع سے فراغت کے بعد11 ہجری ماہ ربیع الاول میں آپ کی وفات ہوئی جبکہ غزوہ اُحد 3ہجری میں ہوا، اس لیے راوی کا یہ کہنا کہ غزوہ اُحد کے آٹھ برس بعد شہدائے احد پر نماز جنازہ پڑھی، یہ صحیح نہیں ہوسکتا، البتہ آٹھویں برس صحیح ہے۔
2۔
زندوں کا رخصت کرنا تو ظاہر ہے کیونکہ یہ واقعہ آپ کی حیات طیبہ کے آخری سال کا ہے اور مردوں کو الوداع کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اب جسد عنصری کے ساتھ ان کی زیارت نہیں ہوسکے گی جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتی تھی۔
3۔
حافظ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اگرچہ وفات کے بعد بھی زندہ ہیں لیکن اخروی زندگی دنیا کی زندگی سے مختلف ہے۔
(فتح الباري: 436/7)
4۔
چونکہ اس حدیث میں شہدائے اُحد کا ذکر تھا، اس لیے امام بخاری ؒ نے اسے بیان فرمایا ہے کہ گویا آپ نے درج ذیل آیات کی تفسیر کرتے ہوئے اس حدیث کو ذکر کیا ہے: ’’جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید ہوگئے ہیں انھیں ہرگز مردہ گمان نہ کریں بلکہ وہ اللہ کے ہاں زندہ ہیں اور انھیں رزق دیا جاتا ہے۔
‘‘ (آل عمران: 169: 3)
قبل ازیں ہم اس حدیث سے متعلق احکام ومسائل بیان کرآئے ہیں۔
(صحیح البخاري، الجنائز، حدیث: 1344)
لیکن علامہ انور کشمیری اس کو دعا سمجھتے ہیں۔
ان عرضه كما بين ايلة الی جحفة: حوض کوثر کی لمبائی اور چوڑائی کے بارے میں آپ نے مختلف اوقات میں، مختلف مقامات کی مسافت بیان فرمائی ہے، آپ نے حاضرین کی معلومات کے مطابق جگہوں کے نام بیان فرمائے تھے، مقصود اس کی وسعت اور فراخی کا بیان ہے، مسافت کی تعیین یا تحدید مقصود نہیں، جحفه، رابغ کے قریب ایک جگہ ہے، جو اہل شام کا میقات ہے اور ایلۃ ایک بندرگاہ ہے جو بحرقلزم پر واقع ہے اور مدینہ سے تقریبا ایک ماہ کا راستہ ہے۔