حدیث نمبر: 4041
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى , أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ , حَدَّثَنَا خَالِدٌ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ : " هَذَا جِبْرِيلُ آخِذٌ بِرَأْسِ فَرَسِهِ عَلَيْهِ أَدَاةُ الْحَرْبِ " .مولانا داود راز
´ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ، ہم کو عبدالوہاب نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہم سے خالد نے بیان کیا ، ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے موقع پر فرمایا ” یہ جبرائیل علیہ السلام ہیں ، ہتھیار بند ، اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
4041. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے غزوہ اُحد کے دن فرمایا: ’’یہ حضرت جبریل ؑ ہیں جو ہتھیار بند اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہیں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:4041]
حدیث حاشیہ:
1۔
یہ حدیث پہلے بھی گزر چکی ہے وہاں غزوہ اُحد کے بجائے غزوہ بدر کے الفاظ ہیں۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 3995)
حافظ ابن حجر ؒ نے "تنبیہ" کا عنوان دے کر اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اس حدیث میں غزوہ اُحد کے الفاظ وہم پر مبنی ہیں۔
(فتح الباري: 436/7)
لیکن اسے وہم قراردینا صحیح نہیں۔
ممکن ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دونوں مقامات پر یہ ا لفاظ استعمال فرمائے ہوں، پھر فرشتوں کا اترنا دونوں غزوات میں ثابت ہے جیسا کہ خود امام بخاری ؒ نے ایک حدیث پیش کی ہے۔
2۔
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اُحد کی لڑائی میں رسول اللہ ﷺ کی معیت میں دوآدمیوں کو لڑتے ہوئے دیکھا جو سفید کپڑوں میں ملبوس تھے۔
میں نے اس سے پہلے اور اس کےبعد انھیں نہیں دیکھا۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4054)
صحیح مسلم میں یہ الفاظ ہیں: اُحد کے دن میں نے رسول اللہ ﷺ کے دائیں بائیں دوآدمیوں کو لڑتے ہوئے دیکھا، جنھوں نے سفید کپڑے پہن رکھے تھے۔
میں نے اس سے پہلے اور اس کے بعد انھیں نہیں دیکھا۔
وہ حضرت جبرئیل ؑ اور میکائیل ؑ تھے۔
(صحیح مسلم، الفضائل، حدیث: 6004(2306)
ان روایات سے معلوم ہواکہ فرشتوں کی حاضری یوم بدر کے ساتھ خاص نہیں ہے۔
احد میں ان کی حاضری بلکہ لڑنا بھی ثابت ہے، اس لیے اس روایت میں "یوم اُحد" کے الفاظ کو وہم قراردینا محل نظر ہے۔
واللہ اعلم۔
1۔
یہ حدیث پہلے بھی گزر چکی ہے وہاں غزوہ اُحد کے بجائے غزوہ بدر کے الفاظ ہیں۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 3995)
حافظ ابن حجر ؒ نے "تنبیہ" کا عنوان دے کر اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اس حدیث میں غزوہ اُحد کے الفاظ وہم پر مبنی ہیں۔
(فتح الباري: 436/7)
لیکن اسے وہم قراردینا صحیح نہیں۔
ممکن ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دونوں مقامات پر یہ ا لفاظ استعمال فرمائے ہوں، پھر فرشتوں کا اترنا دونوں غزوات میں ثابت ہے جیسا کہ خود امام بخاری ؒ نے ایک حدیث پیش کی ہے۔
2۔
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اُحد کی لڑائی میں رسول اللہ ﷺ کی معیت میں دوآدمیوں کو لڑتے ہوئے دیکھا جو سفید کپڑوں میں ملبوس تھے۔
میں نے اس سے پہلے اور اس کےبعد انھیں نہیں دیکھا۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4054)
صحیح مسلم میں یہ الفاظ ہیں: اُحد کے دن میں نے رسول اللہ ﷺ کے دائیں بائیں دوآدمیوں کو لڑتے ہوئے دیکھا، جنھوں نے سفید کپڑے پہن رکھے تھے۔
میں نے اس سے پہلے اور اس کے بعد انھیں نہیں دیکھا۔
وہ حضرت جبرئیل ؑ اور میکائیل ؑ تھے۔
(صحیح مسلم، الفضائل، حدیث: 6004(2306)
ان روایات سے معلوم ہواکہ فرشتوں کی حاضری یوم بدر کے ساتھ خاص نہیں ہے۔
احد میں ان کی حاضری بلکہ لڑنا بھی ثابت ہے، اس لیے اس روایت میں "یوم اُحد" کے الفاظ کو وہم قراردینا محل نظر ہے۔
واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4041 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3995 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3995. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے بدر کے دن فرمایا: ’’یہ جبریل ؑ ہیں جو اپنے گھوڑے کا سر تھامے لڑائی کے لیے ہتھیار لگائے ہوئے ہیں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3995]
حدیث حاشیہ: جن کو اللہ تعالی نے مسلمانوں کی مدد کے لیے اور بھی بہت سے فرشتوں کے ساتھ میدان جنگ میں بھیجا ہے۔
سعید بن منصور کی روایت میں ہے کہ حضرت جبرئیل ؑ سرخ گھوڑے پر سوار تھے۔
اس کی پیشانی کے بال گندھے ہوئے تھے۔
ابن اسحاق نے ابو واقد لیثی سے نکالا کہ میں بدر کے دن ایک کافر کو مارنے چلا مگر میرے پہنچنے سے پہلے ہی اس کا سر خود بخود تن سے جدا ہوکر گر پڑا۔
ابھی میری تلوار اس کے قریب پہنچی بھی نہ تھی۔
بیہقی نے نکا لا کہ بدر کے دن ایک سخت آندھی چلی پھر دوسری مرتبہ ایک سخت آندھی چلی۔
پہلی آندھی حضرت جبرئیل ؑ کی آمد تھی۔
دوسری حضرت میکائیل ؑ کی آمد پر تھی۔
اگرچہ اللہ کا ایک ہی فرشتہ دنیا کے سارے کافروں کو مارنے کے لیے کافی تھا مگر پرور دگارکو یہ منظور ہوا کہ فرشتوں کو بطور سپاہیوں کے بھیجے اور ان سے عادت اور قوت بشری کے موافق کام لے۔
سعید بن منصور کی روایت میں ہے کہ حضرت جبرئیل ؑ سرخ گھوڑے پر سوار تھے۔
اس کی پیشانی کے بال گندھے ہوئے تھے۔
ابن اسحاق نے ابو واقد لیثی سے نکالا کہ میں بدر کے دن ایک کافر کو مارنے چلا مگر میرے پہنچنے سے پہلے ہی اس کا سر خود بخود تن سے جدا ہوکر گر پڑا۔
ابھی میری تلوار اس کے قریب پہنچی بھی نہ تھی۔
بیہقی نے نکا لا کہ بدر کے دن ایک سخت آندھی چلی پھر دوسری مرتبہ ایک سخت آندھی چلی۔
پہلی آندھی حضرت جبرئیل ؑ کی آمد تھی۔
دوسری حضرت میکائیل ؑ کی آمد پر تھی۔
اگرچہ اللہ کا ایک ہی فرشتہ دنیا کے سارے کافروں کو مارنے کے لیے کافی تھا مگر پرور دگارکو یہ منظور ہوا کہ فرشتوں کو بطور سپاہیوں کے بھیجے اور ان سے عادت اور قوت بشری کے موافق کام لے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3995 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3995 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3995. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے بدر کے دن فرمایا: ’’یہ جبریل ؑ ہیں جو اپنے گھوڑے کا سر تھامے لڑائی کے لیے ہتھیار لگائے ہوئے ہیں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3995]
حدیث حاشیہ:
1۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت جبرئیل ؑ سرخ گھوڑے پر سوار تھے جس کی پیشانی کے بال گندھے ہوئے تھے زرہ پہنے اور گردو غبار سے اٹے ہوئے وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول اللہ ﷺ!اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں آپ سے جدا نہ ہوں حتی کہ آپ راضی ہو جائیں کیا آپ خوش ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ہاں میں راضی ہوں۔
‘‘ ابن اسحاق سے روایت ہے کہ بدر کے دن رسول اللہ ﷺ کو اونگھ آئی پھر بیدار ہوئے تو فرمایا: ’’اے ابو بکر!تمھیں خوشبخری ہو کہ تمھارے پاس اللہ کی مدد آگئی ہے یہ جبرئیل ؑ اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہیں۔
‘‘ (السیرة التبوبة لابن هشام: 626/1 و فتح الباري: 390/7)
2۔
اس جنگ میں فرشتوں کے اترنے میں یہ حکمت تھی کہ مسلمانوں کے دلوں کو مضبوط کرنا مقصود تھا جیسا کہ قرآن کریم نے اس کی وضاحت کی ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’فرشتوں کی شمولیت اس لیے تھی کہ تم خوش ہو جاؤ اور تمھارے دل مطمئن ہو جائیں۔
‘‘ (آل عمران: 126/3)
ویسے تو حضرت جبرئیل ؑ اپنے پرسے مشرکین کو تہس نہیں کر سکتے تھے لیکن ایسا کرنا عام عادت کے خلاف تھا۔
واللہ اعلم۔
1۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت جبرئیل ؑ سرخ گھوڑے پر سوار تھے جس کی پیشانی کے بال گندھے ہوئے تھے زرہ پہنے اور گردو غبار سے اٹے ہوئے وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول اللہ ﷺ!اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں آپ سے جدا نہ ہوں حتی کہ آپ راضی ہو جائیں کیا آپ خوش ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ہاں میں راضی ہوں۔
‘‘ ابن اسحاق سے روایت ہے کہ بدر کے دن رسول اللہ ﷺ کو اونگھ آئی پھر بیدار ہوئے تو فرمایا: ’’اے ابو بکر!تمھیں خوشبخری ہو کہ تمھارے پاس اللہ کی مدد آگئی ہے یہ جبرئیل ؑ اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہیں۔
‘‘ (السیرة التبوبة لابن هشام: 626/1 و فتح الباري: 390/7)
2۔
اس جنگ میں فرشتوں کے اترنے میں یہ حکمت تھی کہ مسلمانوں کے دلوں کو مضبوط کرنا مقصود تھا جیسا کہ قرآن کریم نے اس کی وضاحت کی ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’فرشتوں کی شمولیت اس لیے تھی کہ تم خوش ہو جاؤ اور تمھارے دل مطمئن ہو جائیں۔
‘‘ (آل عمران: 126/3)
ویسے تو حضرت جبرئیل ؑ اپنے پرسے مشرکین کو تہس نہیں کر سکتے تھے لیکن ایسا کرنا عام عادت کے خلاف تھا۔
واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3995 سے ماخوذ ہے۔