حدیث نمبر: 4029
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُدْرِكٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : قُلْتُ : لِابْنِ عَبَّاسٍ :سُورَةُ الْحَشْرِ ، قَالَ : " قُلْ سُورَةُ النَّضِيرِ " . تَابَعَهُ هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ .
مولانا داود راز

´مجھ سے حسن بن مدرک نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن حماد نے بیان کیا ، کہا ہم کو ابوعوانہ نے خبر دی ، انہیں ابوبشر نے ، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ` میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے کہا ، ” سورۃ الحشر “ تو انہوں نے کہا کہ اسے ” سورۃ نضیر “ کہو ( کیونکہ یہ سورت بنو نضیر ہی کے بارے میں نازل ہوئی ہے ) اس روایت کی متابعت ہشیم سے ابوبشر نے کی ہے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4029
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
4029. حضرت سعید بن جبیر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے عرض کیا: یہ سورۃ الحشر ہے تو انہوں نے فرمایا: ’’اسے سورہ نضیر کہو۔‘‘ ہشام نے ابوبشر سے روایت کرنے میں ابوعوانہ کی متابعت کی ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4029]
حدیث حاشیہ:
حضرت ابن عباس ؓ اسے دواسباب کی بنا پر سورہ حشر کہنے سے گریز کرتے تھے:۔
مسلمانوں میں حشر سے مراد حشر آخرت مشہور ہے جبکہ اس میں اول حشر سے مراد اخراج بنونضیر ہے۔

۔
سورہ حشر کہنے سے ابہام رہتا ہے جبکہ سورہ بنونضیر کے نام سے اصل واقعے کی طرف اشارہ ہوجاتا ہے۔
لیکن تمام قراء نے اس سورت کا یہی نام تجویز کیا ہے اور اسی نام سے یہ سور مشہور ہے، پھر نام رکھنے میں لغوی معنی بھی ملحوظ نہیں ہوتے۔
اس کے علاوہ اس سورت کا مذکورہ نام حضرت ابن عباس ؓ سے بھی مروی ہے۔
(فتح الباری: 416/7)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4029 سے ماخوذ ہے۔