صحيح البخاري
كتاب المغازي— کتاب: غزوات کے بیان میں
بَابُ فَضْلُ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا: باب: بدر کی لڑائی میں حاضر ہونے والوں کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرُّمَاةِ يَوْمَ أُحُدٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جُبَيْرٍ , فَأَصَابُوا مِنَّا سَبْعِينَ , وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ أَصَابُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ بَدْرٍ أَرْبَعِينَ وَمِائَةً سَبْعِينَ أَسِيرًا وَسَبْعِينَ قَتِيلًا ، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ : يَوْمٌ بِيَوْمِ بَدْرٍ وَالْحَرْبُ سِجَالٌ " .´مجھ سے عمرو بن خالد نے بیان کیا ‘ ہم سے زہیر نے بیان کیا ‘ ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیان کر رہے تھے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کی لڑائی میں تیر اندازوں پر عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو سردار مقرر کیا تھا اس لڑائی میں ہمارے ستر آدمی شہید ہوئے تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابیوں سے بدر کی لڑائی میں ایک سو چالیس مشرکین کو نقصان پہنچا تھا ۔ ستر ان میں سے قتل کر دئیے گئے اور ستر قیدی بنا کر لائے گئے اس پر ابوسفیان نے کہا کہ آج کا دن بدر کے دن کا بدلہ ہے اور لڑائی کی مثال ڈول کی سی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
غزوہ احد میں پیش آنے والا ایک واقعہ انتہائی اختصار کے ساتھ اس حدیث میں بیان ہوا ہے۔
دراصل فوج کے کمانڈر کا دوران جنگ میں اہل کام اپنی فوج کی ترتیب اور ان کی مورچہ بندی ہوتا ہے رسول اللہ ﷺ نے جبل اُحد کو اپنی پشت پر رکھا تاکہ یہ طرف محفوظ ہو جائے البتہ اس کا ایک درہ غیر محفوظ تھا وہاں آپ نے حضرت عبد اللہ بن جبیر ؓ کی سر براہی میں پچاس تیرانداز مقرر کیے تاکہ دشمن اس طرف سے مسلمانوں پر حملہ آورنہ ہو، اور انھیں تاکید کردی کہ ہمیں فتح ہو یا شکست تم نے اس مقام کو نہیں چھوڑنا۔
جب مسلمانوں نے کفار پر حملہ کیا تو وہ اس کی تاب نہ لا کر بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔
مسلمانوں نے جب اس صورت حال کو دیکھا تو کفارکا مال واسباب جمع کرنا شروع کردیا فوج کا جو دستہ پہاڑی پر تعنیات تھا وہ بھی اتر کر اچانک غنیمت جمع کرنے میں مصروف ہوگیا۔
خالد بن ولید نے جب دیکھا کہ درہ بالکل خالی ہے تو پیچھے سے مسلمانوں پر حملہ کردیا۔
اچانک حملہ دیکھ کر مسلمانوں کے اوسان خطا ہوگئے تو کچھ مسلمان مدینے کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے۔
ایک گروہ رسول اللہ ﷺ کی طرف پلٹ آیا جبکہ تیسرا گروه میدان چھوڑ کر کنارے پر بیٹھ گیا۔
اس دوران میں مسلمانوں کے ستر آدمی شہید ہو گئے خود رسول اللہ ﷺ کو زخم آئے شہدائے احد کی تعداد ستر ہے۔
اس کا قرینہ درج ذیل آیت کریمہ میں ہےارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور جب تم پر مصیبت آئی تو اس سے دو گنا صدمہ تم کفار کو پہلے پہنچاچکے تھے۔
‘‘ (آل عمران: 165/3)
اس آیت میں خطاب اہل اُحد سے ہے کہ تم نے اس نقصان سے پہلے دو گنا نقصان غزوہ بدر میں کفار کو پہنچایا تھا اور اس پر اتفاق ہے کہ غزوہ بدر میں ستر کفار کو قتل کیا اور ستر ہی قیدی بنائے گئے تھے کفار کا یہ نقصان احد کے وقت مسلمانوں کے نقصان سے دوگنا ہے۔
اس سے واضح ہوا کہ غزوہ احد میں ستر مسلمان شہید ہوئے تھے اور جن مؤرخین نے ان کی تعداد ستر سے کم و بیش بتائی ہے وہ حقیقت پر مبنی نہیں۔
(فتح الباري: 384/7)
واللہ اعلم۔
ان تیر اندازوں کی نافرمانی کی پاداش میں سارے مسلمانوں کو نقصان عظیم اٹھانا پڑا کہ ستر صحابہ ؓ شہید ہوئے۔
ان تیر اندازوں نے نص کے مقابلہ پر رائے قیاس سے کام لیا تھا، اس لیے قرآن و حدیث کے ہوتے ہوئے رائے قیاس پر چلنا اللہ و رسولﷺ کے ساتھ غداری کرنا ہے۔
ایک روایت میں تفصیل ہے کہ رسول ﷺ نے پچاس افراد کے پیدل دستے کا افسر حضرت عبداللہ بن جبیرؓ کو مقرر کیا اور تاکید کی کہ تم نے اپنی جگہ سے نہیں ہٹنا، خواہ تم دیکھو کہ پرندے ہمیں اچک کرلے جارہے ہیں جب تک میں تمہاری طرف کوئی دوسرا پیغام نہ بھیجوں اور اگرتم دیکھو کہ ہم نے دشمن کو شکست دے کر اسے کچل دیا ہے تب بھی یہاں سے مت ہٹنا، جب تک میں تمھیں بلا نہ بھیجوں۔
ابتدا میں مسلمانوں نے کفار کو ماربھگایا۔
میں نے خود مشرک عورتوں کو دیکھا کہ وہ اپنے کپڑے اٹھائے اور پنڈلیاں کھولے بھاگی جارہی تھیں۔
یہ صورت حال دیکھ کر حضرت عبداللہ بن جبیرؓ کے دستے نے کہا: اب غنیمت کا مال اکٹھا کرو تمہارے ساتھی تو غالب آچکے ہیں، اب تم کیا دیکھ رہے ہو؟ حضرت عبداللہ بن جبیرؓ نے کہا: کیا تم وہ بات بھول گئے جو تمھیں رسول اللہ ﷺ نے کہی تھی؟ وہ کہنے لگے: واللہ! ہم تو لوگوں کے پاس جا کر غنیمت کا مال لوٹیں گے۔
جب وہ درہ چھوڑ کر لوگوں کے پاس آگئے تو کافروں نے مسلمانوں پر حملہ کرکے ان کے منہ پھیر دیے اور وہ شکست کھا کربھاگنے لگے۔
ادھراللہ کے رسولﷺ انھیں بلارہے تھے، اس وقت آپ کے ساتھ صرف بارہ آدمی ر ہ گئے تھے۔
کافروں نے مسلمانوں کے ستر آدمی شہید کیے جبکہ بدر کے دن مسلمانوں نے ایک سوچالیس کافروں کا نقصان کیا تھا، سترکوقید اورستر کو قتل کیا تھا۔
(صحیح مسلم، الجھاد والسیر، حدیث: 3039)
1۔
رسول اللہ ﷺ نے ابو سفیان کی باتوں کا جواب دینے سے منع فرمایا تاکہ اس کے دل کا راز معلوم ہو جائے کہ وہ کس مقصد کے لیے پوچھ رہا ہے، نیز خاموشی اختیار کرنے میں دشمن کو بظاہر خوشی ہوگی لیکن جب آپ ﷺ کا اور حضرت ابو بکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کا زندہ ہونا معلوم ہوگا تو زیادہ رنج میں مبتلا ہوں گے۔
یہ بھی ایک قسم کا جہاد ہے۔
2۔
حضرت عمر ؓ نے قرینے سے معلوم کر لیا تھا رسول اللہ ﷺ کا مقصد یہ ہے کہ ابو سفیان جب تک بولتا رہے اس کا جواب نہ دیا جائے لیکن اس کے خاموش ہو جانے کے بعد ممانعت نہیں اس لیے حضرت عمر ؓ کا جواب دینا نافرمانی اور حکم عددلی نہیں۔
اگر ایسا ہوتا تو رسول اللہ ﷺ جواب دینے پر عتاب فرماتے لیکن ایسا نہیں ہوا۔
3۔
اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ کفر کی آنکھ میں رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی حضرت ابو بکر ؓ اور حضرت عمر ؓ تینوں بزرگ کاٹنے کی طرح کھٹکتے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ ابو سفیان نے صرف ان تینوں حضرات کے متعلق سوال کیا۔
4۔
آج بھی کچھ لوگ حضرت ابو بکر ؓ اور حضرت عمر ؓ سے پرخاش رکھتے ہیں اور ان پر سب وشتم روا سمجھتے ہیں۔
جبکہ اسلام میں ان دونوں بزرگوں کا مقام بہت اونچا ہے اور اس مقام اور اہمیت کو روز اول کے کفر نے بھی محسوس کیا تھا۔
حافظ ابن حجر ؒ نے بھی ان حضرات کی قدر و منزلت کو خوب اجاگر کیا ہے۔
(فتح الباری: 440/7)
جنگ احد میں بھی ایسا ہی ہوا کہ چندافراد کی غلطی کا خمیازہ سارے مسلمانوں کو بھگتنا پڑا۔
اہل اسلام کی آزمائش کے لیے ایسا ہونا بھی ضروری تھا تاکہ آئندہ وہ ہوشیار رہیں اور دوبارہ ایسی غلطی نہ کریں۔
جبل احد کا متعینہ درہ چھوڑدینا ان کی سخت غلطی تھی حالانکہ آنحضرت ﷺ نے سخت تاکید فرمائی تھی کہ وہ ہمارے حکم کے بغیر کسی حال میں یہ درہ نہ چھوڑیں۔
1۔
اقوام کی تاریخ میں بعض مواقع ایسے بھی ہیں کہ چند افراد کی غلطی کی سزا پوری قوم کو بھگتنی پڑتی ہے۔
اور بعض دفعہ چند افراد کی کوشش سے پوری قوم کامیابی سے ہمکنار ہو جاتی ہے غزوہ احد میں بھی ایسا ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے درے پر تعینات صحابہ کرام ؓ کو سخت تاکید فرمائی تھی کہ ہمارے حکم کے بغیر کسی حالت میں اس درے کو نہ چھوڑنا لیکن ان کی غلطی سے تمام قوم کو آزمائش سے دو چار ہونا پڑا۔
اہل اسلام کی آزمائش کے لیے ایسا ضروری تھا تاکہ وہ آئندہ ہو شیار رہیں اور اس قسم کی غلطی دوبارہ نہ کریں۔
2۔
واضح رہے کہ مسلمانوں نے رسول اللہ ﷺ کی نا فرمانی کر کے انھیں رنج پہنچا یا تو اس کے بدلے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو شکست سے دو چار کر کے انھیں رنج پہنچایا۔
اس کے علاوہ مسلمانوں کو کئی قسم کے رنج پہنچائے جن کی تفصیل حسب ذیل ہے۔
منافقین کے واپس لوٹ جانے کا۔
ہزیمت سے دوچار ہونے کا۔
قرابت داروں کے شہید ہونے کا۔
رسول اللہ ﷺ کی شہادت کی خبرکا۔
زخموں سے چور ہونے کا۔
اس جنگ کے انجام کا۔
3۔
اس میں یہ سبق بھی تھا کہ مومن نہ تو مصیبت کے وقت ڈگمگاتا اور آس توڑ بیٹھتا ہے اور نہ خوشی کے وقت حد سے زیادہ اترانے لگتا ہے بلکہ وہ ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنے والا اور معتدل مزاج رکھنے والا ہوتا ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ میدان احد میں صرف رہ گئے تھے۔
(آل عمران: 154/3)
رسول کریمﷺ نے حضرت عبداللہ بن جبیرؓ کے ساتھیوں کو سخت تاکید کی تھی کہ ہم بھاگ جائیں یا مارے جائیں اور پرندے ہمارا گوشت اچک اچک کر کھا رہے ہوں‘ تم لوگ یہ درہ ہمارا حکم آئے بغیر ہرگز نہ چھوڑنا‘ یہ درہ بہت ہی نازک مقام تھا۔
وہاں سے مسلمانوں پر عقب سے حملہ ہوسکتا تھا‘ اگر حضرت عبداللہ بن جبیر ؓ کے ساتھیوں نے جب میدان مسلمانوں کے ہاتھ دیکھا تو وہ اموال غنیمت لوٹنے کے خیال سے درہ چھوڑ کر بھاگ نکلے‘ اور فرمان رسول اللہﷺ اپنی رائے قیاس کے آگے انہوں نے بالکل فراموش کردیا‘ نتیجہ یہ کہ کافروں کے اس اچانک حملہ سے مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے‘ اور بیشتر مسلمان مجاہدین نے راہ فرار اختیار کی‘ رسول کریمﷺ کے ساتھ صرف ابوبکر صدیق‘ عمر فاروق‘ علی مرتضیٰ ‘ عبدالرحمن بن عوف‘ سعد بن ابی وقاص‘ طلحہ بن عبید اللہ‘ زبیر بن عوام‘ ابوعبیدہ بن جراح‘ خباب بن منذر‘ سعد بن معاذ اور اسید بن حضیر ؓ باقی تھے۔
ستر اکابر صحابہ شہید ہوگئے۔
جن میں حضرت امیر حمزہؓ کو سید الشہداء کہا جاتا ہے۔
حضرت ابوسفیانؓ جو اس وقت کفار قریش کے لشکر کی کمان کر رہے تھے‘ جنگ کے خاتمہ پر انہوں نے فخریہ مسلمانوں کو للکارا اور یہ بھی کہا کہ مسلمانو! تمہارے کچھ شہداء مثلہ کئے ملیں گے‘ یعنی ان کے ناک کان کاٹ کر ان کی صورتوں کو مسخ کردیا گیا ہے۔
میں نے ایسا حکم نہیں دیا‘ مگر میں اسے برا بھی نہیں سمجھتا۔
مشرکوں نے سب سے زیادہ گستاخی حضرت امیر حمزہ ؓ کے ساتھ کی تھی۔
وحشی نامی ایک غلام نے ان پر چھپ کر وار کیا‘ وہ گر گئے۔
ابوسفیان کی بیوی ہندہ نے اپنے باپ اور بھائی کا مارا جانا یاد کرکے ان کی نعش کا مثلہ کردیا اور ان کا کلیجہ نکال کر چبایا اور ان کی نعش پر کھڑی ہوئی اور فخریہ شعر پڑھے۔
ہبل ایک بت کا نام تھا جو کعبہ کے بتوں میں بڑا مانا جاتا تھا۔
گویا ابوسفیان نے فتح جنگ پر ہبل کی جے کا نعرہ بلند کیا کہ آج تیرا غلبہ ہوا اور اللہ والے مغلوب ہوئے۔
اس کے جواب میں آنحضرتﷺ نے حقیقت افروز نعرہ أعلی و أجل کے لفظوں میں بلند فرمایا‘ جو اس لئے بلند اور برتر ثابت ہوا کہ بعد میں ہبل اور تمام بتوں کا کعبہ سے خاتمہ ہوگیا اور اللہ عزوجل کا نام وہاں ہمیشہ کے لئے بلند ہو رہا ہے۔
اس حدیث سے حضرت امام بخاریؒ نے باب کا مطلب یوں ثابت کیا کہ عبداللہ بن جبیر ؓ کے ساتھ والوں نے اپنے سردار سے اختلاف کیا اور ان کا کہا نہ مانا‘ مورچہ سے ہٹ گئے‘ اس لئے سزا پائی‘ شکست اٹھائی۔
یہیں سے نص صریح کے سامنے رائے قیاس کرنے کی انتہائی مذمت ثابت ہوئی مگر صد افسوس کہ امت کے ایک کثیر طبقہ کو اس رائے و قیاس نے تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے‘ نیز افتراق امت کا اہم سبب تقلید جامد ہے جس نے مسلمانوں کو مختلف فرقوں میں تقسیم کردیا۔
دین حق را چار مذہب ساختند رخنہ در دین نبی انداختند
1۔
ھبل ایک بت کا نام ہے جوکعبے کے بتوں میں بڑا مانا جاتاتھا، گویا ابوسفیان نے بزعم خویش فتح پرہبل کی جے کا نعرہ بلند کیا کہ آج تیرا غلبہ ہے اور اللہ والے مغلوب ہوگئے ہیں۔
اس کے جواب میں رسول اللہ ﷺنے حقیقت افروز نعرہ بلند کیا کہ (الله أعلى وأجل)
جو اس ليے بلند وبرتر ثابت ہواکہ بعد میں ہبل اور دیگر تمام بتوں کاکعبے سے خاتمہ ہوگیا اور اللہ تعالیٰ کا نام وہاں ہمیشہ سے بلند ہورہا ہے۔
2۔
امام بخاری ؒنے اپنا مدعا یوں ثابت کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن جبیر ؓسے ان کے ساتھیوں نے اختلاف کیا اور مورچے سے ہٹ گئے،نتیجے کے طور پر سزاپائی اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جسے قرآن کریم نے ان الفاظ میں بیان کیاہے: ﴿وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللَّـهُ وَعْدَهُ إِذْ تَحُسُّونَهُم بِإِذْنِهِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِي الْأَمْرِ وَعَصَيْتُم مِّن بَعْدِ مَا أَرَاكُم مَّا تُحِبُّونَ ۚ مِنكُم مَّن يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنكُم مَّن يُرِيدُ الْآخِرَةَ ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ ۖ وَلَقَدْ عَفَا عَنكُمْ ۗ وَاللَّـهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ ﴿١٥٢﴾ إِذْ تُصْعِدُونَ وَلَا تَلْوُونَ عَلَىٰ أَحَدٍ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِي أُخْرَاكُمْ فَأَثَابَكُمْ غَمًّا بِغَمٍّ لِّكَيْلَا تَحْزَنُوا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا مَا أَصَابَكُمْ ۗ وَاللَّـهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ﴾ ’’اللہ تعالیٰ نے تم سے اپنا وعده سچا کر دکھایا جبکہ تم اس کے حکم سے انہیں کاٹ رہے تھے۔
یہاں تک کہ جب تم نے پست ہمتی اختیار کی اور کام میں جھگڑنے لگے اور نافرمانی کی، اس کے بعد کہ اس نے تمہاری چاہت کی چیز تمہیں دکھا دی، تم میں سے بعض دنیا چاہتے تھے اور بعض کا اراده آخرت کا تھا تو پھر اس نے تمہیں ان سے پھیر دیا تاکہ تم کو آزمائے اور یقیناً اس نے تمہاری لغزش سے درگزر فرما دیا اور ایمان والوں پر اللہ تعالیٰ بڑے فضل والاہے۔
(152)
جب کہ تم چڑھے چلے جا رہے تھے اور کسی طرف توجہ تک نہیں کرتے تھے اور اللہ کے رسول تمہیں تمہارے پیچھے سے آوازیں دے رہے تھے، بس تمہیں غم پر غم پہنچا تاکہ تم فوت شده چیز پر غمگین نہ ہو اور نہ پہنچنے والی (تکلیف)
پر اداس ہو، اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے خبردار ہے۔
‘‘ (آل عمران: 152، 153)
3۔
اللہ تعالیٰ نے اس حادثے میں مسلمانوں کو کئی ایک پریشانیوں سے دوچار کیا: ایک منافقین کے واپس لوٹ جانے کی،دوسری شکست کی،تیسری اپنے شہداء کی،چوتھی اپنے زخمیوں کی،پانچویں رسول اللہ ﷺ کی شہادت کے متعلق جو افواہ پھیلی اورچھٹی اس جنگ کے انجام کی۔
بہرحال نتیجہ یہ ہے کہ اختلاف کرنے سے جنگی طاقت تباہ ہونے کے بعد واقعی دشمن غالب آجاتا ہے۔
واللہ أعلم۔
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احد میں عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو تیر اندازوں کا امیر بنایا ان کی تعداد پچاس تھی اور فرمایا: ” اگر تم دیکھو کہ ہم کو پرندے اچک رہے ہیں پھر بھی اپنی اس جگہ سے نہ ہٹنا یہاں تک کہ میں تمہیں بلاؤں اور اگر تم دیکھو کہ ہم نے کافروں کو شکست دے دی ہے، انہیں روند ڈالا ہے، پھر بھی اس جگہ سے نہ ہٹنا، یہاں تک کہ میں تمہیں بلاؤں “، پھر اللہ تعالیٰ نے کافروں کو شکست دی اور اللہ کی قسم میں نے مشرکین کی عورتوں کو دیکھا کہ بھاگ کر پہاڑوں پر چڑھنے لگیں، عبداللہ بن جبیر کے ساتھی کہنے لگے: لوگ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2662]
1۔
دشمن پر حملہ کرنے یا اپنے دفاع کےلئے مجاہدین کوکمین گاہ میں چھپنا یا چھپانا جائز اور نظم جہاد کا ایک اہم حصہ ہوتاہے۔
2۔
رسول اللہ ﷺ کے حکم کی پرواہ نہ کرنے اور مال کی حرص کا نتیجہ شکست کی صورت میں سامنے آیا۔
جو اگرچہ عارضی تھی۔
اس لئے واجب ہے کہ انسان فرامین رسول ﷺ کو ہرحال میں اولیت اور اولیت دے تاکہ دنیا اور آخرت کی ہزیمت سے محفوظ رہے۔
3۔
شرعی امیر کی اطاعت بھی واجب ہے۔
اور سپہ سالار کی منصوبہ بندی کے احکام بلا چون وچرا ماننے چاہیں۔