صحيح البخاري
كتاب المغازي— کتاب: غزوات کے بیان میں
بَابُ قَتْلِ أَبِي جَهْلٍ: باب: (بدر کے دن) ابوجہل کا قتل ہونا۔
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ : " كَانَ فِي الزُّبَيْرِ ثَلَاثُ ضَرَبَاتٍ بِالسَّيْفِ إِحْدَاهُنَّ فِي عَاتِقِهِ ، قَالَ : إِنْ كُنْتُ لَأُدْخِلُ أَصَابِعِي فِيهَا ، قَالَ : ضُرِبَ ثِنْتَيْنِ يَوْمَ بَدْرٍ وَوَاحِدَةً يَوْمَ الْيَرْمُوكِ ، قَالَ : عُرْوَةُ ، وَقَالَ لِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ حِينَ قُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ : يَا عُرْوَةُ ، هَلْ تَعْرِفُ سَيْفَ الزُّبَيْرِ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَمَا فِيهِ ؟ قُلْتُ : فِيهِ فَلَّةٌ فُلَّهَا يَوْمَ بَدْرٍ ، قَالَ : صَدَقْتَ , بِهِنَّ فُلُولٌ مِنْ قِرَاعِ الْكَتَائِبِ , ثُمَّ رَدَّهُ عَلَى عُرْوَةَ ، قَالَ هِشَامٌ : فَأَقَمْنَاهُ بَيْنَنَا ثَلَاثَةَ آلَافٍ , وَأَخَذَهُ بَعْضُنَا وَلَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ أَخَذْتُهُ .´مجھے ابراہیم بن موسیٰ نے خبر دی ، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا ، ان سے معمر نے ، ان سے ہشام نے ، ان سے عروہ نے بیان کیا کہ` زبیر رضی اللہ عنہ کے جسم پر تلوار کے تین ( گہرے ) زخموں کے نشانات تھے ۔ ایک ان کے مونڈھے پر تھا ( اور اتنا گہرا تھا ) کہ میں بچپن میں اپنی انگلیاں ان میں داخل کر دیا کرتا تھا ۔ عروہ نے بیان کیا کہ ان میں سے دو زخم بدر کی لڑائی میں آئے تھے اور ایک جنگ یرموک میں ۔ عروہ نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو ( حجاج ظالم کے ہاتھوں سے ) شہید کر دیا گیا تو مجھ سے عبدالملک بن مروان نے کہا : اے عروہ ! کیا زبیر رضی اللہ عنہ کی تلوار تم پہچانتے ہو ؟ میں نے کہا کہ ہاں ، پہچانتا ہوں ۔ اس نے پوچھا اس کی نشانی بتاؤ ؟ میں نے کہا کہ بدر کی لڑائی کے موقع پر اس کی دھار کا ایک حصہ ٹوٹ گیا تھا ، جو ابھی تک اس میں باقی ہے ۔ عبدالملک نے کہا کہ تم نے سچ کہا ( پھر اس نے نابغہ شاعر کا یہ مصرع پڑھا ) فوجوں کے ساتھ لڑتے لڑتے ان کی تلوارں کی دھاریں کی جگہ سے ٹوٹ گی ہیں “ پھر عبدالملک نے وہ تلوار عروہ کو واپس کر دی ‘ ہشام نے بیان کیا کہ ہمارا اندازہ تھا کہ اس تلوار کی قیمت تین ہزار درہم تھی ۔ وہ تلوار ہمارے ایک عزیز ( عثمان بن عروہ ) نے قیمت دے کر لے لی تھی میری بڑی آرزو تھی کہ کاش ! وہ تلوار میرے حصے میں آتی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(فتح الباری)