حدیث نمبر: 3970
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ السَّلُولِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , سَأَلَ رَجُلٌ الْبَرَاءَ وَأَنَا أَسْمَعُ , قَالَ : " أَشَهِدَ عَلِيٌّ بَدْرًا ؟ قَالَ : بَارَزَ وَظَاهَرَ " .
مولانا داود راز

´مجھ سے ابوعبداللہ احمد بن سعید نے بیان کیا ، ہم سے اسحاق بن منصور سلولی نے بیان کیا ، ہم سے ابراہیم بن یوسف نے بیان کیا ، ان سے ان کے باپ یوسف بن اسحاق نے اور ان سے ان کے دادا ابواسحاق سبیعی نے کہ` ایک شخص نے براء رضی اللہ عنہ سے پوچھا اور میں سن رہا تھا کہ کیا علی رضی اللہ عنہ بدر کی جنگ میں شریک تھے ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں انہوں نے تو مبارزت کی تھی اور غالب رہے تھے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 3970
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
3970. ابو اسحاق سبیعی سے روایت ہےکہ حضرت براء ؓ سے کسی شخص نے پوچھا جبکہ میں سن رہا تھا: کیا حضرت علی ؓ بدر کی جنگ میں شریک ہوئے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں، انہوں نے تو مبارزت کی تھی اور غالب رہے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3970]
حدیث حاشیہ: اس شخص کو حضرت علی ؓ کی کم سنی کی وجہ سے یہ گمان ہوا ہوگا کہ شاید وہ جنگ بدر میں نہ شریک ہوئے ہوں۔
براء نے ان کا غلط گمان رفع کردیا کہ لڑائی میں نکلنا کیا مقاتلہ کے لیے میدان میں نکلے اور ولید بن عتبہ کو قتل کیا۔
مبارزت یعنی میدان جنگ میں نکل کر کے دشمن کو للکارنا۔
جن لوگوں نے حضرت علی ؓ پر خروج کیا تھا وہ ان کے قسم قسم کے عیب تلاش کرتے رہتے تھے جن کی کوئی حقیقت نہ تھی۔
براء نے جو جواب دیا ہے گویا مخالفین کے منہ پر طمانچہ ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3970 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
3970. ابو اسحاق سبیعی سے روایت ہےکہ حضرت براء ؓ سے کسی شخص نے پوچھا جبکہ میں سن رہا تھا: کیا حضرت علی ؓ بدر کی جنگ میں شریک ہوئے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں، انہوں نے تو مبارزت کی تھی اور غالب رہے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3970]
حدیث حاشیہ:

جن لوگوں نے حضرت علی ؓ کے خلاف بغاوت کی تھی وہ آئے دن حضرت علی ؓ کے متعلق طرح طرح کے عیب تلاش کرتے رہتے تھے جن کی کوئی حقیقت نہ تھی۔
ان میں سے کسی کو حضرت علی کی کم سنی کی وجہ سے گمان ہوا ہوگا کہ شاید وہ میدان بدر میں شریک نہ ہوئے ہوں اور اس کے متعلق حضرت براء بن عازب ؓ سے جب سوال کیا تو انھوں نے فرمایا: حضرت علی ؓ نے نہ صرف شرکت کی تھی بلکہ انھوں نے ولید بن عتبہ کو میدان میں نکل کر للکارا تھا اور پہلے ہی وار سے اس کا کام تمام کردیا تھا۔

واضح رہے کہ (ظَاهَر)
کے معنی اوپر تلے دوزرہیں پہننا بھی ہیں۔
واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3970 سے ماخوذ ہے۔